تعارف
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم سب خدا کے نزدیک یکساں اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے کلیسیا میں کسی کو دوسرے پر اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف، کچھ لوگ زبان سے تو رہنمائی پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر کسی روحانی اختیار کے تابع نہیں ہوتے، گویا وہ خودمختار ہوں۔
◄کیا بائبل یہ سکھاتی ہے کہ کلیسیا میں اختیار ہونا چاہیے؟ مثالیں دیں۔
بائبل مقدس میں کئی مقامات پر کلیسیائی قیادت اور اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔[1](چند مثالیں عبرانیوں 13: 7، 17 ، ططس 1: 5، رومیوں 12: 8 ، 1 کرنتھیوں 14: 40 اور 1 تیمتھیس 5: 17 ہیں )
جب ہم قیادت کو "اثر و رسوخ" کے طور پر سمجھتے ہیں، تو ہمیں کلیسیا میں قیادت کے کردار زیادہ واضح نظر آتے ہیں۔ خدا نے کچھ خاص کرداروں کو تشکیل دیا تاکہ رہنما کلیسیا کی مدد کریں کہ وہ اپنے مقاصد کو پورا کرے۔
◄ایک طالب علم گروپ کے لیے افسیوں 4: 11-12 پڑھے۔
[2]ہر خدمت کا کردار اس مخصوص فہرست میں شامل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، ایک موسیقار یا عبادت کا رہنما ان میں سے کوئی مخصوص بلاہٹ نہیں ہو سکتی ، لیکن ہر قیادت کا کردار کلیسیا کو اُس کے مقاصد کی تکمیل میں مدد دینے پر مرکوز ہونا چاہیے۔
قیادت کے کردار صرف منادی، تعلیم، یا بشارت تک محدود نہیں ہیں۔ کلیسیا کی ذمہ داریاں ان سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ خدا کے لوگ مل کر نہ صرف روحانی بلکہ عملی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص لوگوں کو باغبانی کے اوزار آپس میں بانٹنے کی ترغیب دیتا ہے، تو وہ کلیسیا کے اُس مقصد کو پورا کرنے میں مدد دے رہا ہے جو اپنے ارکان کی نگہداشت سے متعلق ہے۔ کلیسیا کی ذمہ داریاں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ قیادت کے بہت سے کردار کلیسیا کی عمارت سے باہر بھی نبھائے جائیں۔
"پہلے میں خدا سے دعا کرتا تھا کہ وہ میری مدد کرے۔
پھر میں نے عرض کی کہ کیا میں اُس کی مدد کر سکتا ہوں؟
آخرکار میں نے دعا کی کہ، اے خدا، تُو اپنا کام میرے وسیلہ سے کر۔"
جے- ہڈسن ٹیلر