ایسے راہنما جو دوسروں کو تربیت دینے سے انکار کرتے ہیں
بہت سے راہنماؤں کا اثر اُن کی ذاتی کشش پر مبنی ہوتا ہے۔ اُن کا اثر اُن کی موجودگی سے آگے نہیں بڑھتا۔ وہ تنظیم میں ہونے والی ہر چیز کو خود ہی کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ قیادت کا کوئی ڈھانچہ تیار نہیں کرتے، اور وہ دوسرے ایسے راہنما بھی تیار نہیں کرتے جو ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں۔بعض اوقات وہ مضبوط راہنما معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس تنظیم پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے،لیکن اُن کی تنظیم ایک خاص حد سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتی۔
ایک نوجوان راہنما کو ایک قوم پر اقتدار ملا۔وہ مکمل اختیار رکھنا چاہتا تھا اور یہ یقینی بنانا چاہتا تھاکہ کوئی اور اُس کے ساتھ مقابلہ نہ کرے۔اِس مقصد کے لیے وہ ایک بوڑھے راہنما کے پاس گیاجو ایک طویل عرصے تک ایک قوم پر آمرانہ حکومت کر چکا تھا۔اس نے پوچھا، “آپ کیسے یقینی بناتے ہیں کہ کوئی اور آپ سے اقتدار نہ چھین لے؟” وہ دونوں ایک کھیت میں سے گزر رہے تھے جہاں کچھ جنگلی گھاس اُگی ہوئی تھی۔ بوڑھے آمر کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، اور جب وہ کھیت سے گزر رہے تھے تو وہ چھڑی سے سب سے لمبی گھاس کو مارتا جا رہا تھا۔کچھ لمحے یہ منظر دیکھنے کے بعدنوجوان راہنما بولا، “میں سمجھ گیا ہوں۔"
◄بوڑھے راہنما نے نوجوان راہنما کو کیا سبق دیا؟
کچھ راہنما ایسے مددگار نہیں چاہتے جن کے پاس خود سوچنے کی صلاحیت اور قیادت کی قابلیت ہو۔ وہ صرف ایسے لوگ چاہتے ہیں جو بس اُن کی ہدایات پر عمل کریں۔
ایسے خودغرض راہنما جو طاقت اور شہرت کے عادی ہوتے ہیں اور اپنی پوزیشن کھونے سے ڈرتے ہیں، وہ شاید کبھی بھی اپنے جانشینوں کو تربیت دینے میں وقت یا توانائی نہ صرف کریں۔[1]
ایسے راہنما ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جہاں نئے راہنما اُبھر ہی نہیں سکتے۔ وہ واحد راہنما بنے رہتے ہیں اور باقی سب اُن کے مددگار ہوتے ہیں۔تنظیم میں ایسے شعبے اور پروگرام نہیں بنائے جاتےجن کے لیے اضافی راہنماؤں کی ضرورت ہو۔ایسے نوجوان جن میں قیادت کی مضبوط صلاحیتیں ہوتی ہیں، اکثر ایسی تنظیم چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ کسی ایسی جگہ جا سکیں جہاں اُنہیں ترقی کے مواقع ملیں۔