کرسٹوفر ایک ایشیائی نژاد امریکی خاندان میں پیدا ہوا اور ریاست ہائے متحدہ میں پلا بڑھا۔ نوعمری ہی سے وہ عورتوں کے بجائے مردوں کی طرف رغبت محسوس کرتا تھا۔ اس کے والدین اس کی دلچسپی پر حیران اور شرمندہ تھے۔ جوانی میں وہ مردوں کے ساتھ کئی تعلقات میں رہا۔ وہ حقیقی محبت اور وابستگی کی تلاش میں تھا، لیکن ہر تعلق بالآخر ناکام ہو گیا۔ بعد میں، وہ لاپرواہی سے کئی مردوں کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات قائم کرنے لگا۔کرسٹوفر کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب اس کی والدہ ایمان لے آئیں اور اسے ایسی محبت اور قبولیت دکھائی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ اس نے سمجھنا شروع کیا کہ اس کی بنیادی شناخت خدا کی شبیہ پر بنے ہوئے ایک انسان کی ہے۔ اس نے توبہ کی اور اپنی زندگی کے تمام پہلو خدا کے تابع کر دیے۔ یوں اسے خدا کے ساتھ تعلق میں تسکین اور مقصد حاصل ہوا۔
گناہ میں گری ہوئی انسانی فطرت اور گناہ آلودہ خواہشات
جب خدا نے آدم اور حوا کو پیدا کیا، تو اس نے انہیں ہر لحاظ سے کامل بنایا، بغیر کسی نقص یا کمی کے (پیدائش 1: 31 )۔ ان کی فطرت صرف وہی چاہتی تھی جو درست اور اچھا تھا۔ ان کے ذہن اور جسم مکمل طور پر درست کام کر رہے تھے۔ پھر آدم نے خدا کے حکم کی نافرمانی کرنے کا انتخاب کیا۔ جب اس نے ایسا کیا، تو انسانی فطرت بگڑ گئی (رومیوں 8: 20-23)۔ انسانی جسم اور ذہن متاثر ہوئے۔ حتیٰ کہ سب سے زیادہ صحت مند اور ذہین شخص بھی گناہ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ گناہ نے اُس کمال کو مستقل طور پر نقصان پہنچایا جو پہلے موجود تھا۔ پوری تخلیق اس وقت تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوگی جب تک مسیح واپس نہیں آتا (1 کرنتھیوں 15)۔
ہماری فطرت اور جسمانی وجود کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کے پیش نظر ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہماری جسمانی خواہشات ہمیشہ درست اور متوازن ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری بہت سی خواہشات بگڑی ہوئی ہیں۔ انسان فطری طور پر وہ چیز چاہتا ہے جو غلط ہے۔ یسوع نے انسان کی فطری گناہ آلودگی کو دیکھا جب اُس نے اُن تمام گناہوں کا ذکر کیا جو دل سے نکلتے ہیں (مرقس 7: 21-22)۔
اس سبق میں، ہم جنسیت کے مسائل پر بات کر رہے ہیں۔ تمام انسانی خواہشات میں، جنسی خواہشات سب سے زیادہ طاقتور ہو سکتی ہیں۔
غلط جنسی خواہشات اُس شخص کے لیے فطری محسوس ہوتی ہیں جو انہیں محسوس کرتا ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے کہ اُسے اپنی خواہشات کے مطابق عمل کرنے پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو صحیح کام کرنے کے لیے اپنی فطری جھکاؤ کی مزاحمت کرنی پڑتی ہے۔ کسی شخص میں فطری طور پر جھوٹ بولنے، چوری کرنے، تشدد کرنے، سستی برتنے یا بے صبری کا رجحان ہو سکتا ہے۔ لوگ پیدائشی طور پر بگڑی ہوئی حالت میں آنے کے ذمہ دار نہیں، لیکن جب وہ اپنی فطری خواہشات کے پیچھے چل کر گناہ کرتے ہیں تو مجرم ٹھہرتے ہیں۔
کبھی کبھار بچپن میں ہونے والی بدسلوکی یا دیگر ماحولیاتی حالات کسی شخص کو ہم جنس پرستانہ رجحانات یا دیگر غلط جنسی خواہشات کے ساتھ کشمکش میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ لیکن غلط جنسی خواہشات کو دوسرے گناہ آلودہ رجحانات سے مختلف نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو بھی عوامل شامل ہوں، ہر شخص کو رہائی اور پاکیزگی کے لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ حقیقت کہ غلط خواہشات کچھ لوگوں کے لیے فطری محسوس ہوتی ہیں، حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر گناہ ایک شخص کے لیے فطری اور معمول کی طرح محسوس ہوتا ہے جو گناہ کی خواہش رکھتا ہے۔
ہم فطرتاً "غضب کے فرزند" ہیں (افسیوں 2: 3)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فطری طور پر گناہ کی طرف مائل ہیں اور جب ہم اپنی فطری گناہ آلودہ خواہشات کے مطابق عمل کرتے ہیں تو خود کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ یہ کہ کوئی شخص کسی خاص گناہ آلودہ رجحان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُسے اس رجحان کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، چاہے وہ اس کے لیے کتنا ہی "معمولی " محسوس ہو۔
◄ہمیں اپنی تمام فطری خواہشات کی پیروی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں مسیح کے ہمشکل ہونے کے لیے بلایا گیا ہے (رومیوں 8: 29)۔ ہمیں خداوند یسوع مسیح کو اپنے اوپر اختیار دینا ہے۔ ہماری جسمانی خواہشات کو ہماری زندگی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ، ہمیں اپنی غلط خواہشات کو خدا کے اختیار کے تابع کرنا چاہیے (رومیوں 13: 14)۔
◄ہم اپنی غلط خواہشات کو خدا کے اختیار کے تابع کیسے کریں؟
ہماری جنسی خواہشات کو ہمارے حتمی مقصد کے تابع ہونا چاہیے، یعنی خدا کے جلال کے لیے جینا اور اُس کی شبیہ کو ظاہر کرنا۔ مسیح کی پیروی کی زندگی وہی ہے جو خدا کی شبیہ کے مطابق ہو جس میں ہمیں بنایا گیا ہے۔
انسانی شناخت
انسانی شناخت کی درست سمجھ
بہت سے لوگ غلطی سے یہ مانتے ہیں کہ ان کی فطرت قابلِ اعتماد ہے اور انہیں صحیح راستے پر لے جائے گی۔ ان کے نزدیک، جو خواہشات ان کی فطرت سے آتی ہیں، وہی انہیں اطمینان بخشیں گی۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کی فطرت گناہ سے بگڑ چکی ہے اور قابلِ اعتماد نہیں رہی۔ ایک شخص کی فطری خواہشات اُسے حقیقی تسکین نہیں دے سکتیں کیونکہ وہ بگڑی ہوئی ہیں۔ اسی طرح، کوئی شخص خدا کے بغیر اپنی فطری خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے اخلاقی طور پر درست زندگی نہیں گزار سکتا۔
لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق اپنی زندگی کا مقصد خود طے کرنا چاہیے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی شناخت کسی بھی اختیار یا اخلاقی اصول سے محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک ہر شخص کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔ وہ اپنی فطرت پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ انہیں درست سمت میں لے جائے گی۔ وہ قوانین اور اداروں کو پسند نہیں کرتے جو ان کی آزادی پر قدغن لگائیں۔ اس طرح، بگڑی ہوئی انسانی فطرت خدا کے کلام کی جگہ اخلاقی معیار بن جاتی ہے۔
چونکہ جنسیت (sexuality) انسانی فطرت کا ایک طاقتور پہلو ہے، اس لیے بہت سے لوگ جنسی خواہشات کو اپنی شناخت کا مرکزی حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ اگر وہ اپنی جنسی خواہشات کی پیروی نہیں کریں گے، تو وہ اپنی حقیقی شناخت سے محروم ہو جائیں گے۔
دنیا کے نظریے کے برعکس، بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم خدا کی شبیہ پر تخلیق کیے گئے ہیں اور خدا کے ساتھ تعلق کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہی ہماری حقیقی شناخت ہے۔
ہماری زمینی زندگی کا کوئی بھی پہلو ہماری حقیقی اور حتمی شناخت نہیں بن سکتا۔ ہماری نسلی شناخت، سماجی حیثیت، یا مالی حالات ہماری شناخت نہیں، بلکہ محض ہمارے موجودہ حالات ہیں۔ ایک شخص ڈاکٹر، مشہور شخصیت، یا قومی رہنما ہو سکتا ہے، لیکن خدا کے حضور وہ صرف اُس کی مخلوق اور اُس کی شبیہ میں بنایا گیا انسان ہے، اور یہی سب سے اہم شناخت ہے۔
ہماری جنسیت بھی ہمارے حالات کا ایک پہلو ہے۔ ہمارے اندر جنسی خواہشات، رجحانات اور کشمکش ہو سکتی ہے، لیکن یہ ہماری شناخت نہیں، بلکہ ہمارے حالات کا حصہ ہیں۔
ہم گناہ آلودہ فطرت کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں کیونکہ آدم کے گناہ نے انسانیت کو خدا سے جدا کر دیا تھا (رومیوں 5: 18)۔ لیکن یہاں تک کہ ہماری گناہ آلودہ فطرت بھی ہماری شناخت نہیں، بلکہ ہماری حالت ہے، اور خدا کے فضل اور قدرت سے یہ تبدیل ہو سکتی ہے (رومیوں5: 19)۔
◄ایک شخص کی شناخت اور اس کے حالات میں کیا فرق ہے؟
انسانی شناخت اور ذاتی اخلاقیات
شناخت اہم ہے کیونکہ انسان اپنی اخلاقیات (ethics) کا دارومدار اپنی شناخت پر رکھتا ہے۔ اخلاقیات وہ اصول ہیں جو کسی عمل کو صحیح یا غلط قرار دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی جنسیت ہی اس کی شناخت ہے، تو وہ اپنی جنسی خواہشات کی پیروی کو درست سمجھے گا۔
