تنظیمی شناخت اور مقصد
بہت سی تنظیمیں، بشمول کلیسیائیں، کبھی بھی اپنے مقصد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کے عمل سے نہیں گزرتیں، کیونکہ ان کے نزدیک ان کا مقصد بالکل واضح ہوتا ہے۔ اپنے فرض کیے گئے مقصد کی بنیاد پر، انہیں یہ بھی واضح لگتا ہے کہ انہیں کون سی سرگرمیاں انجام دینی چاہییں۔ ان کا ہدف صرف ان سرگرمیوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
مینجرز اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ کام اچھے طریقے سے مکمل ہو، لیکن قائدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ کون سا کام کرنا ضروری ہے۔ درست طریقے سے کام کرنا اہم ہے، لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا کام درست ہے۔ ایک پاسبان کو صرف منتظم نہیں بلکہ رہنما ہونا چاہیے۔
ترقی کا ایک ایسا عمل ہے جو ہر تنظیم—چاہے وہ خدمت ہو، کاروبار ہو یا کوئی اور ادارہ—کے لیے ضروری ہے۔
ایک کلیسیا یہ فرض کر سکتی ہے کہ وہ اچھے عبادتی اجتماعات منعقد کرنے، اپنے ارکان کا خیال رکھنے اور مقامی لوگوں تک خوشخبری پہنچانے کے لیے وجود رکھتی ہے۔ لیکن لیکن بہت سی کلیسیائیں اِس بات کی منصوبہ بندی دانستہ طور پر نہیں کرتیں کہ یہ کام کیسے انجام دیے جائیں گے۔
ایک تنظیم کو چاہیے کہ وہ ترقی کے عمل سے گزرے، جس میں گہرا خود احتساب بھی شامل ہو۔ ان سوالات کے جوابات دینا ضروری ہے:
-
ہمارے لیے سب سے اہم کیا ہے؟
-
یہ تنظیم کیوں وجود رکھتی ہے؟
-
ہمارے لیے کامیابی کا مطلب کیا ہوگا؟
-
ہم کون سے مخصوص اہداف طے کر سکتے ہیں؟
-
ہم ابھی کیا کر سکتے ہیں تاکہ ان اہداف تک پہنچ سکیں؟
یہ سوالات تنظیمی ترقی کے ابتدائی پانچ مراحل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تنظیمی ترقی کا عمل ان مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
1. اقدار کو دریافت کرنا
2. مقصد کی پہچان
3. رویا کو بانٹنا
4. اہداف کا تعین
5. حکمتِ عملی بنانا
6. عملی اقدامات
7. کامیابی کا تجربہ کرنا
یہ مراحل مکمل طور پر الگ نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، ایک تنظیم ممکن ہے کہ اپنی اقدار دریافت کرنے کے دوران ہی منصوبہ بندی اور عملی اقدام کا آغاز کر دے۔ ایک ہی تنظیم کے مختلف شعبے ان مراحل میں مختلف سطح پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔
تاہم ترتیب اہم ہے، کیونکہ ہر مرحلہ اگلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی بھی مرحلے میں تبدیلی ہو، تو اس کے بعد والے مراحل بھی متاثر ہوں گے۔ مثلاً، اگر کوئی تنظیم اپنے مقصد کی سمجھ کو تبدیل کرے، تو وہ اپنے اہداف اور کامیابی کی تعریف کو بھی بدل دے گی۔
یہ عمل ایک بار مکمل نہیں ہوتا۔ اقدار اور مقصد، جب صحیح طور پر سمجھے جائیں تو نہیں بدلتے، لیکن باقی سب کچھ بدل سکتا ہے۔ چاہے اہداف حاصل ہوں یا نہ ہوں، نئے اہداف طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں تنظیم کو اپنی اقدار اور مقصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، رویا کو واضح کرنا چاہیے، نئے اہداف طے کرنے چاہییں، اور نئی حکمتِ عملی بنانی چاہیے۔
◄بہت سی تنظیمیں اپنا مقصد واضح کیوں نہیں کرتیں؟
[1]مرحلہ 1: اقدار کو دریافت کرنا
