Type at least 2 characters to search
No results found for ""
Courses
Lessons
Sections
navigate open
See all results →
کلیسیائی قیادت

کلیسیائی قیادت

Search Course

Type at least 3 characters to search

Search through all lessons and sections in this course

Searching...

No results found

No matches for ""

Try different keywords or check your spelling

results found

Lesson 5: خادمانہ قیادت

1 min read

by Stephen Gibson


عظیم قیادت کا نمونہ

یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کے ساتھ جو آخری کھانا کھایا، وہ فسح کی عید کا کھانا تھا۔ یہ رواج تھا کہ کسی رسمی کھانے میں ایک خادم مہمانوں کے پاؤں دھوتا تھا۔ یہ کام عام طور پر سب سے کمتر خادم کو دیا جاتا تھا۔

اس کھانے میں صرف یسوع اور اُس کے شاگرد موجود تھے۔ شروع میں کسی نے بھی پاؤں دھونے کا کام نہیں کیا۔ کسی شاگرد نے یہ خدمت انجام دینے کی پیشکش نہیں کی کیونکہ وہ خادم کا درجہ اختیار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک اب بھی نئی بادشاہی میں اونچے عہدے کی امید رکھتا تھا۔

ہم تصور کر سکتے ہیں کہ پطرس نے چپکے سے یوحنا سے کہا، ’’کسی کو پاؤں دھونا چاہیے، تم یہ کر لو۔‘‘ شاید یوحنا نے جواب دیا، ’’نہیں، میں یہ نہیں کروں گا، یعقوب کو کرنا چاہیے۔‘‘ ان میں سے کوئی بھی خادم کا کردار اختیار کرنے کو تیار نہ تھا۔ کھانے کے آخر میں، یسوع اُٹھے، پانی اور تولیہ لیا، اور یہ خدمت انجام دینا شروع کی۔ یقینا اُس وقت شاگرد شرمندہ ہو گئے ہوں گے۔

پطرس نے ابتدا میں یسوع کو اپنے پاؤں دھونے سے روک دیا، گویا وہ یسوع کا اتنا احترام کرتا تھا کہ اُسے اتنا کم تر کام کرتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ یسوع نے پطرس سے کہا، ’’ اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔ ‘‘ (یوحنا 13: 8)۔ وہ اس چھوٹے کام کو اپنی زندگی اور موت کے عظیم مقصد کی نمائندگی کے طور پر استعمال کر رہے تھے — یعنی تمام انسانیت کی خدمت کرنا اور نجات مہیا کرنا۔ یسوع نے ایک اور موقع پر کہا، ’’ اِبنِ آدمؔ اِس لِئے نہیں آیا کہ خِدمت لے بلکہ اِس لِئے کہ خِدمت کرے اور اپنی جان بُہتیروں کے بدلے فِدیہ میں دے۔ ‘ (متی 20: 28/)۔ اُس کی موت کے ذریعے کی جانے والی خدمت اُس کی بہت سی دوسری خدمتوں سے ظاہر ہوتی ہے، جن میں اُس موقع پر پاؤں دھونا بھی شامل ہے۔ اگر کوئی یسوع کی خدمت کو قبول نہیں کرتا تو وہ اُس کی بادشاہی کا حصہ نہیں۔

جب یسوع نے شاگردوں کے پاؤں دھو دیے، تو اُن سے پوچھا، ’’ کیا تُم جانتے ہو کہ مَیں نے تُمہارے ساتھ کیا کِیا؟ ‘‘ (یوحنا13: 12)۔ اس نے سمجھایا کہ دنیاوی نظام میں قائد خود خدمت نہیں کرتا بلکہ خدمت کرواتا ہے، لیکن خدا کی بادشاہی میں رہنما وہ ہوتا ہے جو خدمت کرتا ہے (لوقا 22: 25-27)۔

قیادت کا مطلب دوسروں کی خدمت کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنا ہے؛ یہی قیادت کی صحیح نیت ہے۔ جو شخص لوگوں کی ضرورتوں پر نظر رکھتا ہے اور اُن کو پورا کرنے کے طریقے تلاش کرتا ہے، وہی حقیقی رہنما بنتا ہے۔ لوگ ایسے رہنما کو چاہتے ہیں جو اُن کی پروا کرتا ہو اور اُن کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہو۔ لوگ اُسے اختیار دینے کو تیار ہوتے ہیں جو اُن کی بھلائی کے لیے اُس اختیار کو استعمال کرے۔