کبھی کبھار لوگ کہتے ہیں، "میں ایسا پیدا ہوا ہوں؛ میرے لیے یہ فطری ہے؛ اس لیے یہ غلط نہیں ہو سکتا۔" لیکن بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم سب گناہ آلودہ فطرت کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں (رومیوں 5: 12، افسیوں 2: 3)۔ صرف اس وجہ سے کہ کوئی چیز ہمیں فطری محسوس ہوتی ہے، وہ درست نہیں ہو جاتی۔
ہماری گناہ آلودہ فطرت ہماری شناخت نہیں بلکہ ہمارا حال ہے۔ ہماری جنسیت بھی ہماری شناخت نہیں بلکہ ہماری موجودہ حالت ہے۔ اصل میں، ہم خدا کی شبیہ پر بنائے گئے مخلوق ہیں۔ جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، تو ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ صحیح اور غلط کا فیصلہ خدا کرتا ہے اور ہمیں اُس کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔ ہماری شناخت ہمیں مقدس زندگی کے معیار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
◄کسی شخص کی شناخت کی سمجھ اس کی اخلاقیات پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟
جنس کی درست سمجھ
ہم جانتے ہیں کہ انسانوں اور بہت سے جانوروں میں نر اور مادہ کی تمیز پائی جاتی ہے۔ ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ خدا بھی مرد یا عورت ہے، لیکن یہ غلط ہوگا۔ خدا کی ذات جنس سے بالاتر ہے، کیونکہ وہ جنس کی تخلیق سے پہلے موجود تھا۔ مرد اور عورت دونوں خدا کی شبیہ پر تخلیق کیے گئے ہیں (پیدائش 1: 27)۔
خدا کی شبیہ محض انسانی فطرت کا ایک حصہ نہیں بلکہ مکمل انسانی فطرت اُس کا عکس ہے۔ ہماری حقیقی شناخت خدا کی شبیہ ہے۔ ہمارے انسانی حالات میں سے کسی بھی چیز کو ہماری اصل شناخت یا اخلاقی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔
خدا نے ہر انسان کے لیے جنس (gender) کا انتخاب اپنی حکمت سے کیا ہے تاکہ وہ اُس کی شبیہ کو ظاہر کرے۔ کچھ لوگ اپنے پیدائشی جنس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور مخالف جنس کے طور پر جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ یہاں تک کہ جسمانی سرجری کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ خدا کی تخلیق کو بگاڑنے کی ایک المناک صورت ہے، کیونکہ جسمانی تبدیلی سے حقیقت میں جنس تبدیل نہیں ہو سکتی۔ ہر شخص اپنی پوری فطرت میں یا تو مرد ہوتا ہے یا عورت۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کی دی گئی جنس میں اُس کے جلال کو ظاہر کریں۔
خدا کا اخلاقی معیار
◄ایک طالب علم عبرانیوں 13: 4کو جماعت میں پڑھے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ جنسی گناہ شادی کی بے حرمتی ہے اور خدا اس کا انصاف کرے گا۔
◄ایک طالب علم 1 کرنتھیوں 6: 18 کو جماعت میں پڑھے۔
جنسی گناہ میں درج ذیل شامل ہیں:
جنسی خیالات: کسی ایسے شخص کے بارے میں جان بوجھ کر جنسی تصورات قائم کرنا جو آپ کا شریکِ حیات نہیں۔
بدکاری:غیر شادی شدہ افراد کے درمیان جنسی تعلقات۔
زنا:شادی شدہ شخص کا کسی اور کے ساتھ جنسی تعلق رکھنا۔
حرام کاری:قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلقات۔
زیادتی:کسی کو زبردستی جنسی تعلق پر مجبور کرنا۔
بچوں کا استحصال:ایسے شخص کے ساتھ جنسی سرگرمی جو اس طرح کا فیصلہ کرنے یا جنسی خواہشات کو سنبھالنے کی شعوری پختگی نہ رکھتا ہو ۔
ہم جنس پرستی:ایک ہی جنس کے افراد کے درمیان جنسی تعلقات۔
فحاشی:ایسی تحریریں، تصاویر یا ویڈیوز جو جنسی جذبات بھڑکانے کے لیے بنائی گئی ہوں۔
یہ تمام چیزیں شادی کے تقدس کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
یاد رکھیں—ہر وہ بھوک جو ہمارے جسم کو لبھاتی ہے، درحقیقت ایک ایسی ضرورت کا استحصال ہے جسے خدا بہتر طور پر پورا کر سکتا ہے۔ خدائی اصولوں کے مطابق جنسی تعلقات کا واحد درست تناظر شادی ہے۔ناجائز جنسی تعلقات... ابتدا میں میٹھے لگ سکتے ہیں، لیکن وہ ہماری روحانی خواہش کو زہر آلود کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ ہم ایسی چیز کی طلب میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو بالآخر ہمیں تباہ کر دے گی۔ ناجائز جنسی تعلقات ہماری پاکیزگی، راستبازی اور خدا کی حضوری کے احساس کو کم کر دیتے ہیں۔[1]
امثال کی کتاب میں کئی مقامات پر خبردار کیا گیا ہے کہ جنسی بدکاری انسان کی زندگی کو برباد کرتی ہے اور موت کی طرف لے جاتی ہے (مثلاً امثال 2: 16-19، 6: 24-29، 32-33)۔
رابرٹسن میک کُوِئیلکن لکھتے ہیں:
[خدا کے مقاصد برائے انسانی جنسیت] کو ذہنی طور پر تقریباً اتنی ہی شدت سے پامال کیا جاتا ہے جتنی شدت سے یہ عملی طور پر کیا جائے۔ خدا نے محض مرد اور عورت کو پیدا نہیں کیا؛ بلکہ اس نے انہیں ایک قریبی، دائمی ازدواجی رشتے میں ایک دوسرے کے لیے پیدا کیا، جو خود اس کی فطرت کے نمونے پر قائم ہے۔ اس اعلیٰ مقصد کے پورا ہونے کے لیے، قربت کا خصوصی ہونا اور عہد کا دائمی ہونا ضروری ہے، ورنہ یہ حقیقی وحدت نہیں ہوگی۔ وفاداری سب سے بڑھ کر ذہنی معاملہ ہے۔ خصوصی قربت، دائمی وابستگی، اور باہمی اعتماد سب سے پہلے ذہن میں ٹوٹتے ہیں۔[2]
◄طلباء کو 1 کرنتھیوں 6: 9-11، 15-20 اور متی 5: 27-30 کو جماعت کے لیے پڑھنا چاہیے۔
ہر معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے تعلقات کے بارے میں ثقافتی نظریات ہوتے ہیں۔ یہ ثقافتی نظریات بائبلی اخلاقیات کے معیار سے کم ہوتے ہیں۔ بہت سی ثقافتیں صرف ان قوانین پر عمل کرتی ہیں جو ایک منظم معاشرے کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ وہ جنسی گناہ کو اس حد تک برداشت کرتے ہیں جب تک کہ وہ سنگین نتائج یا بدنامی سے بچا رہے۔ بائبلی اخلاقیات کا معیار اس سے مختلف ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ کچھ کلیسیائیں بائبل کے اخلاقی اصولوں کے بجائے اپنے معاشرتی اخلاقیات کو اپناتی ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کو سزا دیتی ہیں جن کے گناہ ظاہر ہو چکے ہوں اور جو بے احتیاطی سے کام لے رہے ہوں، لیکن وہ ان ہی گناہوں کو برداشت کرتی ہیں جب لوگ انہیں چھپانے یا ان کے نتائج کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ جو لوگ یہ گناہ کر رہے ہیں، وہ ایمان دار نہیں ہیں اور وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوں گے۔ کرنتھس کے کچھ ایماندار ماضی میں ان گناہوں میں ملوث تھے، لیکن وہ نجات پا چکے تھے۔
کوئی بھی تعلیم جو ان گناہوں کو کسی ایسے شخص کے لیے جائز قرار دیتی ہے جو ایمان کا دعویدار ہو، جھوٹی تعلیم ہے۔ اگر کوئی شخص مسیح کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جنسی گناہ میں مبتلا ہے، تو کلیسیا کو کلامِ مقدس کے مطابق اسے کلیسیا سے نکال دینا چاہیے اور اسے ایماندار نہیں سمجھنا چاہیے (1 کرنتھیوں 5: 11-13)۔
کلیسیا کے رہنماؤں کو اچھے کردار کی مثال قائم کرنی چاہیے۔ جب کوئی کلیسیا عبادتی رہنماؤں کو بے حیائی سے لباس پہننے دیتی ہے یا کلیسیا میں شہوت انگیز رقص کی اجازت دیتی ہے، تو وہ اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ غلط جنسی خواہشات معمول کی بات ہیں۔ وہ اس بات کا بھی اشارہ دیتی ہے کہ جنسی گناہ زیادہ سنگین نہیں ہے۔
معاشرتی لباس کے انداز بعض اوقات یہ تاثر دیتے ہیں کہ کوئی شخص مکمل طور پر لباس پہنے بغیر بھی باوقار نظر آ سکتا ہے۔ کلیسیا کے ارکان، خاص طور پر خاص مواقع پر، بعض اوقات اس غلطی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ جب تک وہ معاشرتی فیشن کی پیروی نہ کریں، تب تک وہ مناسب لباس میں نہیں ہیں۔ کلیسیا کو یہ تعلیم دینی چاہیے کہ یہ غلط ہے۔ ایک ایماندار کو یہ نہیں چاہنا چاہیے کہ اس کے لباس یا رویے سے کسی میں غلط خواہشات پیدا ہوں۔ 1 تیمتھیس 2: 9-10 ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمانداروں کو ایسے لباس اور طرزِ عمل کا انتخاب کرنا چاہیے کہ دیکھنے والے جان لیں کہ وہ محتاط اور پاکیزہ زندگی گزار رہے ہیں اور گناہ کرنے یا دوسروں کو گناہ میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
[2]Robertson McQuilkin, An Introduction to Biblical Ethics, 2nd ed. (Wheaton, IL: Tyndale House Publishers, Inc., 1995), 216.
