مالی معاملات کی نگرانی
احتساب کا اصول
◄ایک طالب علم گروپ کے لیے متی 25: 14-30 پڑھے۔ یہ حوالہ پیسے کے انتظام کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پیسہ خدمتِ خداوند کے لیے ایک اہم وسیلہ ہے۔ رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ پیسے کا ایسا انتظام کریں جس سے بہترین نتائج نکلیں، کیونکہ ہم ان وسائل کے لیے خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے جو اس نے ہمیں سونپے ہیں۔
نیک سامری کی کہانی یاد رکھیں (لوقا 10: 30-35)؟ اس کہانی کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اُن لوگوں سے محبت کرنا کیا معنی رکھتا ہے جن سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ تاہم، ہم کچھ مخصوص تفصیلات پر غور کرتے ہوئے ایک اور نکتہ بھی اخذ کر سکتے ہیں، حالانکہ یہ نکتہ مصنف کا اصل مقصد نہیں تھا۔
سامری کے پاس گدھا تھا، اور وہ زخمی کی دیکھ بھال کے لیے رقم ادا کر سکتا تھا۔ اگر اس نے پہلے ہی اپنے وسائل ضائع کر دیے ہوتے، تو وہ اُس وقت مدد نہ کر پاتا۔ کئی لوگ دوسروں کے دکھ پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن اپنی زندگی میں وسائل کا انتظام ایسے نہیں کرتے کہ وہ عملی مدد دے سکیں۔ ہمیں ایسی زندگی گزارنی چاہیے جو ہمیں دوسروں کی خدمت کے لیے تیار رکھے۔
پیسہ ایسی چیزوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے جو استعمال ہو کر ختم ہو جاتی ہیں، یا پھر ایسی چیزوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے جن کی قدر اس دنیا اور ابدیت دونوں میں باقی رہتی ہے۔ہمیں اپنی ضروریات پر تو خرچ کرنا ہے، لیکن جہاں ممکن ہو وہاں ہمیشہ مستقبل اور ابدی قدر والی چیزوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
بہت سے لوگ کبھی سرمایہ کاری نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس کافی رقم نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص تھوڑی تھوڑی رقم باقاعدگی سے بچا کر سرمایہ کاری کرے، تو آخرکار بڑے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایک کسان، چاہے جتنا بھی غریب ہو، یہ جانتا ہے کہ اُسے اگلی فصل بونے کے لیے کچھ بچا کر رکھنا ہوگا۔ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے وسائل کو بچانے اور سرمایہ کاری کے طریقے تلاش کریں۔
◄چھوٹی مقدار میں بچت یا سرمایہ کاری کے کچھ طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟
ایمان کا اصول
پَولُس رسول نے فلپے کی کلیسیا کو ایک عظیم وعدہ دیا۔فلپے کے ایمانداروں نے پولس کی خدمت میں قربانی دی، اور اس نے انہیں وعدہ دیا کہ خدا اُن کی تمام ضروریات پوری کرے گا (فلپیوں 4: 19)۔
یسوع نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ وہ فِکر مند زندگی نہ گزاریں بلکہ خُدا پر بھروسا کریں کہ وہ اُن کی ضروریات کو پورا کرے گا (متی 6: 25-34)۔ خُدا کی بادشاہی اُن کی ترجیح ہونی چاہیے، یہاں تک کہ اُن کی بنیادی ضروریات سے بھی پہلے۔
ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی اور اپنے زیرِ کفالت لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی ذمّے داری نہ لیں۔ ہمیں محنت کرنی چاہیے تاکہ ہم ضروریات کو پورا کر سکیں (افسیوں 4: 28)، اور اگر کوئی اپنے خاندان کا خیال نہیں رکھتا تو وہ ایمان دار کہلانے کے لائق نہیں (1 تیمتھیس 5: 8)۔
کسی شخص کو کبھی بھی فارغ بیٹھ کر یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ خُدا اُس کے لیے مہیا کرے۔ خُدا نے یہ اصول رکھا ہے کہ ہم محنت کے ذریعے اور کچھ قیمتی پیدا کر کے فائدہ حاصل کریں۔
ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ ہم خُدا کی برکت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ کام کرنے کی طاقت اور موقع ہمیں خُدا دیتا ہے، اور وہ ہمیں اُن چیزوں سے بھی نوازتا ہے جو ہماری محنت سے نہیں ملتیں۔ چونکہ ہم خُدا پر انحصار کرتے ہیں، اِس لیے ہمیں یسوع کی تعلیم کے مطابق دُعا کرنی چاہیے : "ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔"(متی 6: 11)۔
ہمیں دوسروں کے لیے فراخدل ہونا چاہیے، کیونکہ:
-
ہم جانتے ہیں کہ خدا ہماری ضروریات پوری کرتا ہے۔
-
ہماری ہماری تمام چیزیں صرف ہماری محنت سے حاصل نہیں ہوتیں۔
-
ہم خُدا کی برکتوں کے لائق نہیں ہیں۔
-
ہم خدا کی محبت کا اظہار دینے سے کرتے ہیں۔
ہمیں خودغرض شخص کی مانند نہیں ہونا چاہیے جو یہ جانتے ہوئے کہ دوسروں کو کافی نہیں ملے گا، خود بہت زیادہ کھانا لے لیتا ہے۔ خُدا کے پاس کثرت سےہے، اور ہمیں لالچی یا چالاک بننے کی ضرورت نہیں، جیسے کہ وہ ہمیں دوبارہ کبھی کچھ نہیں دے گا۔
ایک کلیسیائی راہنما نہ صرف اپنے ذاتی پیسوں کا انتظام کرتا ہے بلکہ خدمت کے وسائل کا بھی۔ خُدا اُس خدمت کے لیے مہیا کرتا ہے جو اُس کی مرضی کے مطابق ہو۔ تاہم، اُس کی مرضی ہمیشہ ہماری نظر میں واضح یا ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات لوگ کسی ادارے کو قائم رکھنے پر زور دیتے ہیں اور خُدا سے واضح رہنمائی مانگنے کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی لوگ کوئی نیک کام کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن وہ اُسے اُس طریقے سے نہیں کرتے جو خُدا چاہتا ہے۔ ہمیں ہمیشہ مکمل فہم یا امتیاز حاصل نہیں ہوتا، لیکن اگر خدمت کے لیے مالی وسائل کی کمی ہو، تو یہ ہمارے لیے ایک موقع ہونا چاہیے کہ ہم خُدا کی مرضی کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔
دیانت داری کا اصول
ایمان کا اصول دیانت داری کے اصول کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو خدا کو ناپسند ہو، کیونکہ ہم اُس کا ادب کرتے ہیں اور اُس کی برکت چاہتے ہیں۔
اگر آپ واقعی خدا پر بھروسا رکھتے ہیں، تو آپ کسی بھی بددیانتی کے ذریعے فائدہ حاصل کرنے کا موقع رد کر دیں گے۔ جب کوئی موقع آئے، تو خود سے یہ سوال کریں:
"کیا خدا مجھے اس طریقے سے دے گا؟" اگر فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ بددیانتی پر مبنی ہے، تو یہ واضح ہے کہ یہ خدا کی راہ نہیں۔ جو شخص ناجائز طریقے سے منافع حاصل کرتا ہے، وہ دراصل خدا پر اپنے ضروریات کے لیے بھروسا نہیں کر رہا ہوتا۔
ایک خدمت گزار عام طور پر ایسے وسائل کا نگہبان ہوتا ہے جو اُس کے ذاتی نہیں ہوتے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی آمدنی اور خدمت کے پیسوں میں واضح فرق رکھے۔ بعض ثقافتوں میں یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی، لیکن خواہ وہ خدمت ہو، حکومت ہو یا کاروبار—کسی کو بھی اختیار کی جگہ پر اسی وقت بٹھایا جاتا ہے جب لوگ اُس پر یہ اعتماد رکھتے ہوں کہ وہ اس فرق کو سمجھتا ہے اور برقرار رکھے گا۔ اگر کوئی شخص ادارے کے پیسوں کو اپنا ذاتی سرمایہ سمجھ کر استعمال کرتا ہے، تو وہ دیانت داری کی خلاف ورزی کر رہا ہے (1 کرنتھیوں 4: 2)۔
خدمت کے رہنما کو چاہیے کہ وہ مالی شفافیت اور احتساب کے لیے واضح پالیسیاں مرتب کرے۔ اُسے پیسے کو جمع کرنے اور خرچ کرنے کے کام میں اکیلا شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں کئی افراد شامل ہوں جو ریکارڈ محفوظ رکھیں اور اخراجات کی نگرانی کریں، تاکہ سب کچھ ایمانداری اور بھروسے کے ساتھ انجام دیا جا سکے۔
خدمت کے لیے مدد کا اصول
