Type at least 2 characters to search
No results found for ""
Courses
Lessons
Sections
navigate open
See all results →
کلیسیائی قیادت

کلیسیائی قیادت

Search Course

Type at least 3 characters to search

Search through all lessons and sections in this course

Searching...

No results found

No matches for ""

Try different keywords or check your spelling

results found

Lesson 16: عوامی تقریر

1 min read

by Stephen Gibson


ابلاغ کی طاقت

" بامَوقع باتیں رُوپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب ہیں۔" (امثال 25: 11)۔ درست بات اگر درست وقت پر اور خوبصورتی سے کہی جائے تو وہ ایک فن پارے کی مانند ہوتی ہے۔ اچھی بات چیت کرنا ایک مہارت ہے جو سیکھ کر بہتر کی جا سکتی ہے۔

لوگ آپ کی ذہانت، اعتماد، اور قابلیت کا اندازہ آپ کی ابلاغ کی صلاحیت سے لگاتے ہیں۔ اگر ان پر اچھا تاثر پڑے تو آپ کو ان پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ خدمت میں کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ دوسروں کو کتنا متاثر کر سکتے ہیں، لہٰذا ایک مؤثر مقرر (اسپیکر) بننا ضروری ہے۔

مزید برآں، زیادہ تر خدمت ابلاغ ہی پر مشتمل ہوتی ہے۔ منادی، تعلیم، مشاورت، اور حوصلہ افزائی—یہ سب بات چیت کے ذریعے ہی کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر خادمین عمدہ مقرر ہوتے ہیں۔ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی کمزور مقرر ایک مؤثر رہنما ثابت ہو۔

ایک پرانی کہاوت ہے، "قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔" آپ کے خیال میں اس کا کیا مطلب ہے؟

جسمانی طاقت ایک مؤثر طریقے سے پہنچائے گئے خیال کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہتھیار انسانوں کو مجبور کرتے ہیں، مگر ایک خیال ان کے دل و دماغ کو جیت لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حکومتیں اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیاں لگاتی ہیں۔

ایک طالب علم گروپ کے لیے یعقوب 3: 1-8 پڑھے۔ اس حوالے میں ابلاغ کی طاقت کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

یہ حوالہ زیادہ تر زبان (بولی) کے نقصان دہ اثرات پر زور دیتا ہے۔ ابلاغ کی طاقت بھلائی یا برائی دونوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ خدا نے انسانی ابلاغ کو، پاک روح کی قوت سے، نجات کے اپنے منصوبے کی منادی کے لیے چُنا ہے (1 کرنتھیوں 1: 21)۔

ابلاغ کی اس طاقت کی وجہ سے ایک ایماندار کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اسے احتیاط سے استعمال کرے۔ ایک مقرر کو چاہیے کہ وہ مسیحی اخلاقیات کے مطابق بات کرے ہمیشہ سچائی کے ساتھ کھڑا ہو،کبھی ایسے منصوبے یا کام کے حق میں بات نہ کرے جس پر خود یقین نہ ہو، کبھی لوگوں پر قابو پانے کے لیے غلط بات نہ کہے اور کبھی اُن معلومات کو نہ چھپائے جو دوسروں کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