فحاشی
فحاشی ایسے مضامین، تصاویر یا ویڈیوز پر مشتمل ہوتی ہے جو برہنگی یا جنسی عمل کو دکھا کر جنسی جذبات کو ابھارنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
انٹرنیٹ نے فحاشی کو دنیا بھر میں آسانی سے دستیاب کر دیا ہے۔ بہت سے بزرگ پادریوں اور رہنماؤں کو اپنی جوانی میں اس قسم کی آزمائشوں کا سامنا نہیں تھا کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ موجود نہیں تھا۔ وہ شاید پوری طرح نہ سمجھ سکیں کہ آج کی نوجوان نسل کن مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ لیکن لوگوں کو سکھایا جانا چاہیے کہ وہ اپنے تفریحی انتخاب میں بائبلی اصولوں کو اپنائیں۔
فحاشی غلط ہے کیونکہ یہ انسان کو زنا، بدکاری اور دیگر جنسی گناہوں کے تصور میں مبتلا کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ یہ اس شخص کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جس کے اندر گناہ کی خواہشات موجود ہوں۔ فحاشی انسان کو ایسے غیر اخلاقی اعمال میں شمولیت کی دعوت دیتی ہے جنہیں خدا نے حرام قرار دیا ہے۔ یسوع نے فرمایا کہ ان چیزوں کا تصور کرنا بھی گناہ ہے (متی 5: 28)۔
فحاشی اس لیے بھی غلط ہے کیونکہ یہ لوگوں اور تعلقات کی قدر کو کم کر دیتی ہے۔ یہ جنسی تعلق کو ایک خود غرضانہ عمل بنا دیتی ہے۔ یہ لوگوں کو محض ذاتی لذت کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء کے طور پر پیش کرتی ہے، بجائے اس کے کہ انہیں خدا کی شبیہ میں بنایا گیا اور صحت مند تعلقات کے لیے تخلیق کردہ مخلوق کے طور پر دیکھا جائے۔
فحاشی ایک نشہ آور عادت ہے۔ دیگر گناہوں کی طرح، فحاشی بھی انسان کو غلام بنا دیتی ہے (یوحنا 8: 24، 2 پطرس 2: 19)۔ جو شخص فحاشی کا عادی ہو جاتا ہے، اسے اس کی شدید طلب محسوس ہوتی ہے۔ وہ مشکل سے ہی تصور کر سکتا ہے کہ اس کے بغیر زندگی کیسے گزارے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی بے معنی اور بور ہو جائے گی اگر وہ فحش خیالات نہ دیکھے۔ دیگر تمام نشوں کی طرح، یہ خواہش بھی انسان کی زندگی پر حاوی ہو جاتی ہے، اور وہ اپنی زندگی کی اچھائیوں کو قربان کرنے لگتا ہے۔
[1]فحاشی ایک ترقی پذیر برائی ہے۔ اس کے عادی افراد کو وقت کے ساتھ مزید واضح اور بگڑی ہوئی مواد کی طلب ہونے لگتی ہے۔ وہ ان خیالات میں لذت محسوس کرنے لگتے ہیں جو پہلے انہیں ناپسندیدہ اور خوفناک لگتے تھے۔
فحاشی نقصان دہ ہے۔فحاشی کا عادی شخص ایک عام اور صحت مند رشتے سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی خواہشات اتنی غیر فطری ہو جاتی ہیں کہ وہ کبھی بھی مکمل طور پر تسکین نہیں پا سکتا۔ وہ دوسروں کے دکھ اور تکلیف کے لیے بے حس ہو جاتا ہے اور اپنی لذت کے لیے دوسروں کے نقصان کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
فحاشی کے کچھ اثرات
فحش مواد میں دکھائے گئے اعمال کا تصور کرنا دیکھنے والوں کے ذہن اور جسم کو ایسے متاثر کرتا ہے جیسے وہ خود ان اعمال کو عملی طور پر انجام دے رہے ہوں۔
فحاشی غیر حقیقی مناظر پیش کرتی ہے، جو دماغ میں قدرتی جنسی تعلق کے مقابلے میں زیادہ طاقتور خوشی کے ردعمل پیدا کرتے ہیں۔[2]دماغ اس غیر معمولی خوشی کے کیمیکل کی سطح کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید فحش مواد اور زیادہ غیر اخلاقی مناظر کی طلب بڑھتی جاتی ہے تاکہ وہی خوشی محسوس کی جا سکے۔ دماغ میں ہونے والی ان کیمیائی تبدیلیوں کے باعث ایک شخص حقیقی زندگی میں قدرتی جنسی تعلق قائم کرنے یا اس سے لطف اندوز ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ دماغ کا وہ حصہ جو ہمیں فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے لذت پیدا کرنے والے کیمیائی مادوں کی زیادتی کی وجہ سے اسے بھی نقصان پہنچتا ہے ۔
خدا نے جنسی تجربے کو تعلقات کو جوڑنے کے لیے بنایا ہے۔ جنسی عمل کے دوران دماغ میں ایک خاص ہارمون خارج ہوتا ہے جو دونوں افراد کو جذباتی طور پر ایک دوسرے سے جوڑتا اور ان کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ شادی کے اندر ایک خوبصورت تحفہ ہے، لیکن فحاشی دیکھنے والے کا جذباتی تعلق فحاشی سے ہی جُڑ جاتا ہے۔
فحاشی کے استعمال کی شرمندگی اور گناہ کا احساس لوگوں کو دوسروں سے الگ کر دیتا ہے اور انہیں صحت مند تعلقات قائم کرنے سے روکتا ہے۔ یہ شادی شدہ زندگی میں اعتماد کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔
چونکہ فحاشی دماغ میں کیمیائی عدم توازن پیدا کرتی ہے، اس لیے یہ دیکھنے والے کو ذہنی دباؤ (ڈپریشن) میں مبتلا کر سکتی ہے۔
فحاشی میں دکھائے گئے مناظر بعض اوقات حقیقی زندگی کے جنسی تعلقات میں تشدد اور زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔
پادریوں اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو فحاشی کے خطرات سے خبردار کریں۔ والدین کو اپنے بچوں کو انٹرنیٹ تک غیر محدود رسائی نہیں دینی چاہیے، خاص طور پر جب وہ اتنے بالغ نہ ہوں کہ آزمائش کا مقابلہ کر سکیں۔جو افراد فحاشی کی طرف راغب ہونے کی آزمائش میں مبتلا ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں یا ناکامیوں کی رپورٹ کسی قابلِ اعتماد اور دیندار شخص کو دیں۔ کسی پختہ ایمان والے شخص کے ساتھ مستقل بنیادوں پر جوابدہی کا تعلق رکھنے سے پاکیزگی کے عزم کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس آزمائش پر مسلسل فتح حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
◄فحش مواد کی لت سے بچنے کے لیے آپ لوگوں کو کون سے عملی اقدامات تجویز کریں گے؟ کلیسیا اس سلسلے میں کیسے مدد کر سکتی ہے؟
"شیطان تمہاری جنسی تسکین کو ‘چرانا، مارنا اور تباہ کرنا’ چاہتا ہے (یوحنا 10:10)، اور فحاشی اس کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ فحاشی جنسی تسکین کا وعدہ کرتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ہمیں حقیقی خوشی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے۔"
- دی فریڈم فائٹ
(The Freedom Fight)
[2]یہ تمام معلومات اور اگلے چار پیراگرافhttps://thefreedomfight.orgسے ماخوذ ہیں، جو ان لوگوں کے لیے ایک تجویز کردہ بائبل پر مبنی وسیلہ ہے جو فحش مواد کے استعمال کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی
بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا مطلب ہے کسی بچے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا۔ یہ جنسی فعل کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے اور کئی وجوہات کی بنا پر شیطانی اور گناہ آلود ہے:
یہ خدا کے نیک ارادوں کے خلاف ہے جو اس نے ازدواجی رشتہ کے لیے مقرر کیے ہیں (عبرانیوں13: 4)۔
یہ بچے کی معصومیت کو چھین لیتا ہے – بچہ ایسی چیزوں کا تجربہ کر لیتا ہے جن کا اسے ابھی علم نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بچے کی پاکیزگی کو برباد کرتا ہے (1 تھسلنیکیوں 4: 3-7)۔
