Type at least 2 characters to search
No results found for ""
Courses
Lessons
Sections
navigate open
See all results →
کلیسیائی قیادت

کلیسیائی قیادت

Search Course

Type at least 3 characters to search

Search through all lessons and sections in this course

Searching...

No results found

No matches for ""

Try different keywords or check your spelling

results found

Lesson 6: کردار پر مبنی قیادت

1 min read

by Stephen Gibson


یقین

یقین کی تعریف

یقین سچائی پر مکمل بھروسا اور اعتماد کا نام ہے۔ یہ حقیقت پر مبنی مضبوط عقیدہ ہوتا ہے، جو انسان کے فیصلوں کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان وہی عمل کرتا ہے جسے وہ سچ سمجھتا ہے۔

یقین صرف مذہبی سچائی تک محدود نہیں ہوتا۔ اگر ایک سیلز مین کو واقعی یہ یقین ہو کہ اس کی پروڈکٹ بہترین ہے اور ہر کسی کو اس کی ضرورت ہے، تو یہ یقین اسے دوسروں پر اثرانداز ہونے کے قابل بنا دیتا ہے۔

فرض کریں کہ کچھ لوگ صحرا میں راستہ بھٹک گئے ہیں۔ وہ اپنے حالات اور ممکنہ راستوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ ایک شخص سب سے زیادہ قائل کرنے والا ثابت ہوتا ہے اور دوسروں کو قائل کر لیتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ وہی شخص رہنما بن جاتا ہے۔

یقین غلط بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات لوگ ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔ لیکن پھر بھی، غلط یقین کچھ وقت کے لیے قیادت کا اثر پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی سے سمجھتا ہے کہ وہ صحیح راستہ جانتا ہے، تو دوسرے اس کے یقین کی وجہ سے اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ مگر جب وہ غلط ثابت ہوتا ہے، تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں، اور اس کی قیادت کا اثر کم ہو جاتا ہے۔

یقین پر مبنی قیادت

قیادت یقین پر مبنی ہوتی ہے کیونکہ ایک رہنما دوسروں کو سچ دکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ ہمیں اس سچائی کے مطابق کیسے عمل کرنا چاہیے۔ وہ دراصل کہہ رہا ہوتا ہے: "حقیقت یہ ہے، اور ہمیں یہ کرنا چاہیے۔"

اگر کسی پرہجوم عمارت میں ایک شخص سمجھ جاتا ہے کہ عمارت میں آگ لگ چکی ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ یہ سچ دوسروں کو بتائے تاکہ وہ عمل کر سکیں۔ اس لمحے میں، وہ شخص قیادت کرتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو یقین کی بنیاد پر متحرک کرتا ہے۔ لیکن جب تک لوگ یہ نہ مان لیں کہ وہ جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے، وہ قیادت جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس کی قیادت کا اثر اس کے یقین کے اثر سے جڑا ہوتا ہے۔

ایک مسیحی رہنما کے لیے خدا کے کلام کی سچائی ہمارے یقین کی بنیاد ہونی چاہیے۔ ہمارا خدا کے ساتھ عہد ہمیں تحریک دیتا ہے کہ ہم اس کی سچائی پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنے کے لیے قیادت دیں۔

طاقتور قیادت کے لیے مضبوط یقین ضروری ہے۔ کسی بھی عظیم رہنما کو یاد کریں، خواہ وہ کلام مقدس سے ہو یا تاریخ سے۔ تصور کریں کہ اگر ان کے پاس یقین نہ ہوتا تو کیا وہ قیادت کر سکتے؟ صرف انتظامی صلاحیت یا بات چیت کی مہارت قیادت کے لیے کافی نہیں ہوتی۔

درج ذیل رہنماؤں نے تاریخ میں بڑا اثر ڈالا، لیکن وہ سب مسیحی نہیں تھے:موسیٰ، یشوع، پولوس رسول، مارٹن لوتھر ، ابرہام لنکن، موہن داس گاندھی، ونسٹن چرچل اور Billy Graham۔ گروپ میں سے کوئی شخص ہر رہنما کے بارے میں مختصراً کچھ بتائے۔ تصور کریں کہ اگر ان کے اندر مضبوط یقین نہ ہوتا، تو تاریخ کتنی مختلف ہوتی؟

ایک رہنما کی بنیادی تحریک کامیابی نہیں، بلکہ یقین ہونا چاہیے۔ ایک عظیم رہنما کامیابی کے لیے کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ کبھی اپنے یقین پر سمجھوتہ نہیں کرتا، خواہ کامیابی کا داؤ لگا ہو۔

ایسا شخص جو اپنے یقین کو بار بار بدلتا ہے، یا معاوضے کے لیے مختلف باتوں کا نمائندہ بن جاتا ہے، وہ مضبوط قیادت نہیں دے سکتا۔

ایک رہنما کو سچائی کے لیے اپنی محبت اور جذبے کے لیے جانا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ یقین سے چلتا ہے، وہ ہمیشہ سچائی جاننے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ وہ غلطی میں رہنے سے بہتر یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اسے درست کرے۔

یقین کے فوائد

یقین ایک شخص کو اس کی فطری شخصیت سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص بحث و تکرار یا تنقید سے گریزاں ہو، پھر بھی وہ مضبوط یقین کی وجہ سے ایک رہنما بن سکتا ہے۔

یقین ایک شخص کی ذہانت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ جب کسی کی سوچ یقین سے متاثر ہوتی ہے، تو بہت سے فیصلے خودبخود ہو جاتے ہیں۔[1] کیونکہ کچھ راستے خارج ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے صحیح فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یقین علم یا حکمت کی طرح ہے: اس کے بغیر انسان نادان ہوتا ہے۔

آپ کے جاننے والے کوئی عظیم رہنما کون ہیں؟ کیسے ان کا یقین ان کی قیادت کو تقویت دیتا ہے؟

دانی ایل اور چند دوسرے یہودی نوجوان ایک غیر قوم کے بادشاہ کے دربار میں تربیت حاصل کر رہے تھے (دانی ایل 1: 8-15)۔ اُس کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اچھا کام کرے اور تربیت دینے والے افسر کو خوش رکھے، لیکن جب دانی ایل نے دیکھا کہ کھانا یہودیوں کے لیے ناپاک ہے، تو اس کا یقین آزمایا گیا۔ اکثر لوگ ایسے موقعوں پر اپنے یقین سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں تاکہ مقام یا کامیابی حاصل ہو۔

تربیت کے نگران نے پہلے ہی دانی ایل کی عمدہ روح کو محسوس کر لیا تھا۔ دانی ایل نے شائستگی اور حکمت سے بات کی، عاجزی سے درخواست کی، اور ایک ایسا حل تجویز کیا جو نگران کے لیے خطرہ نہ تھا۔ خدا نے دانی ایل کی وفاداری کا احترام کیا اور اسے بڑی کامیابی بخشی۔


[1]Albert Mohler talks about this idea in The Conviction to Lead: 25 Principles for Leadership that Matters (Bloomington: Bethany House Publishers, 2012).