تعارف
یہ سبق رسمی عہدوں کی سطحوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اثر و رسوخ کی سطحوں کے بارے میں ہے۔
Search through all lessons and sections in this course
Searching...
No results found
No matches for ""
Try different keywords or check your spelling
1 min read
by Stephen Gibson
یہ سبق رسمی عہدوں کی سطحوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اثر و رسوخ کی سطحوں کے بارے میں ہے۔
کچھ رہنما ترقی نہیں کر پاتے۔ زیادہ تر یہ محدودیت ان کی اپنی سوچ اور انتخاب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہی رکاوٹیں اُنہیں بلند عہدوں پر ترقی کرنے سے روک دیتی ہیں یا اُنہیں اُن کے موجودہ عہدوں پر مؤثر طریقے سے کام کرنے سے باز رکھتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی تنظیم اُس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے رہنما بہتر نہ ہوں۔ ایک تنظیم کی حد وہاں تک ہوتی ہے جہاں تک اُس کے رہنما کی حد ہے۔ جب تک رہنما خود کو ترقی دینے کے طریقے تلاش نہیں کرتے، تنظیم ترقی نہیں کر سکتی۔
نیچے فرضی رہنماؤں کی چند مثالیں دی گئی ہیں جن کی قیادت میں محدودیت پائی جاتی ہے:
طلحہ کو ذاتی مسائل (جیسے مالی یا خاندانی تعلقات) درپیش ہیں جنہیں وہ حل نہیں کر سکتا۔ ان مسائل کی وجہ سے وہ تنظیم پر توجہ نہیں دے پاتا۔ اُس کا کام اکثر گھریلو بحرانوں کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔
ذیشان قیادت کرنے کے بجائے ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالتا ہے، ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرتا ہے جو اُسے کرنے چاہییں، اور یہ سمجھتا ہے کہ تنظیم کی کامیابی اُس کی ذمہ داری نہیں۔ وہ تنظیم کی ناکامی کی وضاحت اُن عوامل سے کرتا ہے جو اُس کے اختیار سے باہر ہیں۔
زہرا خود کو بہتر بنانے کی خواہش نہیں رکھتی۔ وہ اپنی خامیوں سے انکار کرتی ہے اور اگر کوئی اُس کی صلاحیت پر سوال کرے تو ناراض ہو جاتی ہے۔
رضا اپنی تنظیم سے مطمئن ہے، بہتری کی کوئی ضرورت نہیں دیکھتا، اور تبدیلی پر غور کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ جیسے جیسے دنیا بدلتی ہے، اُس کی تنظیم غیر مؤثر ہوتی جائے گی۔
شان سمجھتا ہے کہ وہی واحد رہنما ہے جس کی تنظیم کو ضرورت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب اُس کی ہدایات پر چلیں۔ وہ ٹیم نہیں بنانا چاہتا، صرف مددگار چاہتا ہے۔ اُسے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اُس کی مدد زیادہ کیوں نہیں کرتے۔
[1]سرفراز نے تنظیم اس لیے شروع کی تاکہ اُسے ذاتی فائدہ ہو اور اُس کی بڑائی ظاہر ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ تنظیم اُس کے بغیر بھی عظیم ہو۔