یہ بچے کو جھوٹے گناہ کے احساس میں مبتلا کر دیتا ہے؛ بچہ ایک غلط عمل میں ملوث ہو جاتا ہے، مگر وہ خود اس کا فیصلہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔
یہ بچے کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جن کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا۔
یہ بچے کو مستقبل میں بے راہ روی کی طرف مائل کر سکتا ہے کیونکہ وہ خود کو ناپاک یا بے وقعت محسوس کر سکتا ہے (متی 18 : 6)۔
یہ مستقبل میں بدکاری یا تشدد کے رجحانات کو جنم دے سکتا ہے۔
یہ ان معصوموں پر ظلم ہے جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔
یہ خدا کی شبیہ میں بنائے گئے انسان کی توہین ہے، جو اس کی نظر میں بیش قیمت ہے (پیدائش 1: 27)۔
یہ گناہ بعض اوقات خاندان کے اندر یا قریبی دوستوں میں ہوتا ہے، اور اکثر اس کا شبہ نہیں کیا جاتا کیونکہ گھر کے افراد اور رشتہ داروں پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ بچہ خوف کے باعث کسی کو نہیں بتا پاتا۔
ریپ کا مطلب ہے کسی بھی شخص (چاہے بچہ ہو یا بالغ) پر زبردستی اور اس کی مرضی کے بغیر جنسی عمل کرنا۔ یہ انہی وجوہات کی بنا پر گناہ ہے جن کی بنا پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی گناہ ہے (استثنا 22 : 25-27)۔
جنسی بدسلوکی کی ایک اور شکل جنسی غلامی (سمگلنگ) ہے۔ دنیا بھر میں معصوم بچوں اور نوجوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے، یا بعض اوقات انہیں ان کے اپنے خاندان کے افراد بیچ دیتے ہیں تاکہ انہیں جسم فروشی یا فحش مواد بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ بعض غریب خاندان محض مالی مشکلات کے باعث اپنے بچوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، اور یوں وہ ظالموں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ کوئی شخص منافع کماتا ہے، لیکن بچے نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔ یہ کمزور اور بے یار و مددگار لوگوں پر ایک سنگین ظلم ہے، جس کا خدا انصاف کرے گا (امثال 14: 31)۔
یہ تمام گناہ خدا کے دل کو دکھ دیتے ہیں (متی 18: 10-14، زبور 146: 7-9)۔ وہ لوگ جو ان گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں، سزا سے نہیں بچ سکیں گے (1 تھسلنیکیوں 4: 6، حزقی ایل 7: 8-9)۔
ایمانداروں کو چاہیے کہ وہ خدا کے دل کو اپنائیں، محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں، اور ان بچوں کو ظلم سے بچانے، چھڑانے اوربحال کرنے کے لیے کام کریں (امثال 24: 11-12، ایوب 29: 12-16، زبور 72: 12-14)۔
خود لذّتی
خود لذّتی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے جنسی اعضا کو جنسی لذت حاصل کرنے یا جنسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے متحرک کرے۔
بائبل خاص طور پر خود لذّتی کو غیر اخلاقی فعل کے طور پر مذمت نہیں کرتی، لیکن یہ گناہ کی طرف لے جا سکتی ہے، جیسے شہوانی خیالات، فحش مواد کا استعمال، اور حرام کاری، جو سبھی گناہ ہیں (متی 5: 27-28، متی 15: 19-20)۔
خود لذّتی غیر دانشمندانہ بھی ہے کیونکہ یہ نشہ آور بن سکتی ہے: جتنا زیادہ کوئی اسے کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی عادت پڑتی جاتی ہے۔
بار بار کی جانے والی خود لذّتی بعض اوقات کسی گہرے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسے جذباتی یا تعلقاتی مسائل، یا ماضی میں ہونے والی جنسی بدسلوکی۔
◄طلبہ کو چاہیے کہ وہ جماعت میں 1 کرنتھیوں 6: 12-13، 18-20 اور 1 تھسلنیکیوں 4: 1-8 پڑھیں۔
خدا نے ازدواجی رشتے میں جسمانی قربت کو شوہر اور بیوی کے درمیان جذباتی اور روحانی یکجائی کے لیے بنایا ہے (1 کرنتھیوں 6: 16-20، ملاکی 2: 15)۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خود لذّتی انہیں شادی سے پہلے مجرد زندگی گزارنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر یہ عادت بن جائے تو یہ مستقبل میں ازدواجی رشتے کی خوبصورتی اور قربت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
خود لذّتی ایک ایسا جنسی تجربہ ہے جو جنسی تعلق کے اصل مقصد سے محروم ہے: یعنی دو افراد کا ایک جسم اور ایک روح بن جانا۔ خود لذّتی کو شادی میں صحت مند اور فطری ازدواجی تعلق کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔[1]
اگر کوئی غیر شادی شدہ شخص خود لذّتی کے مسئلے میں مبتلا ہو تو کیا کرے؟ اگرچہ بعض لوگ صرف جنسی دباؤ سے نجات پانے کے لیے خود لذّتی کرتے ہیں، تب بھی اسے ترک کرنا بہتر ہے، کیونکہ اس میں فتنوں کا سامنا رہتا ہے اور یہ خدا کے مقرر کردہ جنسی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔
اگر کسی کی زندگی میں کسی بھی طرح کی جنسی بے راہ روی موجود ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس گناہ کا اعتراف کرے اور اسے ترک کرے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مستقل اور دیانتداری سے حساب کسی بزرگ، خدا ترس رہنما کو دیں، جو ان کے لیے دعا کرے اور رہنمائی فراہم کرے۔
اگر خود لذّتی جذباتی یا تعلقاتی مسائل، یا ماضی میں ہونے والی جنسی بدسلوکی کی وجہ سے ہو رہی ہو، تو کسی مسیحی پیشہ ور مشیر سے مدد لینا مناسب ہے۔
[1]ڈاکٹر ٹم کلنٹن اور ڈاکٹر ڈیان لینگ برگ،"The Quick-Reference Guide to Counseling Women, (Grand Rapids, MI: Baker Books, 2011), 185
ہم جنس پرستی کے بارے میں بائبل کی تعلیم
خدا نے شادی کو ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ایک عمر بھر کے پختہ تعلق کے طور پر ترتیب دیا ہے۔ خدا نے دیکھا کہ آدم کو ایک مددگار کی ضرورت ہے (پیدائش 2: 18)۔ "مددگار" کا مطلب ایسا ساتھی ہے جو دوسرے سے مختلف ہو لیکن مددگار طور پر مطابقت رکھتا ہو۔ خدا نے آدم کے لیے کسی اور مرد کو نہیں بلکہ ایک عورت کو تخلیق کیا (پیدائش 2: 22)۔ تخلیق کی یہ کہانی پوری انسانیت کے لیے شادی کا عمومی اصول فراہم کرتی ہے—شادی میں، ایک مرد اور ایک عورت ایک منفرد طور پر یکجا ہوتے ہیں (پیدائش 2: 24)۔
یسوع نے شادی کے بارے میں خدا کے منصوبے پر بات کی (متی 19 : 4-6)۔ انہوں نے پیدائش کی کتاب کا حوالہ دیا اور بیان کیا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک انوکھے اور دائمی رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔
پولس رسول نے بھی شادی کے بارے میں کئی بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ شادی ہمیں مسیح اور کلیسیا کے تعلق کے بارے میں سکھاتی ہے (افسیوں 5: 22-33)۔ افسیوں میں، انہوں نے شوہروں اور بیویوں کے رشتے پر زور دیا اور پیدائش اور متی کے حوالے سے یہ بتایا کہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان ایک خاص رشتہ ہوتا ہے (افسیوں 5: 31)۔ اس حوالے سے واضح ہے کہ شادی ایک مرد اور عورت کے درمیان رشتہ ہے۔