"اقدار" سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ افراد کی اپنی اقدار ہوتی ہیں؛ اور گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو مشترکہ اقدار رکھتے ہوں۔ ایک تنظیم بھی اقدار پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ ان اقدار کی خدمت کے لیے وجود میں آتی ہے۔
ایک مسیحی شخص کے لیے—چاہے وہ کاروبار میں ہو یا خدمت میں—خدا کو خوش کرنا سب سے اعلیٰ قدر ہے۔ وہ تنظیم جو خدا کو خوش کرنے کے لیے قائم کی گئی ہو، اُس کی اقدار بائبلی سچائی، کلیسیا اور خوشخبری کی بنیاد پر ہوں گی۔
اگرچہ کچھ تنظیمیں مسیحی نہیں ہوتیں، تب بھی ان کی بنیاد اکثر اچھی اقدار پر ہوتی ہے، کیونکہ وہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ ایک کاروباری تنظیم نے اپنی اقدار یوں بیان کیں:
ہر کام میں دیانتداری، معیاری نگہداشت، تعلقات، اور سیکھنے کا عمل۔
کسی بھی کاروبار کے لیے نفع کمانا ایک اہم قدر ہے، کیونکہ وہ بغیر نفع کے اپنی خدمت کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، نفع کمانا سب سے بڑی قدر نہیں ہوتا۔
ایک اور بڑی کمپنی نے اپنی اقدار یوں بیان کیں: تحفظ، خدمت، خوشی، اور کامیابی۔ کامیابی کا مطلب ان کے لیے نفع ہے، لیکن وہ یہ دوسرے اقدار کے بغیر حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری قدریں منافع حاصل ہونے کے امکانات کو بڑھاتی ہیں،کیونکہ لوگ اُس کاروبار کے صارف نہیں بننا چاہتےجو اُن کی ضرورت کو پورا نہ کرے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی تنظیم غلط اقدار پر قائم ہو، مثلاً کسی شخص کا لا محدود اختیار، یا کسی گروہ سے نفرت۔ ایسی تنظیم زیادہ دیر قائم نہیں رہتی، اور ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔
اقدار یہ وضاحت کرتی ہیں کہ تنظیم کے افراد کو اہداف کے حصول کے دوران کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ صرف اہداف حاصل کرنا کافی نہیں ہوتا؛ بلکہ اہداف مناسب طریقے سے حاصل ہونے چاہییں۔مثلاً، کسی شخص کو کھیل جیتنے پر خوشی نہیں ہونی چاہیے اگر اُس نے دھوکہ دے کر جیتا ہو۔ وہ شخص جو حقیقی کامیابی کی خوشی چاہتا ہے، وہ دھوکہ نہیں دیتا، کیونکہ اصل فتح حاصل کی جاتی ہے، چرائی نہیں جاتی۔
◄ایک مقصد کے بارے میں سوچیں جو آپ کے پاس ہے۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ آپ اپنے مقصد تک پہنچنےکے طریقے سے مطمئن ہوں؟
اقدار ترجیح کی ترتیب میں درج کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک کاروبار نے ایمانداری کو سب سے پہلے رکھا کیونکہ ایمانداری کو کسی اور قدر کے لیے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اور کاروبار نے حفاظت کو خدمت سے پہلے رکھا، کیونکہ لوگوں کی حفاظت ان کی سہولت سے زیادہ اہم ہے۔
اقدار کی ترتیب بہت معنی خیز ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک کاروبار منافع کو اہم سمجھتا ہے اور ایمانداری کو بھی، تو ایک ملازم کیا کرے گا جب اسے ایمانداری کے خلاف جا کر منافع کمانے کا موقع ملے؟ اگر ایمانداری منافع سے پہلے درج ہو تو اسے واضح ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔ ہر تنظیم کی شناخت اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اقدار کے درمیان تنازعات کو کیسے سنبھالتی ہے۔ ایک کلیسا کی اعلیٰ ترین قدر خدا کی تعظیم کرنا ہے، اور کوئی بھی مقصد ایسا طریقہ اختیار کرکے حاصل نہیں کیا جانا چاہیے جو خدا کی تعظیم نہ کرے۔