فیصل کا کردار کمزور ہے۔ جب دباؤ میں ہوتا ہے تو ایسے وعدے کرتا ہے جو پورے نہیں کر سکتا، مخصوص فنڈز کو دوسرے کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے، ملاقاتوں میں نہیں پہنچتا، اور جھوٹ بولتا ہے۔ اُس کی ٹیم اُس کی شہرت کی وجہ سے بعض اوقات شرمندہ ہوتی ہے۔
ان میں سے ہر رہنما جلد ہی اپنی قابلیت کی حد کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ اُس وقت تک بہتر رہنما نہیں بن سکتے جب تک اپنی ذاتی رکاوٹوں کا سامنا نہ کریں اور اُنہیں دُور نہ کریں۔ اگر وہ تبدیلی پر آمادہ نہ ہوں تو اُن کی تنظیمیں اُس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتیں جب تک اُنہیں قیادت سے ہٹایا نہ جائے۔
◄اوپر دی گئی ہر فرضی شخصیت کے بارے میں یہ سوال کریں: "اس کی تنظیم کو بہتر بنانے کے لیے ـــــــــــــــــــ کوکس طرح تبدیل ہونا ہوگا؟"
"مجھے اُن شیروں کی فوج سے ڈر نہیں لگتا جس کی قیادت ایک بھیڑ کر رہی ہو؛ مجھے اُن بھیڑوں کی فوج سے ڈر لگتا ہے جس کی قیادت ایک شیر کر رہا ہو۔"
سکندر اعظم
ساؤل نے اسرائیل کے بادشاہ کے طور پر اچھی شروعات کی۔ وہ فروتن تھا اور خود کو اس عہدے کے لیے نااہل سمجھتا تھا۔ شروع میں کچھ لوگوں نے اُسے بادشاہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
ساؤل کی پہلی جنگی فتح کے بعد، اس کے کچھ حمایتی اُن لوگوں کو مار ڈالنا چاہتے تھے جنہوں نے پہلے اُسے بادشاہ نہیں مانا تھا (1 سموئیل 11: 12)۔ ساؤل نے جواب دیا کہ فتح خُدا نے دی ہے، اور یہ انتقام کا وقت نہیں (1 سموئیل 11: 13)۔ افسوس کی بات ہے کہ ساؤل نے یہ رویہ زیادہ دیر تک نہ رکھا۔
ساؤل جلد ہی خُدا کی نافرمانی کرنے لگا۔ جب نبی نے اُسے ملامت کی، تو ساؤل نے ذمہ داری لینے کی بجائے لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا (1 سموئیل 15: 21)۔ نبی نے کہا کہ خُدا بادشاہت کسی بہتر شخص کو دے گا (1 سموئیل 15: 28)۔ خُدا جانتا تھا کہ داؤد فرمانبردار ہوگا۔
ساؤل کی بادشاہی کے دوران، وہ ہر وقت اقتدار کو بچانے کی فکر میں رہا۔ اُس نے نہ تو توبہ کی، نہ خُدا کا فضل دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے کبھی یہ سچائی قبول نہ کی کہ خُدا اُسے ہٹانے والا ہے۔ اگر وہ توبہ کرتا، تو اُس کی روح بچ سکتی تھی۔ وہ بادشاہ کے طور پر خدمت جاری رکھ سکتا تھا جب تک کہ خُدا اُس کی جگہ کسی کو نہ لاتا، اور وہ عزت کے ساتھ رخصت ہو سکتا تھا۔ کچھ بوڑھے اور طویل عرصے تک رہنمائی کرنے والے آخر میں بےعزتی کے ساتھ انجام کو پہنچتے ہیں، کیونکہ اپنے آخری سالوں میں وہ ایسے رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں جس میں وہ اپنی قیادت کی پوزیشن کے لیے لڑتے رہتے ہیں، حالانکہ اب وہ اچھی قیادت دینے کے قابل نہیں رہتے۔
ایک جنگ کے دن ساؤل نے کہا، " جب تک شام نہ ہو اور مَیں اپنے دُشمنوں سے بدلہ نہ لے لُوں اُس وقت تک اگر کوئی کُچھ کھائے تو وہ ملعُون ہو۔" (1 سموئیل 14: 24)۔ یہ حکم غیر دانشمندانہ تھا، کیونکہ گھنٹوں کی لڑائی کے بعد سب تھک چکے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود پر مرکوز تھا اور جنگ کو ذاتی معاملہ سمجھتا تھا۔