احبار کی کتاب میں خدا کے قانون کی تفصیلی وضاحت اسرائیل کے لیے دی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ اگر کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ عورت کے ساتھ تعلق رکھنے کی طرح تعلق رکھے تو یہ مکروہ ہے (احبار 18: 22)۔ ہم جنس پرستی میں ملوث دونوں افراد کی سزا موت تھی، کیونکہ دونوں نے گھناؤنا گناہ کیا تھا (احبار 20: 13)۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ احبار کی کتاب کے احکام آج کے لوگوں پر لاگو نہیں ہوتے۔ یہ درست ہے کہ احبار کے کچھ احکام رسمی عبادات سے متعلق تھے، لیکن احبار 18-20 میں دیگر جنسی بدکاریوں کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے، جیسے قریبی رشتہ داروں سے جنسی تعلق، جانوروں کے ساتھ مباشرت، اور بیٹی کو جسم فروشی کے لیے پیش کرنا۔ ان ابواب میں مزید احکام میں بچوں کی قربانی، چوری، بت پرستی، بہرے یا نابینا افراد کے ساتھ بدسلوکی، غریبوں پر ظلم، غیر ملکیوں سے بدسلوکی، اور دھوکہ دہی شامل ہیں۔ یہ واضح ہے کہ یہ احکام خدا کے اخلاقی اور عدالتی اصولوں پر مبنی ہیں، جو ہر قوم اور ہر زمانے کے لیے لاگو ہوتے ہیں۔
◄ایک طالب علم کو جماعت کے لیے رومیوں 1: 18-32 پڑھنا چاہیے۔
یہ حوالہ اس بیان سے شروع ہوتا ہے کہ خدا کی عدالت ان تمام لوگوں پر آنے والی ہے جو جان بوجھ کر خدا کی بغاوت کرتے ہیں۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگوں نے سچے اور واحد خدا کو رد کیا تو وہ بت پرستی میں مبتلا ہو گئے، یعنی مخلوقات کی پرستش کرنے لگے۔ سچائی کو مسترد کرنے کے نتیجے میں وہ جنسی گناہوں میں ملوث ہو گئے، حتیٰ کہ ہم جنس پرستی تک جا پہنچے۔ اس حوالے میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک ہی جنس کے لوگوں کے درمیان جنسی تعلق فطرت کے خلاف ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حوالہ صرف ہم جنس پرستی کے ذریعے زبردستی کے تعلقات (ہم جنس پرستی کے ریپ) کے بارے میں ہے، لیکن اس میں واضح طور پر ذکر ہے کہ لوگ مل کر غلط کام کرتے رہے اور ان کے اعمال کا بدلہ پایا۔ اس لیے یہ رضامندی کے ساتھ کیے گئے ہم جنس پرست تعلقات کے بارے میں بھی بات کرتا ہے۔ یہ حوالہ آگے مختلف قسم کے گناہوں کو بیان کرتا ہے اور خدا کے خلاف بغاوت کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
پولس رسول نے ہم جنس پرستی کو ان دیگر گناہوں کے ساتھ شامل کیا ہے جن کی خدا مذمت کرتا ہے (1 کرنتھیوں 6: 9-10، 1 تیمتھیس 1: 9-10)۔
کلیسیا کی ذمہ داریاں
کچھ کلیسیائیں ان لوگوں کے ساتھ محبت کا اظہار کرنے کے طریقے تلاش کرنے میں مشکل محسوس کرتی ہیں جو جنسی گناہ میں مبتلا ہیں۔ کچھ کلیسیائیں مختلف اقسام کے جنسی گناہ کو عام، فطری اور ناگزیر سمجھ کر ان کی پردہ پوشی کرتی ہیں۔
◄جنسی اخلاقیات کے مسائل کے حوالے سے کلیسیا کی کچھ ذمہ داریاں کیا ہیں؟
راستبازی کی تعلیم دینا اور اس سے محبت رکھنا
کبھی کبھی کلیسیا ان اقسام کے جنسی گناہ کے بارے میں بے پرواہ ہوتی ہے جنہیں وہ کم نقصان دہ اور کم بگاڑ پیدا کرنے والے سمجھتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ یہ فرض کر لیتی ہے کہ بہت سے نوجوان غیر شادی شدہ افراد جنسی تعلقات قائم کریں گے، بجائے اس کے کہ وہ انہیں آزمائش پر فتح حاصل کرنے کی تعلیم دے۔ ایمانداروں کو خدا کے پاکیزہ زندگی کے معیار کو بلند رکھنا چاہیے اور جنسی تعلقات کو شادی کے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔
کلیسیا کا پیغام اتنا ہی واضح ہونا چاہیے جتنا کہ بائبل کی تعلیمات۔ خدا ان تمام لوگوں کا انصاف کرے گا جو شادی کے بندھن کے بغیر جنسی تعلقات میں ملوث ہوں گے (عبرانیوں 13: 4)۔ ایمانداروں کو کسی شخص کی جنسی بے راہ روی کو قابلِ تعریف نہیں سمجھنا چاہیے۔ مسیح کے پیروکاروں کو جنسی گناہ پر لطیفے نہیں بنانے چاہییں۔ دنیا یہ سکھاتی ہے کہ جنسی گناہ کو حمل اور بیماری سے بچنے کے لیے قابو میں رکھنا چاہیے، لیکن کلیسیا کا پیغام اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کلیسیا کو سکھانا چاہیے کہ جنسی گناہ غم، خاندانوں کی تباہی، بڑھتی ہوئی آزمائش، بے اطمینانی اور گناہ کے احساس کا سبب بنتا ہے۔
انجیل کی منادی
کلیسیا کو تمام گناہگاروں سے محبت کرنی چاہیے اور مسیح کے فضل اور معافی کی پیشکش کرنی چاہیے۔
یہ گناہ نہیں کہ ایک شخص آزمائش کا سامنا کرے؛ خود مسیح بھی آزمایا گیا، مگر انہوں نے گناہ نہیں کیا (عبرانیوں 4: 15)۔ کلیسیا کو کسی شخص کو محض آزمائش میں پڑنے کی وجہ سے مایوسی یا مذمت کا احساس نہیں دلانا چاہیے، چاہے وہ آزمائش کسی بھی قسم کی جنسی بے راہ روی کی طرف لے جاتی ہو۔ غلط خواہشات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ہر انسان ایک گناہ آلودہ فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے جو گناہ کی طرف راغب کرتی ہے۔
ایک پادری یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اسے خاص طور پر اس مسئلے پر مشورہ دینے کے لیے تربیت نہیں دی گئی، لیکن وہ کسی بھی دوسرے گناہ کے معاملے میں مدد کرنے کی طرح اس مسئلے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ (اس سبق کے اگلے دو حصے مزید مخصوص مشورہ فراہم کرتے ہیں کہ ایمانداروں کو جنسی بے راہ روی کی آزمائش پر کیسے فتح پانی چاہیے۔)
◄جب کلیسیا کا کوئی رکن جنسی گناہ میں ملوث ہو جائے تو کلیسیا کو کیا کرنا چاہیے؟
گناہگار کی بحالی
گلتیوں 6: 1 بیان کرتا ہے کہ کلیسیا کو گناہ میں گرنے والے رکن کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص اپنی خدمتی ذمہ داری کو برقرار رکھے یا گناہ کے فوراً بعد دوبارہ کسی خدمتی عہدے پر فائز کر دیا جائے۔ بحالی کا مطلب یہ ہے کہ کلیسیا اس شخص کو محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ دوبارہ قبول کرے۔ اگر وہ رکن سچے دل سے توبہ کرتا ہے، تو خدا اور کلیسیا دونوں اسے معاف کرتے ہیں۔ کلیسیا کو روحانی احتساب فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ فتح مند زندگی گزار سکے اور روحانی طور پر مضبوط ہو۔ جیسے جیسے بحال شدہ ایماندار احتساب کے دائرے میں زندگی گزارتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے ایمانی خاندان کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔
اگر کوئی غیر شادی شدہ لڑکی حاملہ ہو جائے، تو کلیسیا کو اسے کلیسیا کی رفاقت سے خارج نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی روحانی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ توبہ کرتی ہے اور روحانی احتساب میں شامل ہو جاتی ہے، تو وہ معاف کر دی جاتی ہے۔ اس کا گناہ اس مرد کے گناہ سے زیادہ نہیں ہے جو اس میں ملوث تھا۔ بعض اوقات، صرف لڑکی کو سخت سزا دی جاتی ہے کیونکہ اس کے گناہ کا نتیجہ واضح ہوتا ہے۔