چند سپاہی لکڑی کا گھر بنا رہے تھے۔ وہ ایک بھاری شہتیر اُٹھانے کی کوشش کر رہے تھے اور اُن کا سارجنٹ اُن پر چیخ رہا تھا۔ ایک شخص وہاں سے گزر رہا تھا اور رُک کر اُنہیں دیکھنے لگا۔ اُس نے سارجنٹ سے کہا، ’’آپ اُن کی مدد کیوں نہیں کرتے؟‘‘ سارجنٹ نے غصے سے کہا، ’’میں سارجنٹ ہوں۔‘‘

وہ شخص سپاہیوں کے ساتھ شامل ہوا اور اُن کی مدد سے شہتیر اُٹھایا، پھر اپنے کوٹ کو کھولا اور اپنی وردی دکھائی۔ ’’میں جنرل ہوں،‘‘[1] اُس نے کہا۔ وہ جنرل جارج واشنگٹن تھے، جو بعد میں ریاستہائے متحدہ کے صدر بنے۔

ایک گاہک صبح سویرے ایک بڑے بینک کی عمارت کے باہر کھڑا بینک کھلنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک شخص آیا اور اپنی گاڑی پارک کی۔ اُس نے پارکنگ لاٹ میں کچھ کچرا دیکھا۔ عمارت کے اندر جاتے وقت اُس نے وہ کچرا اُٹھا لیا تاکہ اسے پھینک سکے۔ جب گاہک اندر گیا، تو اُس نے اُس آدمی کو دیکھا جس نے کچرا اُٹھایا تھا۔ اُس نے کسی سے پوچھا، ’’یہ آدمی کون ہے؟‘‘ جواب ملا، ’’یہ بینک کا صدر ہے۔‘‘ چونکہ صدر بینک کی کامیابی اور شہرت کے لیے پُرعزم تھا، وہ زمین پر پڑا کچرا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا، حالانکہ وہ اعلیٰ ترین عہدے پر تھا۔

دنیاوی نظام میں بھی خدمت کی خواہش ترقی کا سبب بنتی ہے۔ جہاں لوگ اپنے قائد کا انتخاب کرنے کا حق رکھتے ہیں، وہ اُسے چنتے ہیں جو اُن کی مدد کرنے کی صلاحیت اور آمادگی رکھتا ہے۔ ایک رہنما لوگوں کی ضرورتوں کے جواب میں اُبھرتا ہے — لوگ اُس کی بات سننے لگتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ وہ اُن کی پروا کرتا ہے اور اُس کی قیادت میں اُنہیں فائدہ ہوتا ہے۔

رہنماؤں کی خدمت کے فریضے کو بعض عہدوں کے ناموں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے: مثال کے طور پر، برطانیہ کی حکومت میں سب سے اعلیٰ عہدہ "وزیرِاعظم" کہلاتا ہے، جس کا مطلب ہے "پہلا خادم"۔ تاریخ کے عظیم ترین رہنما وہی ہیں جنہوں نے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کیا۔ دنیا کے رہنما ہمیشہ درست نیت سے خدمت نہیں کرتے، لیکن یسوع کے پیروکار کو ایک رضا مند، خاکسار دل کے ساتھ اور دوسروں کی بھلائی کی خواہش سے خدمت کرنی چاہیے۔

ایک کالج کا صدر اپنے دفتر کئی تھیلے لے کر پہنچا۔ جب اُس نے ایک طالب علم سے مدد مانگی، تو طالب علم نے جواب دیا، ’’میں خادم نہیں ہوں۔‘‘ ایک اور طالب علم نے فوراً کہا، ’’میں مدد کر سکتا ہوں؛ میں خادم ہوں۔‘‘ کئی سال بعد، دوسرا طالب علم اسی کالج کا صدر بن گیا۔


[1]ایک جنرل رُتبے اور اختیار میں ایک سارجنٹ سے کہیں زیادہ بلند ہوتا ہے۔