ساؤل اتنا غیر محفوظ تھا کہ وہ اپنی غلطی ماننے کو تیار نہ تھا۔ اگرچہ یُوناتن کے عمل سے بڑی فتح حاصل ہوئی، ساؤل نے اُسے تقریباً قتل کر دیا کیونکہ اُس نے انجانے میں اُس کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔
ایک اور جنگ میں، ساؤل سمُوئیل کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ قربانی دے اور خُدا کی مدد مانگے۔ دن گزرتے گئے اور بہت سے سپاہی خوف کی وجہ سے چھوڑ کر جا رہے تھے۔ خُدا نے صرف کاہنوں کو قربانی کی اجازت دی تھی، مگر ساؤل نے خود قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ قربانی دے رہا تھا، سمُوئیل پہنچا۔ اُس نے ساؤل کو ملامت کی، لیکن ساؤل نے اُس سے کہا کہ رسم مکمل کرے تاکہ لوگ نہ جانیں کہ کچھ غلط ہوا ہے (1 سموئیل 15: 30)۔ ساؤل خُدا کی رضا سے زیادہ لوگوں کی رائے کی پروا کرتا تھا۔
ساؤل دوسروں کی کامیابیوں سے حسد کرتا تھا، خاص طور پر داؤد سے۔ اُس نے اپنا بہت سا وقت اور وسائل داؤد کا پیچھا کرنے میں لگا دیے، حالانکہ داؤد نے اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
ساؤل شک و شبہ کا شکار تھا اور اپنے لوگوں کی بے وفائی کی شکایت کرتا رہتا تھا۔ شک کی وجہ سے وہ دوسروں کے بارے میں جھوٹی باتوں پر یقین کر لیتا تھا (1 سموئیل 24: 9)۔ وہ غلط مشیروں کی سنتا تھا۔ وہ شکایت کرتا تھا کہ سب اُس کے خلاف ہیں اور کوئی اُسے درست معلومات نہیں دیتا (1 سموئیل 22: 8)۔
ساؤل کا بیٹا یُوناتن اُس سے بہت مختلف تھا۔ اُسے معلوم تھا کہ داؤد اگلا بادشاہ بنے گا، اور اُس نے اس حقیقت کو قبول کر لیا۔ ساؤل یہ سمجھ نہ پایا کہ یُوناتن داؤد سے نفرت کیوں نہیں کرتا۔ یُوناتن اور داؤد گہرے دوست تھے (1 سموئیل 18: 1-4)۔ یُوناتن کا ایمان اُسے اعتماد دیتا تھا کہ وہ عظیم فتوحات حاصل کرے، حالانکہ ساؤل اپنا ایمان کھو چکا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ یُوناتن کو اپنے باپ کی غلطیوں کی وجہ سے جنگ میں مارا گیا۔
ساؤل اپنی ساری زندگی جنگ میں رہا۔ جب بھی وہ کسی مضبوط آدمی کو دیکھتا، اُسے زبردستی اپنی فوج میں شامل کرتا (1 سموئیل 14: 52)۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ دوسروں کی ضروریات کی پروا کیے بغیر اپنی مرضی سب پر مسلط کرتا رہا۔ اُسے کبھی نہیں لگا کہ اُس کے پاس کافی مددگار ہیں۔ اس وجہ سے لوگ ساؤل سے دور رہنے لگے۔
ہم ساؤل اور داؤد میں ایک بڑا فرق دیکھتے ہیں۔ داؤد نے بہادروں کو اپنی طرف کھینچا، لیکن لوگ ساؤل سے دور بھاگتے تھے۔ داؤد کے آدمی اُس سے اتنی محبت کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اُسے اُس جگہ کا پانی لا کر دیا جو اُسے پسند تھی (2 سموئیل 23: 15-17)۔ ساؤل ہمیشہ شکایت کرتا رہا کہ اُس کے لوگ کافی وفادار نہیں، لیکن اُسے داؤد پر اعتبار نہ تھا—جو کہ دراصل انتہائی وفادار تھا۔