بعض جگہوں پر، کلیسیا ناجائز پیدا ہونے والے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے، جو کہ غلط ہے، کیونکہ یہ بچے کا قصور نہیں ہے۔ کلیسیا کا بچے سے محبت اور قبولیت کا اظہار کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ گناہ کو جائز قرار دے رہی ہے۔
کمزوروں کی حفاظت
کچھ معاشروں میں، وہ والدین جو اپنی غیر شادی شدہ بیٹی کے حمل کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اپنی خاندانی عزت بچانے کے لیے پیدا ئش سے قبل بچے کو مارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن قتل کے لیے کبھی کوئی جائز وجہ نہیں ہو سکتی (خروج 20: 13)۔ پیٹ میں پلنے والا ہر بچہ خدا کی صورت پر بنایا گیا ہے ۔ (پیدائش 9: 6، زبور 139: 13-14)۔ اس لڑکی کے بچے کو محفوظ، محبت اور پرورش دی جانی چاہیے۔
غربت کا متبادل فراہم کرنا
کلیسیا ایمانداروں کا ایک خاندان ہے۔ صرف گناہوں کی مذمت کرنا کافی نہیں، بلکہ کلیسیا کو اپنے ارکان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص گناہ کے ذریعے مالی مدد حاصل کر رہا ہو، تو کلیسیا کو اسے جائز ذریعہ معاش فراہم کرنے میں مدد دینی چاہیے۔
مثال :چند لڑکیاں ایک بڑی کلیسیا میں عبادت کے لیے آتی تھیں اور پرستش کے گروہ میں شامل تھیں۔ ان کے خاندان بہت غریب تھے۔ یہ لڑکیاں مردوں کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات میں ملوث ہو گئی تھیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی مالی مدد کر سکیں۔ایسی صورت میں کلیسیا کو کیا کرنا چاہیے؟
◄آپ کی کلیسیا کو گناہ آلودہ طرزِ زندگی سے نکلنے میں لوگوں کی مدد کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
آزمائش کا سامنا کرنے والوں کے لیے مدد
ہم نے اس سبق میں بہت سے مشکل موضوعات پر گفتگو کی۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کئی مسائل سے گزرنے والے قارئین موجود ہوں۔ کچھ قارئین کلیسیا کے رہنما ہیں جو دیگر ایمانداروں کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں جو آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
کسی بھی قسم کی آزمائش ہو، کچھ مخصوص رویے اور سوچنے کے طریقے ہیں جو ایماندار کو فتح مند بننے میں مدد دے سکتے ہیں۔
مسیح کے پیروکار کے لیے مددگار چیزیں:
1. اپنے تعلق کو مسیح کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ رکھنا (متی 16: 24-27)۔ جنسی بدکاری کی آزمائش، ہر آزمائش کی طرح، شیطان کا آپ کی جان پر حملہ ہے (1 پطرس 2: 11)۔ وہ صرف چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کوآتا ہے (یوحنا 10:10)۔ آپ کو اپنی جان بچانے کے لیے اس سے بھاگنا چاہیے (2 تیمتھیس 2: 22)۔
2. یقین رکھنا کہ یسوع فکر کرتا ہے (زبور 139: 1-3، 1 پطرس 5: 6-10)۔ وہ آپ کے ایمان، جسمانی ضروریات اور پاکیزگی کی فکر کرتا ہے۔ اپنی انسانیت میں، اس نے ان جسمانی اور ذہنی آزمائشوں کا سامنا کیا جو ہم کرتے ہیں، اور اس کے پاس وہ فضل ہے جس کی ہمیں فتح کے لیے ضرورت ہے (عبرانیوں 4: 14-16)۔
3. شیطان کے جھوٹ پر یقین نہ رکھنا (یوحنا 8: 44)۔ شیطان آپ سے کہہ سکتا ہے: "یسوع کو کوئی پرواہ نہیں، ورنہ وہ تم سے جنسی خواہشات لے لیتا جو تمہیں پریشان کر رہی ہیں۔" مگر 1 پطرس 5: 7-8 بتاتی ہے کہ یسوع کو پرواہ ہے، اور شیطان ہی وہ ہے جو ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ شیطان جھوٹا الزام لگاتا ہے کہ جنسی خواہش رکھنا گناہ ہے (مکاشفہ 12: 10)۔
4. یسوع پر توجہ مرکوز کرنا اور اس کی حمد کرنا (زبور 105: 3-4)۔ شیطان آپ کے ایمان اور خدا کے ساتھ تعلق کو تباہ کرنا چاہتا ہے (یوحنا 10:10)۔ مگر یسوع کی خواہش ہے کہ آپ کا ایمان مضبوط ہو اور آپ اس کے جلال کے لیے زندگی گزاریں (1 پطرس 1: 5-9)۔ جب آپ یسوع کی عبادت پر دھیان دیتے ہیں، تو وہ آپ کی مدد کے لیے موجود ہوتا ہے (زبور46: 1)۔
5. خدا کے کلام پر غور کرنا (زبور 119: 9)۔ خدا کے کلام کو پڑھنا، سننا اور اس پر غور کرنا آزمائش کے وقت میں آپ کو ثابت قدم رکھے گا۔ جب یسوع کی آزمائش ہوئی، تو اس نے کلامِ مقدس کا استعمال کرکے فتح پائی (متی 4)۔ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
6. یسوع کا شکر ادا کرنا کہ اس نے جنسی خواہشات رکھی ہیں، اور آزمائش پر قابو پانے کے لیے دعا کرنا (2 کرنتھیوں 12: 7-9)۔ آپ اپنی فطری خواہشات کے لیے شکرگزار ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ خدا کے تخلیقی منصوبے کا حصہ ہیں اور یہ آپ کو یسوع پر انحصار کرنے اور اس کی قوت تلاش کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ آپ کی کمزوری آپ کے ایمان میں نشوونما کا موقع فراہم کرتی ہے۔
7. کم از کم ایک بالغ اور خدا پرست شخص کے سامنے جوابدہ رہنا (گلتیوں 6: 2)۔ کسی پختہ ایماندار (جو آپ کا ہم جنس ہو) کے ساتھ ایمانداری اور کھلے دل سے بات کرنا بہت مددگار ہوگا۔ وہ آپ کے لیے دعا کریں گے اور آپ کی رہنمائی کریں گے۔ اپنے مسائل پر گفتگو کرنا آپ کو پاکیزگی برقرار رکھنے اور ایمان میں مضبوط رہنے میں مدد دے گا۔
8. دوسروں کی خدمت کرنا اور ان کی ضروریات پر توجہ دینا (فلپیوں 2: 3-5)۔ اپنی خواہشات اور ضروریات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے بجائے دوسروں کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں۔
9. صحیح وقت پر خدا کی مرضی کے مطابق شادی کرنا (امثال 5: 15، 18-19)۔ (آئندہ اسباق میں شادی کے لیے دانشمندانہ انتخاب کرنے پر بات کی جائے گی۔)
◄ان میں سے کون سی باتیں آپ کے لیے نئی ہیں؟ آپ نے اپنی زندگی میں کن باتوں کو مددگار پایا ہے؟
◄کون سے دوسرے رویے یا سوچنے کے طریقے آپ کے لیے فائدہ مند رہے ہیں؟
شادی سے پہلے اخلاقی پاکیزگی
نوجوانوں کو شادی سے پہلے سخت آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسا جیون ساتھی چاہیے جو وفادار ہو۔[1]انہیں کسی ایسے شخص کے ساتھ تعلق کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے جو شادی کے بغیر وقتی لذت چاہتا ہو۔ انہیں کسی ایسے شخص کے ساتھ تعلق کے بارے میں بھی نہیں سوچنا چاہیے جو ایمان میں مضبوط نہ ہو (1 کرنتھیوں7: 39)۔ انہیں صرف ایسے شخص پر غور کرنا چاہیے جو وفادار شریک حیات اور اچھا والد / والدہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
جو نوجوان اچھی شادی کا خواہاں ہو، اسے خود بھی ایک وفادار اور پختہ مسیحی ہونا چاہیے تاکہ صحیح قسم کا شخص اس کی طرف متوجہ ہو (امثال 3: 4-8)۔ ایک شخص اچھے کردار کا مظاہرہ اپنے مناسب رویے اور باحیا لباس سے کرتا ہے (1 تیمتھیس 2: 9-10)۔ جو لوگ مخالف جنس کے ساتھ لاپرواہی سے پیش آتے ہیں، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ غلط خواہشات پر مبنی تعلقات کے لیے تیار ہیں (1 تھسلنیکیوں 4: 1-7)۔ جو شخص ایسا لباس پہنتا ہے جو غلط خواہشات کو ابھارتا ہے، وہ ایسے شخص کو متوجہ کرتا ہے جو بغیر کسی ذمہ داری کے لذت چاہتا ہے (امثال 7)۔