ہر تنظیم کو اپنی اقدار خود جانچ کر دریافت کرنی چاہئیں، کیونکہ وہ پہلے ہی کچھ اقدار کی پیروی کر رہی ہوتی ہے۔
تنظیم محض اقدار کا دعویٰ نہیں کر سکتی؛ کچھ تنظیمیں وہ اقدار بیان کرتی ہیں جن پر وہ واقعی عمل نہیں کرتیں، اور ان کے ملازمین اور صارفین جانتے ہیں کہ ان اقدار کے بیانات کا کوئی مطلب نہیں۔
بنیادی اقدار کی فہرست مختصر، واضح، سب کے لیے معروف، اور ہر موقع پر نافذ ہونی چاہیے۔ یہ فہرست مختصر ہونی چاہیے (تقریباً 4-5 اقدار)، کیونکہ لوگ بہت ساری اقدار پر یکساں توجہ نہیں دے سکتے۔
لوگ خاص اقدار کو صرف اس لیے درج نہیں کریں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھی نتائج دیتی ہیں۔ اگر لوگ اس وجہ سے اقدار اپناتے ہیں، تو وہ بالآخر مختلف اقدار کو اپنانے لگیں گے اگر انہیں لگے کہ بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اقدار اس لیے نہیں اپنائی جاتیں کہ وہ اچھے نتائج دیتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ حقیقت میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔
[2]کبھی کبھی کوئی تنظیم کسی مخصوص مصنوعات یا خیال کے ساتھ کامیابی حاصل کرتی ہے۔ تنظیم کے افراد سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا وجود اسی مصنوعات یا خیال کو فراہم کرنے کے لیے ہے۔ تاہم، وہ مصنوع یا خیال ہمیشہ تنظیم کی اقدار کو پورا نہیں کرتا۔ بہتر ہے کہ تنظیم اپنی اقدار کو متعین کرے اور پھر ان اقدار کو پورا کرنے کے لیے جو بھی کرنا پڑے، اس کے لیے تیار رہے۔
ایک مشنری تنظیم کئی کلیساؤں کو ماہانہ مالی امداد فراہم کر رہی تھی۔ اس کا زیادہ تر بجٹ معمولی امداد پر خرچ ہو رہا تھا۔ لیکن رہنماؤں نے محسوس کیا کہ ان کی سب سے اہم قدر مقامی قیادت اور مقامی حمایت یافتہ کلیساؤں کی ترقی ہے۔ معمولی مالی امداد ان کے مقصد کے حصول میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی اور اقدامات میں تبدیلی کی تاکہ وہ اپنی اقدار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کا مقصد کلیساؤں کی مدد کرنا تھا تاکہ وہ مضبوط ہوں، نہ کہ ان کو انحصار میں رکھنا۔
"مستقل استحکام کا واحد قابل اعتماد ذریعہ ایک مضبوط اندرونی اساس [اقدار] ہے، اور اس کے علاوہ ہر چیز میں تبدیلی اور موافقت کی آمادگی ہے۔" [3]تنظیم کو اپنی اقدار کو مستقل طور پر اور حقیقت پسندانہ طریقے سے ظاہر کرنا چاہیے۔ جب مقاصد یا اقدامات اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے، تو انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
ہر فرد—صرف رہنما ہی نہیں—تنظیم کی اقدار پر یقین کرے اور ان پر عمل کرے۔ اگر بااثر افراد ان اقدار پر یقین نہیں رکھتے، تو تنظیم مضبوط نہیں رہ سکتی۔ تنظیم کو انہی افراد کو ترقی دینی چاہیے جو اس کی اقدار سے وابستہ ہوں، جبکہ جو ان اقدار کی پیروی نہیں کرتے، انہیں قیادت میں نہیں رہنا چاہیے۔تنظیم کا ماحول اس قدر اقدار کی حمایت پیدا کرے کہ کچھ لوگ اسے چھوڑنے کا انتخاب کریں اور دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرے۔
کسی تنظیم میں استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کوئی لچک یا تنوع نہ ہو۔ اگر لوگ عزم رکھتے ہیں، تو وہ اقدار کے علاوہ تقریباً ہر چیز میں تنوع اپنا سکتے ہیں۔ استقامت کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم کے تمام افراد ہر کام میں اپنی اقدار کی حمایت کریں۔