[1] جان میکسویل نے قیادت (رہنمائی) کے اثر و رسوخ کے درجے بیان کیے ہیں۔[2] یہ درجے عہدے (پوزیشن) سے متعلق نہیں ہوتے۔ کسی بھی عہدے پر موجود شخص ان میں سے کسی بھی درجہ پر ہو سکتا ہے۔ ایک بہترین رہنما وقت کے ساتھ ساتھ ان درجات میں ترقی کرتا ہے، چاہے وہ اپنی پوزیشن پر ہی کیوں نہ رہے۔
(1) پوزیشن
رہنمائی کا آغاز ایک عہدے سے ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد انہیں کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ لوگوں کا اعتماد جیتنا ضروری ہے۔ ایسے رہنما اکثر اختیار پر انحصار کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کا ساتھ دیں۔ وہ لوگوں کو قائل کرنے کی بجائے انعام یا سزا کے ذریعے کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انداز عام ہے، مگر بہت شاذ و نادر ہی بہترین نتائج دیتا ہے۔
نئے عہدے پر آئے رہنما کو چاہیے کہ وہ تنظیم کی تاریخ اور ثقافت کو سمجھے۔ وہ بغیر سمجھے فوری تبدیلیاں نہ کرے بلکہ پہلے یہ دکھائے کہ وہ پہلے کیے گئے کام کی قدر کرتا ہے۔ وہ تنظیم کی اقدار کو اپنائے اور دکھائے کہ وہ ان کا حامی ہے۔
اسے چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کو بہتر کارکردگی کے لیے ضروری وسائل فراہم کرے، اپنی پوزیشن کی توقعات سے بڑھ کر کام کرے، اور کچھ ایسی مثبت تبدیلیاں لائے جو لوگ بھی تسلیم کریں۔
(2) اجازت
اس درجے پر لوگ خوشی سے رہنما کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ اثر و رسوخ رہنما نے تعلقات بنا کر حاصل کیا ہوتا ہے۔ وہ صرف کام میں دلچسپی نہیں لیتا بلکہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں بھی دلچسپی لیتا ہے۔ وہ انہیں تنظیم کی زیادتیوں سے بچاتا ہے اور ان کی ذاتی کامیابی میں مدد کے طریقے تلاش کرتا ہے۔
(3) پیداواری
تیسرے درجے پر لوگ رہنما کی پیروی صرف تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ نتائج کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اس کے اقدامات کی وجہ سے اہداف حاصل ہو رہے ہوتے ہیں، اس لیے لوگ خوشی سے تعاون کرتے ہیں۔ رہنما کی بدولت تنظیم بھی ترقی کر رہی ہوتی ہے اور لوگ ذاتی طور پر بھی کامیاب ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس درجے پر رہنما اہداف واضح کرتا ہے، سمت متعین کرتا ہے، اور اپنی اور دوسروں کی جوابدہی برقرار رکھتا ہے۔
(4) افراد کی ترقی
چوتھے درجے پر کچھ لوگ خود بھی رہنما بننے لگتے ہیں، رہنما سے ذاتی تعلق کی بنیاد پر۔ وہ اس کی رہنمائی کے نتائج پر یقین رکھتے ہیں، اس سے ذاتی تعلق رکھتے ہیں، اور ذاتی اطمینان حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اس درجے پر رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنے سب سے مؤثر 20 فیصد لوگوں میں سرمایہ کاری کرے — اُن کی تربیت کرے اور ایک ایسی ٹیم تیار کرے جو اس کی قیادت میں مددگار بنے۔