خدا نے والدین، پادریوں اور دیگر مسیحی رہنماؤں کو دیا ہے تاکہ وہ رویے، لباس اور تعلقات کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کریں۔ جب نوجوان لوگ خدا کی فرمانبرداری میں ان رہنماؤں کے تابع ہوتے ہیں، تو انہیں خدا کی بہترین برکتیں ملتی ہیں اور وہ بہت سی آزمائشوں اور نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔
◄طلبہ کو 1 پطرس 5:5 اور عبرانیوں 13: 17 پڑھنا چاہیے۔
یہ بچوں اور نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والدین اور روحانی رہنماؤں کی حکمت اور قیادت کے تابع رہیں۔ اور یہ رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو آزمائش پر فتح مند زندگی گزارنے میں مدد دیں۔
◄طلبہ کو رومیوں 13: 14 اور 1 کرنتھیوں 10: 13 پڑھناچاہیے۔
خدا ایمانداروں کو ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دیتا جو ان کی برداشت سے باہر ہو۔ اگر وہ چاہیں تو اس سے بچ نکلنے کا راستہ موجود ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزمائش سے دور بھاگیں (2 تمیتھیس 2: 22)۔ تاہم، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو غیر ضروری آزمائشوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ والدین تین طریقوں سے یہ کام کر سکتے ہیں:
1. واضح ہدایات دینا کہ بچے کیا کریں اور کیا نہ کریں، کن کے ساتھ رہیں، اور کہاں جائیں (افسیوں 6: 1-4)۔ والدین کو بچوں کو ایسی جگہوں پر جانے سے روکنا چاہیے جہاں ان کی ناپختگی انہیں آزمائش سے بچانے کے قابل نہ ہو۔ مثال کے طور پر، اگر ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی کسی نجی جگہ پر اکیلے ہوں، تو وہ غلط رویے کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔
2. بچوں کو آزمائش کے معاملات میں جوابدہ بنانا۔ والدین کو اپنے نوجوانوں کے ساتھ دعا کرنی چاہیے اور ان کی زندگی کے بارے میں سوالات کرنے چاہیے۔ جوابدہی کی تاثیر والدین اور بچوں کے تعلقات کی مضبوطی پر منحصر ہے۔ اگر بچہ والدین پر بھروسا نہیں کرتا کہ وہ محبت، قبولیت اور حمایت فراہم کریں گے، تو وہ اپنی ناکامیوں کا اعتراف نہیں کرے گا۔
3. نوجوانوں کو بائبلی مشورہ دینا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ ہر معاملے پر بائبلی اصولوں کے مطابق غور کریں (امثال 4: 1-9، امثال 7: 1، 4-5)۔ انہیں اپنے بچوں کے ساتھ ان خطروں پر بات کرنی چاہیے جو وہ دیکھتے ہیں۔ انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے ممکنہ فیصلوں پر غور کریں اور یہ سمجھیں کہ آزمائش سے کیسے بچنا ہے اور اگر وہ آزمائش میں پڑ جائیں تو کیا کرنا چاہیے۔
کلیسیا کو اپنی ثقافت سے مختلف ہونا چاہیے جب وہ بائبلی اخلاقیات کا دفاع کرے۔ بہت سی ثقافتیں جنسی گناہ کو سنجیدہ نہیں لیتیں۔ وہ توقع کرتی ہیں کہ غیر شادی شدہ نوجوان جنسی تعلقات رکھیں گے۔ کلیسیا کو گناہ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ کلیسیا کو یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ نوجوانوں میں جنسی گناہ معمول کی بات ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ بدکار ہیں، انہیں مسیح کی بادشاہی میں کوئی میراث نہیں ملے گی (افسیوں 5:5)۔
◄کلیسیا کس طرح ان نوجوانوں کی مدد کر سکتی ہے جو دنیاوی آزمائشوں کا سامنا کر رہے ہیں؟
◄طلبہ کو افسیوں 5: 3-7 اور عبرانیوں 13: 4 پڑھنا چاہیے۔
شادی سے پہلے کے تعلقات کا دور جنسی تعلقات کے آغاز کے لیے نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مرد اور عورت اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کی روحانی اور بائبلی ترجیحات ایک جیسی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ ایک دوسرے کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے پر بھروسا کر سکیں اور دائمی رفاقت کے لیے تیار ہوں۔ اگر وہ ایک دوسرے کے کردار پر بھروسا کرنے کے قابل نہ ہوں، تو انہیں یہ تعلق ختم کر دینا چاہیے اور شادی نہیں کرنی چاہیے۔
کچھ معاشروں میں شادی کو غیر ضروری حد تک مہنگا بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جوڑے شادی میں تاخیر کرتے ہیں۔ بعض اوقات، لوگ کئی سال ایک ساتھ رہتے ہیں اور بچے پیدا کر لیتے ہیں، لیکن شادی نہیں کرتے کیونکہ وہ شادی کی مہنگی رسوم پوری نہیں کر سکتے۔ بعض جوڑے اپنی شادی کے اخراجات کی وجہ سے طویل عرصے تک مالی مشکلات میں مبتلا رہتے ہیں۔ کلیسیا کو ایک ایسا ایمان کا معاشرہ ہونا چاہیے جو شادی کا ایک مختلف ماڈل پیش کرے۔ مسیحی شادی ان افراد کے لیے ہے جو خدا اور ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر وقف ہوں۔ شادی کو اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ تاخیر یا مالی مشکلات کا سبب بنے۔
◄مسیحی شادی کن طریقوں سے معاشرتی شادی کی رسومات سے مختلف ہونی چاہیے؟
بچے جنسی معاملات کے حوالے سے باتیں سنتے اور دیکھتے ہیں۔ وہ لوگوں سے صحیح اور غلط کے بارے میں مختلف آراء سنتے ہیں۔ بچوں میں بالآخر جنسی جذبات، خواہشات اور آزمائشیں پیدا ہوں گی، اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ مسیحی والدین ان کے سامنے وضاحت کریں کہ خدا جنسی معاملات کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔ بچوں کو جنسی عمل کی تفصیلات نہیں معلوم ہونی چاہئیں، کیونکہ وہ شادی کے قابل نہیں ہوتے، اور اس طرح کی معلومات ان کے لیے غیر ضروری آزمائشوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
بچوں کو خدا کے منصوبے اور اس کی فرمانبرداری کی ذمہ داری کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آزمائش کا سامنا کریں گے اور خدا کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی جنسی خواہشات پر قابو پانے کے لیے تیار رہیں، جب تک کہ وہ شادی کے بندھن میں نہ بندھ جائیں۔
یہ درج ذیل مواد بچوں کو مسیحی نظریے کے مطابق جنسی معاملات کی تعلیم دینے کے لیے مفید ہے، بغیر جنسی عمل کی تفصیلات میں جائے۔ یہ سادہ انداز میں لکھا گیا ہے، جس طرح بچوں سے گفتگو کی جاتی ہے۔
بچوں سے گفتگو
◄پیدائش 2: 7، 18-24 کو بچے کے ساتھ تلاوت کریں ۔
یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا نے پہلے مرد اور عورت کو کس طرح پیدا کیا اور انہیں ایک خاص رشتے میں جوڑا۔
خدا نے شادی کو ایک خاص رشتے کے طور پر تخلیق کیا، جو ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہوتا ہے۔ شادی شدہ جوڑے کے درمیان ایک خاص محبت ہوتی ہے۔ ان کے تعلقات کا ایک حصہ ایک خاص خوشی ہے، جو وہ نجی طور پر اپنے جسموں کے ملاپ کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، جسے "جنسی تعلق" کہا جاتا ہے۔ خدا نے جنسی تعلق کو شوہر اور بیوی کے لیے خوشی کا ذریعہ بنایا اور بعض اوقات اس کے ذریعے بیوی کو حمل ٹھہرتا ہے۔