اقدار اس وقت حقیقی ہوتی ہیں جب آپ انہیں اپنے عمل میں اور دوسروں سے توقعات میں ظاہر کریں۔ اگر آپ اپنے بیان کردہ اقدار کے خلاف کام کرنے کو تیار ہیں تاکہ کوئی کام مکمل ہو، تو وہ آپ کی حقیقی اقدار نہیں ہیں۔ آپ کے لیے کچھ اور زیادہ اہم ہے۔
Collins اور Porras نے ان کمپنیوں کا مطالعہ کیا جو طویل عرصے تک مستحکم رہیں جبکہ اسی طرح کی دیگر کمپنیاں زوال پذیر ہو گئیں۔ انہوں نے کامیاب کمپنیوں کو "نظریاتی کمپنیاں" کہا۔[4] نظریاتی کمپنیاں زوال پذیر کمپنیوں سے درج ذیل طریقوں سے مختلف ہوتی ہیں:
1. نظریاتی کمپنی اپنے ملازمین کو اپنی بنیادی اقدار اتنی مؤثر طریقے سے سکھاتی ہے کہ وہ اقدار کمپنی میں ایک مضبوط ثقافت پیدا کر دیں۔
2. نظریاتی کمپنی انتظامی عہدوں کے لیے انہی افراد کا انتخاب کرتی ہے جو اس کی بنیادی اقدار کے ساتھ وابستگی رکھتے ہوں۔
3. نظریاتی کمپنی اپنی ٹیم کے ہر فرد سے توقع کرتی ہے کہ وہ مستقل طور پر ان اقدار پر عمل کرے۔
تنظیم کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کو اس کی اقدار کو ظاہر کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے، تنظیم کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
-
بنیادی اقدار کی وضاحت کرے۔
-
اقدار کے اطلاق کی تعلیم دے۔
-
ٹیم کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کرے اور اس پر فیڈبیک اور اصلاح فراہم کرے۔
مرحلہ 2: مقصد کی پہچان
کسی تنظیم کا مقصد اس کی بنیادی اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کا مقصد دیگر تنظیموں سے منفرد ہو۔
مقصد رہنمائی فراہم کرتا ہے اور اعلیٰ معیار کی ترغیب دیتا ہے۔ تنظیم کی کارکردگی کو اس بات پر جانچنا چاہیے کہ وہ اپنے مقصد کو کتنی مؤثر طریقے سے پورا کر رہی ہے۔
مقاصد، جو حاصل کیے جا کر بدل جاتے ہیں، کے برعکس مقصد ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ تنظیم کبھی کبھار اپنے مقصد کو پورا کرنے کے طریقے تبدیل کرے گی۔ اسے بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد کو برقرار رکھ سکے۔
ماضی میں موسیقی ایسے آلات کے لیے ریکارڈ کی جاتی تھی جو اب استعمال نہیں ہوتے۔ نئی ٹیکنالوجی نے موسیقی سننے کے نئے طریقے متعارف کرائے۔ اگر کوئی کاروبار وہی پرانے آلات فروخت کرتا رہے، تو بہت کم لوگ انہیں خریدیں گے۔ لیکن اگر کسی کاروبار کا مقصد موسیقی فراہم کرنا ہے، تو وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے موسیقی فراہم کرے گا۔ اسی طرح، ہر کاروبار اور ہر خدمت کو اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنا چاہیے۔
کبھی کبھار کوئی تنظیم اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتی جو نئے طریقے سے خدمت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ایک کلیسا کی عمارت ایک ایسے علاقے میں واقع تھی جو تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے غریب لوگ اس علاقے میں منتقل ہو رہے تھے۔ کلیسا کے لوگ نئی آبادی کو تبلیغ کرنے کے طریقے نہیں جانتے تھے۔ چونکہ کلیسا کا کوئی ایسا مقصد نہیں تھا جو انہیں نئے علاقے کے لیے ایک وژن دے سکتا، اس لیے انہوں نے عمارت بیچ دی اور کلیسا کو کسی اور جگہ منتقل کر دیا۔
مرحلہ 3:رویا کو بانٹنا
رویا اس بات کا بیان ہے کہ چیزیں کیسی ہونی چاہئیں۔ رویا اس سوال کا جواب ہے: "اگر ہم مکمل طور پر کامیاب ہو جائیں، تو حالات کیسے ہوں گے؟"