(5) عزت اور شہرت [3]
پانچویں درجے پر رہنما کا اثر اس کی قیادت کی شہرت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ لوگ اُس کی شخصیت سے پہلے ہی متاثر ہو جاتے ہیں اور بغیر کسی ذاتی تعلق کے بھی اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔
نتیجہ
ایک رہنما سب لوگوں کے لیے ایک ہی درجے پر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، کچھ لوگ صرف اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ رہنما ایک عہدے پر ہے (پہلا درجہ)، جب کہ دوسرے اس لیے ساتھ دیتے ہیں کہ اس کی قیادت کے نتائج اچھے ہیں (تیسرا درجہ)۔
ایک اچھے رہنما کو چاہیے کہ وہ خود اپنا جائزہ لے اور سمجھے کہ اگلے درجے پر جانے کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا۔ وہ اس درجے پر مطمئن نہ ہو جائے جہاں اسے پہلی کامیابی ملی تھی۔ مثلاً کچھ رہنما دوسرے درجے پر رک جاتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے لوگوں میں مقبول ہوتے ہیں۔ مگر اصل قیادت ہمیشہ آگے بڑھنے اور اعلیٰ درجے کے اثر و رسوخ کے لیے کوشاں رہتی ہے۔
"ذمہ داریاں اُسے دی جاتی ہیں جس پر اعتماد ہوتا ہے۔ ذمہ داری ہمیشہ اعتماد کی علامت ہوتی ہے۔"
James Cash Penney
کبھی کبھار ایک ترقی پذیر رہنما ایک تنظیم سے دوسری تنظیم میں منتقل ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک پختہ رہنما، جو طویل عرصے تک کسی جگہ خدمت کر چکا ہو، بھی نقل مکانی کر سکتا ہے۔
ایک رہنما کیسے جان سکتا ہے کہ روانگی کا وقت درست ہے؟
بعض اوقات ایک خادم جانتا ہے کہ خدا اُسے خدمت کی کسی اور جگہ بلا رہا ہے۔ خدا اپنی مرضی کو واضح طور پر ظاہر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ کسی شخص کو صرف اندرونی احساس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ اُسے خدا کی رہنمائی کی تصدیق کے لیے نشانیاں ہونی چاہئیں۔ عام طور پر اگر خدا کسی تبدیلی کی ہدایت کر رہا ہو تو وہ حالات میں خاص تبدیلیاں لاتا ہے یا کسی طریقے سے اپنی رہنمائی کی تصدیق کرتا ہے۔
فیصلہ کرنے سے پہلے دیگر پہلوؤں پر بھی غور کرنا ضروری ہے:
صرف اس لیے نہ جائیں کہ آپ اتھارٹی کے تابع ہونا نہیں چاہتے۔
محض زیادہ تنخواہ کے لیے نئی جگہ نہ جائیں۔
ایسی تنظیم میں نہ جائیں جو آپ کے عقائد یا اخلاقیات پر سمجھوتہ کروائے۔
ترقی کے موقع کے لیے خاندانی ترجیحات کو قربان نہ کریں۔ اپنی فیملی کے لیے اچھی کلیسیا اور اسکول مہیا کرنا ممکن ہو تو یقینی بنائیں۔ منتقلی خاندان کے لیے فائدہ مند ہونی چاہیے۔
نئی پوزیشن میں قیادت کی ترقی کے لیے وسیع مواقع ہونے چاہئیں۔ نئی جگہ پر وہ صلاحیتیں نشوونما پائیں جو مستقبل میں اہم ثابت ہوں گی۔
جس جگہ سے آپ جا رہے ہیں وہاں کے لوگوں سے اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ اگرچہ آپ سمجھتے ہوں کہ اُنہوں نے آپ سے غلط کیا ہے، تو بھی اُن سے سخت باتیں نہ کہیں۔ غالب امکان ہے کہ مستقبل میں آپ کا اُن سے دوبارہ واسطہ پڑے، اور وہ آپ کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔ دشمن نہ بنائیں۔