چونکہ جنسی تعلق ایک خاص خوشی فراہم کرتا ہے، اس لیے مرد اور عورت میں ایک فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے جسم کو دیکھیں اور چھوئیں اور ایک دوسرے کی توجہ حاصل کریں۔
بائبل میں خدا ہمیں سکھاتا ہے کہ جنسی تعلق شوہر اور بیوی کے لیے اچھا اور جائز ہے۔ لیکن خدا یہ بھی واضح کرتا ہے کہ شادی کے بغیر جنسی تعلق سختی سے منع ہے۔ خدا نے ہمیں جنسی معاملات کے بارے میں قوانین دیے ہیں اور ان کے کم از کم چار بڑے مقاصد ہیں:
(1) جنسی خوشی صرف شادی کے لیے بنائی گئی ہے۔
خدا نے جنسی تعلق کو شادی کے رشتے کا ایک خاص حصہ بنایا ہے۔ حالانکہ کسی بھی مرد اور عورت کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اس عمل میں شامل ہونا ممکن ہے، لیکن یہ خوشی صرف اس وقت حقیقی اور مکمل ہوتی ہے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ نکاح میں بندھ چکے ہوں۔ اس لیے جو لوگ شادی کے قابل نہیں ہیں، انہیں اس عمل میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
(2) جنسی خواہشات بہت طاقتور ہوتی ہیں۔
یہ غلط نہیں ہے کہ کسی میں جنسی خواہشات پیدا ہوں، کیونکہ خدا نے انہیں پیدا کیا ہے۔ لیکن جان بوجھ کر کسی ایسی چیز کو دیکھنا یا سوچنا جو ان خواہشات کو بڑھا دے، غلط ہے۔ اس لیے:
شادی کے بغیر، ایسا کوئی کام نہ کریں جو جنسی خواہشات کو بڑھائے، جیسے کسی کے جسم کو جان بوجھ کر دیکھنا یا اس کے بارے میں سوچنا۔
شادی کے بغیر، کسی کو ایسے طریقے سے نہ چھوئیں جو دونوں میں جنسی خواہشات کو بڑھائے۔
غلط کاموں کے بارے میں تصوراتی خیالات رکھنے سے گریز کریں۔
ایسی تصاویر یا ویڈیوز نہ دیکھیں جن میں لوگ غلط کام کر رہے ہوں اور انہیں دیکھ کر لطف اندوز نہ ہوں۔
ایسا لباس نہ پہنیں جو دوسروں میں غلط جذبات پیدا کرے یا انہیں گناہ کے خیالات کی طرف لے جائے۔
ایسا رویہ یا گفتگو نہ اپنائیں جو یہ ظاہر کرے کہ آپ غلط کام کرنا چاہتے ہیں۔
(3) ہماری خواہشات ہمیں صحیح اور غلط کی پہچان نہیں کرا سکتیں۔
جانور اپنے جذبات اور خواہشات کے تابع ہوتے ہیں۔ ہم جانور نہیں ہیں؛ ہم خدا کی صورت پر بنائے گئے ہیں۔ اسی لیے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور پھر صحیح فیصلے کرنے چاہییں۔ ہمیں اپنے جذبات اور خواہشات کے زیر اثر نہیں آنا چاہیے۔ بعض اوقات ہماری خواہشات درست ہوتی ہیں، اور بعض اوقات نہیں۔ ہماری خواہشات ہمیں یہ نہیں بتا سکتیں کہ کب جنسی تعلق جائز ہے۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کے بجائے، ہمیں خدا کی روح کی مدد سے بائبل کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
(4) جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔
خدا نے یہ ترتیب دی ہے کہ بچے محبت کے رشتے سے پیدا ہوں۔ اس نے ایسا نظام بنایا ہے کہ بچوں کو بڑے ہونے کے لیے کئی سال ایک ایسے خاندان میں گزارنے کی ضرورت ہوتی ہے جو ان سے محبت کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ وہ بچہ جس کے والد اور والدہ آپس میں شادی شدہ نہیں ہوتے، عام طور پر ماں اور باپ دونوں کی مکمل پرورش اور دیکھ بھال حاصل نہیں کر پاتا جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔
مندرجہ بالا چار حقیقتوں کو سمجھتے ہوئے، جو لوگ خدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور بہترین زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ خدا کی ہدایات پر عمل کریں گے۔ وہ ایسے محتاط عادات اپنائیں گے جو انہیں خدا کی نافرمانی کے وسوسوں سے بچنے میں مدد دیں گی۔
ایک بچے کی دعا
پیارے خدا،
میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے (لڑکا/لڑکی) بنایا۔ میں تیری شکرگزاری کرتا ہوں کہ تو نے شادی کے لیے ایک خاص اور اچھا منصوبہ بنایا ہے۔ برائے مہربانی میری مدد کر کہ میں اپنی پوری زندگی تجھ سے محبت کروں اور تیری فرمانبرداری کروں۔ تو ہر چیز دیکھتا اور جانتا ہے، برائے مہربانی مجھے سیدھے راستے پر چلنے میں مدد کر۔ میں چاہتا ہوں کہ میری سوچیں اور میرے اعمال تجھے پسند آئیں۔ مجھے ایک اچھا نمونہ بننے میں مدد دے تاکہ میرے دوست بھی تیری فرمانبرداری کریں۔ جب میں بڑا ہوں، تو مجھے ایک اچھا (شوہر/بیوی) بننے میں مدد دے، جیسا تو چاہتا ہے۔
آمین۔
دعا
اے آسمانی باپ،
تیرا شکر ہوکہ تو نے ہمیں اپنی صورت پر بنایا اور ہماری زندگی کو مقصد اور معنی بخشا۔ تیرا شکر ہو کہ تو نے جنس کو پیدا کیا تاکہ ہم تیری شبیہ کو منعکس کر سکیں۔
تیرا شکرہو کہ تو نے نکاح میں انسانی فطرت اور جنسی تعلقات کے لیے ایک اچھا منصوبہ اور مقصد مقرر کیا۔
ہم ان تمام طریقوں سے توبہ کرتے ہیں جن میں ہم نے تیرے کلام کی نافرمانی کی۔ براہ کرم ہمیں یسوع کے نام میں دھو، معاف کر، اور پاک کر (1 کرنتھیوں 6: 11)۔ ہمیں گناہ کی غلامی سے آزاد کر (رومیوں 6:6-7)۔ ہم اب اپنے بدن تیرے حضور پیش کرتے ہیں اور تیرے راست کام کرنے کا عہد کرتے ہیں (رومیوں 6: 13-14)۔
ہمیں راستبازی کی سوچ اور طرزِ عمل سیکھنے کے قابل بنا (1 تمتھیس 4: 7، زبور 23: 3)۔ ہمارے خیالات اور اعمال ہمیشہ تیری نظر میں پسندیدہ ہوں (زبور 19: 14)۔ تیرا شکر ہو کہ تو نے ہمیں ہر آزمائش میں فتح دینے کا وعدہ کیا ہے (1 کرنتھیوں 10: 13)۔
آمین۔
اسائنمنٹس
(1) گلتیوں 5: 16 -6: 9 پڑھیں اور اس سبق میں زیر بحث موضوعات پر غور کریں۔ درج ذیل سوالات کے جوابات تحریری طور پر دیں:
جسمانی خواہشات (5: 16) اور جسم کے اعمال (5: 19) میں کیا فرق ہے؟
جو لوگ جسم کے اعمال کرتے ہیں، ان سے متعلق دو کیا باتیں وعدہ کی گئی ہیں؟(5: 19-21، 6: 7 -8)
ایک ایماندار جسم کی خواہشات کی پیروی نہ کرنے کی طاقت کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ ( 5: 16، 22-23، 25)
آزمائش کے وقت ایماندار کو کون سی سچائیاں یاد رکھنی چاہئیں جو اسے فتح پانے میں مدد دیں؟ (اس حوالہ سے کم از کم چار بیان کریں۔)
اس حوالہ میں ایمانداروں کو کون سی ہدایات دی گئی ہیں؟ (کم از کم چار بیان کریں۔)
ایمانداروں کی ایک دوسرے کے لیے کیا ذمہ داریاں ہیں؟ (گلتیوں 6: 1-2، 6)
Free to print for ministry use. No changes to content, no profit sales.
SGC exists to equip rising Christian leaders around the world by providing free, high-quality theological resources. We gladly grant permission for you to print and distribute our courses under these simple guidelines:
No Changes – Course content must not be altered in any way.
No Profit Sales – Printed copies may not be sold for profit.
Free Use for Ministry – Churches, schools, and other training ministries may freely print and distribute copies—even if they charge tuition.
No Unauthorized Translations – Please contact us before translating any course into another language.
All materials remain the copyrighted property of Shepherds Global Classroom.