رویا وہ حقیقت ہے جو تنظیم کی مکمل کامیابی کی صورت میں ہوگی۔ رہنما کو یہ تصور اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے اور تنظیم بھر میں اسے مختلف طریقوں سے واضح کرنا چاہیے۔ رہنما کو ایسے انداز میں بات چیت اور طرزِ عمل اپنانا چاہیے کہ تنظیم کے افراد کو رہنما کی رویا کے لیے جذبے اور عزم میں کوئی شک نہ ہو۔
لوگ ایک بنیادی حقیقت کی سمجھ کے مطابق کام کرتے ہیں، جو ان کے انفرادی معاملات کے دیکھنے کے طریقے کو کنٹرول کرتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ چیزیں کیسی ہیں اور انہیں کیسا ہونا چاہیے۔ یہ فہم ان کے فیصلوں اور خیالات کو تشکیل دیتا ہے۔
"رہنما کو اس طریقے کو تشکیل دینا چاہیے جس میں پیروکار یہ سمجھیں کہ حقیقت کیا ہے، سچ کیا ہے، صحیح کیا ہے، اور اہم کیا ہے... رہنما پائیدار تبدیلی اور ان سوالات پر مشترکہ ہم آہنگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔" رہنما کو مستقل طور پر وضاحت کرنی چاہیے کہ چیزیں کیسی ہیں اور انہیں کیسا ہونا چاہیے۔[5]
ایک گروہ نے ایک بڑے شہر کے پسماندہ علاقے میں ایک کلیسا قائم کیا۔ ان کی اقدار انجیل، مقامی کلیسا، اور خاندان تھیں۔ ان کا مقصد اس علاقے میں کلیسا میں مل کر زندگی کا عملی مظاہرہ کرنا تھا۔ ان کا رویا یہ تھا کہ جغرافیائی علاقہ اس وقت تبدیل ہو جائے جب لوگ کلیسا میں زندگی گزارنا شروع کریں، جیسا کہ خدا نے ارادہ کیا ہے۔ ان کے اہداف یہ تھے کہ وہ کمیونٹی کو کلیسا کی زندگی کو مخصوص طریقوں سے پہنچائیں۔
مرحلہ 4: اہداف کا تعین
اہداف رویاکے حصول کے لیے مخصوص اقدامات ہوتے ہیں۔ انہیں واضح، قابلِ پیمائش، اور آسانی سے سمجھنے والا ہونا چاہیے۔
اہداف کسی تنظیم کی اقدار پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اقدار کس طرح ٹیم، کمیونٹی، اور دنیا کو متاثر کرنی چاہئیں۔ ہر ہدف کو اس اثر کو ظاہر کرنا چاہیے جو اقدار کو مرتب کرنا چاہیے۔
Blanchard نے اقدار اور اہداف کے تعلق کو اس طرح بیان کیا:
"اہداف مستقبل کے لیے ہوتے ہیں۔ اقدار حال میں۔ اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔ اقدار کو جیا جاتا ہے۔ اہداف بدلتے ہیں۔ اقدار وہ مضبوط بنیاد ہیں جن پر آپ اعتماد کر سکتے ہیں۔ اہداف لوگوں کو متحرک کرتے ہیں۔ اقدار کوشش کو برقرار رکھتی ہیں۔"[6]
اہداف مستقل نہیں ہونے چاہئیں۔ جب حالات بدلتے ہیں تو اہداف بھی بدلنے چاہئیں۔ اقدار نہیں بدلتیں، لیکن اہداف کو ضرور بدلا جانا چاہیے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اقدار کی خدمت کر سکیں۔
امریکہ میں ایک کمپنی گھوڑے چلانے کے آلات بناتی تھی۔ جب گاڑیاں عام ہو گئیں، تو گھوڑے چلانے کے آلات خریدنے والے کم ہو گئے۔ چونکہ کمپنی کے پاس ایسا کوئی مقصد نہیں تھا جو نئے مصنوعات کے لیے اہداف میں بیان کیا جا سکتا، تو وہ ختم ہو گئی۔
اہداف کی کامیابی کو جشن منانا اور یادگار بنانا چاہیے تاکہ اہداف کو وژن کی طرف سفر کے سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا سکے۔
◄اگر کوئی گروہ سخت محنت کرے لیکن اس کے پاس مخصوص اہداف نہ ہوں، تو کیا ہوتا ہے؟
بڑا ہدف مقرر کرنا
تنظیم کے پاس چھوٹے، قلیل مدتی اہداف ہوں گے؛ لیکن جب اقدار، مقصد، اور وژن واضح ہو جائے، تو رہنما کو ایک بڑا ہدف مقرر کرنا چاہیے جو تنظیم کو تحریک دے اور حوصلہ افزائی کرے۔