ایک بُری مثال:
دیماس پولوس رسول کے ساتھ خدمت میں سفر کرتا رہاوہ ایک ایسے مشنری گروہ کا حصہ تھا جو خوشخبری کو اجنبی اور دور دراز علاقوں میں لے کر گیا، جہاں اُس نے معجزات اور ہزاروں لوگوں کو مسیح پر ایمان لاتے دیکھا۔ ہر بڑے شہر میں نئی کلیسیائیں قائم کی گئیں۔
افسوس کی بات ہے کہ دیماس نے اس عظیم موقع کو نہ پہچانا۔ پولوس نے کہا،"دیماس نے اِس مَوجُودہ جہان کو پسند کر کے مُجھے چھوڑ دِیا" (2 تتیمتھیس 4: 10)۔
ہم نےسبق 5 میں Jim Collins کے قیادت کے درجات کا ذکر کیا تھا، خاص طور پر رہنما کی خاصیت پر پانچواں درجہ ۔ اس سبق میں ہم ان درجات کے باہمی فرق کا جائزہ لیں گے۔
یہ ہیں Collins کے بیان کردہ قیادت کے پانچ درجات :[1]
1. بہت قابل فرد۔ یہ شخص اپنی مہارت، علم، صلاحیت اور اچھے کام کی عادتوں کی بدولت عمدہ کارکردگی دکھاتا ہے۔ یہ شخص شاید قائد نہ ہو، لیکن اپنے عمدہ کام کے سبب اثر رکھتا ہے۔
2. موثر ٹیم ممبر ۔ یہ فرد گروہ کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے اور ٹیم کے ساتھ اچھا کام کرتا ہے۔ ممکن ہے یہ گروہ کا رہنما نہ ہو، لیکن اپنی شرکت سے اثر انداز ہوتا ہے۔
3. قابل منتظم۔ یہ شخص لوگوں اور وسائل کو منظم کرکے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ یہ خود مقاصد طے نہیں کرتا بلکہ اُن مقاصد کو قبول کرتا ہے جو کسی اور نے طے کیے ہوں۔ یہ دستیاب وسائل کو نظم دیتا ہے اور تنظیمی سطح پر کام کرتا ہے۔
4. مؤثر رہنما ۔ یہ رہنما تنظیم کے لوگوں کی ترقی کرتا ہے، اُنہیں وژن میں شریک کرتا ہے، اہداف طے کرنے میں مدد دیتا ہے، اور اُنہیں متحرک کرتا ہے تاکہ وہ پوری لگن سے مقصد حاصل کریں۔ یہ صرف انتظام نہیں کرتا بلکہ وہ تنظیم کی کامیابی کی ذمہ داری خود اٹھاتا ہے مددگار افراد کو بھرتی کر کے، وسائل تلاش کر کے، اور مقصد کو بہتر بنا کر ۔
5. درجہ 5ایگزیکٹیو: یہ شخص درجہ 4 کی تمام خوبیاں رکھتا ہے، مگر ایک اہم وصف اس میں مزید پایا جاتا ہے: عاجزی اور عزم۔ یہ شخص تنظیم کی طویل مدتی عظمت کے لیے خود کو وقف کرتا ہے۔
داؤد نے کئی کرداروں میں کمال حاصل کیا۔ وہ ایک چرواہا، نغمہ نگار، گلوکار، بربط بجانے والا، پرستش کا رہنما، نبی، جنگجو، سپہ سالار اور بادشاہ تھا۔ داؤد اپنے بڑے خاندان میں سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ سب سے چھوٹا بیٹا ایک عظیم رہنما بنے۔ اس کے خاندان کو اُس سے قیادت کی توقع نہ تھی، لیکن خدا نے اُسے چُنا۔
داؤد کی پہلی خدمت چرواہے کے طور پر تھی۔ بظاہر یہ ایک غیر اہم کام لگتا تھا، لیکن اسی نے اُسے بڑی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا۔ اُس کے اندر ذمہ داری کا ایسا احساس تھا کہ وہ خطرے سے نہیں بھاگا۔ اُس نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، اور خدا کی مدد سے شیر اور ریچھ کو مار ڈالا (1 سموئیل 17: 34-37)۔