خدا نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ خدمت کی مالی مدد کی جائے۔ تاہم، اکثر اوقات ایک خادم ایسے حالات میں ہوتا ہے جہاں اُس کی خدمت کو مکمل طور پر مالی سہارا نہیں ملتا۔
ایک مسیحی رہنما کے لیے، پیسہ کبھی بھی قیادت کی ذمہ داری قبول کرنے یا اپنی بہترین محنت کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔ خدمت کے محرکات یہ ہونے چاہئیں خدا کی فرمانبرداری کا تقاضا، خدا کو خوش کرنے کی خواہش، اور ان لوگوں سے محبت جن کی خدمت کی جا رہی ہے (1 پطرس 5: 2، 1 کرنتھیوں 9: 16، یوحنا 21: 15-17)۔
جب یسوع نے اپنے شاگردوں کو خدمت کے لیے بھیجا تو فرمایا" تُم نے مُفت پایا مُفت دینا۔ " (متّی10: 8)۔ خدمت کو قیمت لگا کر انجام دینا غلط ہے۔ بائبل میں ایک شخص کو سخت ملامت کی گئی جس نے روحانی قدرت خریدنے کی کوشش کی تاکہ اُس سے فائدہ کما سکے (اعمال 8: 18-23)۔
[1]خدمت عام کاموں کی طرح پیسہ پیدا نہیں کرتی، کیونکہ یہ کوئی ایسا مال یا خدمت مہیا نہیں کرتی جسے بیچا جا سکے۔ خدمت کی مالی مدد صرف اُن لوگوں کے ذریعے آتی ہے جو دوسرے پیشوں سے وابستہ ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ خدمت مدد کے قابل ہے۔
ایک خادم لوگوں کو خدمت کی قدر اور اپنی لگن بتا کر اُنہیں تعاون دینے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اکثر وہ اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتا جب تک اسے مکمل مالی مدد نہ ملے، بلکہ خدمت کا آغاز پہلے کرنا پڑتا ہے۔ اپنی خدمت کی رپورٹیں باقاعدہ، حقیقت پسندانہ اور مکمل طور پر سچائی پر مبنی ہونی چاہئیں۔
لوگ عموماً اس لیے مددگار بنتے ہیں کیونکہ وہ خدمت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں—نہ کہ اس لیے کہ خادم کو ذاتی مدد کی ضرورت ہے۔ رہنما کو اپنی ضروریات کے ذکر سے مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ خدمت کے نتائج پیش کر کے اور اپنی خدمت کی بصیرت بیان کر کے سپورٹ حاصل کرنی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ خادم ان لوگوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرے جن کی وہ خدمت کرتا ہے، تاکہ وہ اُس کی لگن کو دیکھ کر اُس کی قدر کریں۔
کچھ لوگ رہنما کی ذاتی مدد کرنا چاہتے ہیں بجائے اس کے کہ تنظیم کو دیں۔ ایسے میں خادم کو خبردار رہنا چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی حمایت نہ بنائے، بلکہ تنظیم کی تعمیر کرے—کیونکہ اُس کی اصل ذمہ داری تنظیم کی تعمیر ہے۔
رہنما کو قرض سے پرہیز کرنا چاہیے۔ قرض لینا مطلب ہے کہ آپ مستقبل کا پیسہ آج خرچ کر رہے ہیں۔ قرض انسان کی آئندہ فیصلے کرنے کی آزادی کو چھین لیتا ہے، کیونکہ وہ مستقبل کے فیصلے پہلے ہی کر چکا ہوتا ہے۔ قرض کا مطلب ہے کہ آپ مستقبل کی ضروریات کو جانے بغیر اُن کے وسائل آج خرچ کر رہے ہیں۔
رہنما کو ذاتی قرض سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ اُس کی خدمت کی آزادی کو محدود کر دے گا۔ اسی طرح، اُسے تنظیم کو قرض کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔ صرف وہی پیسہ استعمال کریں جو خدا نے مہیا کیا ہو۔ یہ نہ سوچیں کہ "قرض لے لیں، خدا بعد میں ادا کرنے کا طریقہ دے دے گا۔" اگر خدا کسی مخصوص ضرورت کے لیے مہیا کرنا چاہے، تو وہ قرض سے پہلے ایسا کر سکتا ہے۔ قرض لینا ایک ایسا ذریعہ ختم کر دیتا ہے جس سے ہم خدا کی مرضی کو پہچان سکتے ہیں—کیونکہ یہ انتظار ختم کر دیتا ہے کہ خدا کیا اور کب فراہم کرے گا۔
غور و فکر
◄آپ ان مالی اصولوں کی بنیاد پر اپنے اہداف یا اعمال میں کیا تبدیلی لانے کی توقع رکھتے ہیں؟
"خدا کا کام اگر خدا کے طریقے سے کیا جائے، تو کبھی اُس کی فراہمی کی کمی نہیں ہوگی۔"
J. Hudson Taylor