بڑا ہدف ایسا ہو سکتا ہے جسے حاصل کرنے میں کئی سال لگیں۔ اسے اتنا بڑا اور چیلنجنگ ہونا چاہیے کہ اس کے لیے انتہائی سطح کی ٹیم ورک، توانائی، اور حکمت عملی درکار ہو۔ یہ اتنا ناممکن نہیں ہونا چاہیے کہ ٹیم کو لگے کہ یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ تب یہ حقیقت میں ہدف نہیں ہوگا۔ البتہ، اسے اتنا بلند ہونا چاہیے کہ یہ عظیم کامیابی سمجھی جائے اور بہت زیادہ محنت درکار ہو۔ جو لوگ تنظیم میں نہیں ہیں، وہ شاید سوچیں کہ یہ ناممکن ہے، لیکن یہ ایک ایسا ہدف ہونا چاہیے جسے پرعزم ٹیم ممکن سمجھتی ہو۔
بڑے ہدف کو ہر شخص کے لیے آسانی سے سمجھنے والا ہونا چاہیے۔ اسے تحریری شکل میں ہونا چاہیے اور اسے نمایاں کیا جانا چاہیے۔یہ محض خواب نہیں بلکہ حقیقی توقع ہونا چاہیے۔
بڑا ہدف تنظیم کو متحد کرنا چاہیے۔ اسے اچانک رہنماؤں کی طرف سے لاگو نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ کافی تبادلہ خیال کے بعد اسے متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ پرعزم افراد واقعی یقین کریں کہ یہ درست ہدف ہے۔
جب ہدف حاصل ہو جائے، تو وہ مزید ترغیب اور رہنمائی فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ نیا ہدف مقرر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ رہنماؤں کو نئے ہدف کے تعین کے عمل میں قیادت کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
مرحلہ 5: حکمتِ عملی بنانا
حکمت عملی ایک عملی منصوبہ ہے جو کسی مخصوص ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ حکمت عملی کو درج ذیل بنیادوں پر تیار کیا جانا چاہیے:
-
حالات کی حقیقت پسندانہ سمجھ
-
دستیاب وسائل اور صلاحیتیں
-
معقول، لیکن چیلنجنگ، اہداف
حکمت عملی کی منصوبہ بندی میں پالیسیوں کا تعین بھی شامل ہوتا ہے۔ تنظیم کے افراد کو ایسے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے جو تنظیم کی اقدار کو ظاہر کریں اور اس کے مقصد کو حاصل کریں۔ بصورتِ دیگر، معیار میں مستقل مزاجی نہیں رہتی۔
ایک کلیسیا کو لوگوں کو یہ تربیت دینی چاہیے کہ وہ مہمانوں کا کیسے استقبال کریں،خدا کو ڈھونڈنے والوں کے ساتھ کس طرح دعا کریں،نئے ایمان لانے والوں کی شاگردیت کیسے کریں،کلیسیا کے کسی رکن کی مالی ضرورت کا جواب کیسے دیں،اور اس جیسے کئی دوسرے عملی طریقے کیسے اپنائیں۔اگر کلیسیا ان ذمہ داریوں پر گفتگو نہ کرے اور ان کے لیے ایک اچھا منصوبہ نہ بنائے،تو یہ کام اچھی طرح انجام نہیں پائیں گے۔
اہداف پہلے متعین کیے جاتے ہیں، لیکن حکمت عملی کی منصوبہ بندی کے دوران انہیں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔حکمت عملی عمل کے دوران بھی بدلی جاتی ہے، جب اقدامات کے اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی حکمت عملی مکمل طور پر درست ہو اور اسے کسی بہتری کی ضرورت نہ ہو۔ غلط سمت میں مسلسل چلتے رہنا غلط سمت میں شروع کرنے سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
بڑی حکمت عملی تبدیلیاں وقت، محنت، اور وسائل میں مہنگی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ابتدا میں ہی بہترین حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہے۔ ایک حکمت عملی کو پہلے چھوٹے پیمانے پر آزمانا دانشمندی ہے—تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ کام کرے گی یا نہیں—پھر مزید سرمایہ کاری کی جائے۔ انہی حکمت عملیوں میں سرمایہ کاری بہتر ہے جو پہلے سے کامیاب ثابت ہو چکی ہیں۔