ہر ممکنہ رہنما کی طرح داؤد کی تربیت بھی اس وقت شروع ہو چکی تھی جب وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ تربیت پا رہا ہے۔ ان فتوحات نے اُسے ایسا شخص بنا دیا جو خدا پر بھروسہ رکھتا تھا۔ وہ ایسا رہنما بن گیا جو خوف کو اپنے کام میں رکاوٹ نہ بننے دیتا۔
ذرا تصور کریں کہ اگر داؤد نے بھیڑوں کی حفاظت کو معمولی سمجھا ہوتا تو اُس کی زندگی کتنی مختلف ہوتی۔ وہ شیر یا ریچھ کے حملے پر بھاگ جاتا۔ پھر جب اُس نے جالوت کا چیلنج سنا، تو وہ کبھی بھی اُس کا سامنا کرنے کا نہ سوچتا۔
خدا نے سموئیل کو یسّی کے بیٹوں میں سے ایک کو مسح کرنے بھیجا۔ مسح اس بات کی علامت تھا کہ خدا نے اُسے بادشاہ بننے کے لیے چُنا ہے اور اُسے خاص مدد عطا کرے گا تاکہ وہ اپنی بُلاہٹ کو پورا کرے۔ سموئیل کو اُمید تھی کہ خدا اِلیاب کو چُنے گا، مگر خدا نے کہا: " اِنسان ظاہِری صُورت کو دیکھتا ہے پر خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے۔ " (1 سموئیل16: 7)۔ بہت مرتبہ خدا نے لوگوں کو اُن کے چُنیدہ رہنما پر حیران کر دیا ہے۔
داؤد کی ابتدائی زندگی میں جو بڑے چیلنج آئے، وہ دراصل مواقع تھے۔ مگر صرف داؤد جیسے رویے والا شخص ہی اُن مواقع کو پہچان سکتا تھا۔ ہزاروں مردوں نے جولیت کا چیلنج سنا، لیکن صرف داؤد نے اُسے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ اُسے انعام کی پیشکش سے تحریک ملی، لیکن اس سے بڑھ کر وہ خدا کے جلال کے لیے لڑا (1 سموئیل 17: 46-47)۔
قیادت اثر و رسوخ ہے۔جس دن داؤد نے جالوت کو مارا، وہی دن تھا جب وہ دراصل فوج کا اصل رہنما بن گیا، کیونکہ فوج اُسی کی فتح کے بعد حرکت میں آئی (1 سموئیل 17: 52)۔ اُس کی فتح نے اُنہیں یقین دلایا کہ وہ بھی فتح پا سکتے ہیں۔
داؤد، ساؤل کے لیے سپاہی بن گیا۔ وہ دانائی سے پیش آیا، اور اُس کا اثر بڑھتا گیا (1 سموئیل 18: 16)۔ اگرچہ ساؤل ایک ناکام رہنما تھا جس نے داؤد کے ساتھ ناحق سلوک کیا، داؤد وفادار رہا۔ یہ وقت داؤد کی کردار سازی کا سبب بنا۔
اکثر اوقات ایک قابل اور ابھرتا ہوا رہنما، کسی ناکام بزرگ رہنما کی طرف سے برے سلوک کا شکار ہوتا ہے۔ ایسا نوجوان رہنما جلد بازی کا شکار ہو سکتا ہے اور بزرگ کی عزت کو چھیننے کی کوشش کر سکتا ہے۔
داؤد کو بادشاہ ہونے کے لیے مسح کیا گیا تھا، مگر لمبے عرصے تک ایسا لگتا رہا کہ وہ بادشاہ نہیں بنے گا۔ اُسے طاقت زبردستی سے لینے کی آزمائش ہوئی، مگر اُس نے خدا پر بھروسہ کیا اور انتظار کیا۔
جب ساؤل نے داؤد کو مارنے کی کوشش کی، تو داؤد پہاڑوں میں چھپ گیا۔ بہت سے آدمی اُس کے ساتھ آ ملے، کیونکہ ساؤل کے دَور میں حالات بہت خراب ہو چکے تھے (1 سموئیل 22: 2)۔ اگرچہ ساؤل اُنہیں باغی سمجھتا تھا، وہ ڈاکو نہ بنے۔ وہ اسرائیل کے دشمنوں سے لڑتے رہے، حالانکہ ساؤل اُنہیں اپنا دشمن سمجھتا اور اُن کا پیچھا کرتا رہا۔
داؤد کسانوں اور چرواہوں کو لٹیروں سے بچاتا رہا (1 سموئیل 25: 14-16)۔ ایک موقع پر اُس نے اُن لوگوں سے کھانے کی درخواست کی جن کے مویشی اُس نے بچائے تھے۔ نبال، مالک، نے اُس کی بے عزتی کی۔ اُس نے داؤد اور اُس کے لوگوں پر الزام لگایا کہ یہ اپنے آقا سے بھاگے ہوئے نوکر ہیں، اور اُسے کچھ بھی دینے سے انکار کیا۔ داؤد ناراض ہو گیا اور اُسے مارنے نکل پڑا۔
راستے میں اُسے نبال کی بیوی ابیجیل ملی، جو صلح کروانے آئی تھی۔ اُس نے داؤد کو یاد دلایا کہ ذاتی انتقام لینا گناہ ہو گا (1 سموئیل 25:26)۔ اُس نے داؤد سے درخواست کی کہ وہ خدا کی نظر میں راستباز بننا اور خدا کی برکت پانا چاہے (1 سموئیل 25:30-31)۔ داؤد نے اُس کی نصیحت کو مانا۔
اپنی فروتنی اور خدا پر بھروسے کی وجہ سے، داؤد ایک عظیم رہنما بن گیا۔
◄آپ اس سبق کے نتیجے میں اپنے مقاصد یا اعمال میں کس طرح تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں؟
1. اس سبق سے کوئی ایک زندگی بدل دینے والا نکتہ چنیں اور ایک پیراگراف میں اُس کا خلاصہ لکھیں۔ وضاحت کریں کہ یہ کیوں اہم ہے۔ اس سے کیا بھلائی حاصل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسے نہ جانا جائے تو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
2. اس سبق میں دیے گئے اصولوں کو آپ اپنی ذاتی زندگی میں کس طرح لاگو کریں گے؟ یہ سبق آپ کے اہداف کو کس طرح بدلتا ہے؟ آپ اپنے طرزِ عمل میں کیا تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
3. میکسویل اور Collins کی قیادت کے پانچ درجات کی وضاحت کو زبانی یاد کریں۔ اگلی کلاس کے آغاز پر انہیں زبانی یا تحریری طور پر پیش کرنے کے لیے تیار رہیں۔
4. اگلی کلاس سے پہلے1۔ سلاطین12 پڑحیں ۔ یہاں دو رہنماؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کی غلطیوں کے بارے میں لکھیں۔
17 lessons · اردو
Your print request has been recorded. Your download should begin shortly.
Download Print-Ready FileFree to print for ministry use. No changes to content, no profit sales.
SGC exists to equip rising Christian leaders around the world by providing free, high-quality theological resources. We gladly grant permission for you to print and distribute our courses under these simple guidelines:
All materials remain the copyrighted property of Shepherds Global Classroom.
Questions? info@shepherdsglobal.org
Total
$21.99Added to Cart!
By submitting your contact info, you agree to receive occasional email updates about this ministry.
Download audio files for offline listening
No audio files are available for this course yet.
Check back soon or visit our audio courses page.
Share this free course with others