کسی قوم کی فوج جنگ کے وقت قوم کا دفاع کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ لیکن زیادہ تر وقت قومیں جنگ میں نہیں ہوتیں۔ اس لیے ہزاروں افراد ایک مقصد کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں، لیکن پھر زیادہ وقت دیگر سرگرمیوں میں گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں فوج کے لیے مقصد تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی بار فوج صرف قواعد و ضوابط بڑھاتی رہتی ہے تاکہ لوگ مصروف رہیں، لیکن کوئی واضح مقصد نہ ہو۔
کلیسا کو واضح مقصد رکھنا چاہیے۔ اگر کلیسا اپنے مقصد کی وضاحت نہ کرے، تو وہ محض قواعد، پالیسیوں، اور طریقہ کار کے بنانے میں مصروف ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ خدا کی بادشاہت کے فروغ پر توجہ دے۔
مرحلہ 6: عملی اقدامات
عمل کو منصوبہ بند حکمت عملی کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس میں شامل ہیں، مدد کے لیے بھرتی ، کام کو انجام دینا، سرگرمیوں کا انتظام کرنا ، مسلسل طریقوں کو ایڈجسٹ کرنا، لوگوں کو متحرک رکھنا، مؤثر ہونے کا مشاہدہ کرنا۔
ایک مشنری تنظیم کئی ممالک میں سینکڑوں کلیساؤں کی مدد کر رہی تھی۔ تنظیم کے رہنماؤں نے تنظیم کی اقدار پر غور کرنا شروع کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ تنظیم ان لوگوں نے بنائی تھی جو انجیل کو ان لوگوں تک لے جا رہے تھے جو ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ رہنماؤں کو احساس ہوا کہ انجیل کا پھیلاؤ ان کی بنیادی قدر ہے، اور نئے مقامات تک انجیل پہنچانا ان کا مقصد۔ انہوں نے نئے اہداف مقرر کیے اور نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ قائم شدہ کلیساؤں کی مدد کے بجائے، نئے علاقوں میں مشنریوں کی بھرتی اور بھیجنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
مرحلہ 7: کامیابی کا تجربہ کرنا
کامیابی محض بڑے ہدف تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ راستے میں مکمل ہونے والے چھوٹے اہداف بھی کامیابی ہیں۔ کوئی بھی واضح پیش رفت جو وژن کی طرف لے جائے، ایک کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
ایک مسیحی ٹیم نے منشیات یا شراب کے عادی افراد تک انجیل پہنچائی۔ کئی افراد نے مسیح کو قبول کیا۔ انہوں نے مختلف کلیساؤں میں شرکت کی، لیکن انہیں ایسا کلیسا نہیں مل رہا تھا جو انہیں سمجھ سکے اور قبول کرے۔ انہوں نے ایک نیا کلیسا قائم کیا، جس کی قیادت وہی ٹیم کر رہی تھی جنہوں نے انہیں تبلیغ دی۔ اس کلیسا کی اقدار انجیل اور عادی افراد کی بحالی ہیں۔ ان کا مقصد عادی افراد کی انجیل کی روشنی میں شاگردی اور بحالی کو آسان بنانا ہے۔ ان کی حکمت عملی وہ سرگرمیاں اور پروگرام تیار کرنا ہے جو عادی اور سابقہ عادی افراد کی روحانی ضروریات کو پورا کریں۔
"وسائل کے استعمال سے ہمارا خدا پر ایمان کمزور نہیں ہونا چاہیے، اور خدا پر ایمان ہمیں اُن تمام وسائل کے استعمال سے نہیں روکنا چاہیے جو اُس نے ہمیں اپنی مرضی کی تکمیل کے لیے دیے ہیں۔"
J. Hudson Taylor
"کامیابی ان لوگوں سے نہیں آتی جو جمود کا شکار رہتے ہیں۔ طریقے بدلتے ہیں، اور انسانوں کو بھی ان کے ساتھ بدلنا چاہیے
۔" James Cash Penney