سبق کے مقاصد
اس سبق کے اختتام تک، طالب علم کو چاہیے کہ:
(1) خدا کے مقرر کردہ شادی کے منصوبے اور مقاصد سے وابستگی اختیار کرے۔
(2) مسیحی شادی کے لیے خدا کے اصولوں کی ذاتی طور پر فرمانبرداری کرے۔
(3) بائبلی شادی کے بارے میں دوسروں کو سکھانے کے قابل ہو۔
Search through all lessons and sections in this course
Searching...
No results found
No matches for ""
Try different keywords or check your spelling
1 min read
by Stephen Gibson
اس سبق کے اختتام تک، طالب علم کو چاہیے کہ:
(1) خدا کے مقرر کردہ شادی کے منصوبے اور مقاصد سے وابستگی اختیار کرے۔
(2) مسیحی شادی کے لیے خدا کے اصولوں کی ذاتی طور پر فرمانبرداری کرے۔
(3) بائبلی شادی کے بارے میں دوسروں کو سکھانے کے قابل ہو۔
ڈاکٹر رابرٹسن میکوئیلکن نے 12 سال تک جاپان میں بطور مشنری خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ کولمبیا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے صدر بنے۔ وہ ایک ممتاز مصنف، مقرر، اور معلم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی بیوی موریئل ایک دماغی بیماری میں مبتلا ہو گئی جو انسان کی سوچنے، یاد رکھنے، اور بات چیت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ جب بیماری اس حد تک پہنچ گئی کہ موریئل کو مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت پڑنے لگی، تو ڈاکٹر میکوئیلکن نے یونیورسٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تاکہ اپنی بیوی کی دیکھ بھال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں جو انہوں نے شادی کے وقت اپنی بیوی سے کیا تھا۔ وہ یہ مانتے تھے کہ اپنی بیوی کی دیکھ بھال کرنا یونیورسٹی کے صدر کے منصب پر فائز رہنے سے زیادہ اہم ہے۔
خدا نے شادی کا آغاز اس پہلے مرد اور عورت کے لیے کیا جسے اُس نے تخلیق کیا۔ شادی کو خدا نے انسانی فطرت کے مطابق اور انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنایا۔ جو کچھ بھی خدا ترتیب دیتا ہے اور جو کچھ وہ ہم سے چاہتا ہے، وہ ہمیشہ ہمارے لیے بہترین ہوتا ہے (استثنا 6: 24)۔ خدا نے ارادہ کیا کہ اُس کے مقرر کردہ شادی کے منصوبے سے ہر شریکِ حیات کو بہترین جذباتی، سماجی، اور روحانی بھلائی حاصل ہو۔
خدا نے فرمایا کہ شادی میں مرد اور عورت اپنے والدین کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ شادی دو لوگوں کو ایک ایسی دوستی اور شراکت میں باندھتی ہے جو کسی بھی دوسرے انسانی رشتے سے زیادہ مضبوط اور قریبی ہوتی ہے۔ شادی محض دو افراد کے درمیان محدود شراکت نہیں، بلکہ ان کی زندگیاں اس طرح یکجا ہو جاتی ہیں کہ ایک لحاظ سے وہ ایک شخص کی مانند ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ان کی انفرادی شخصیت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک خاص اور منفرد اتحاد ہے۔
بائبلی شادی ایک خوبصورت نعمت ہے، لیکن جو جوڑے اس کی خوبصورتی کا تجربہ کرنا اور اس کی برکات کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں دیکھنا ہوگا کہ بائبل اس بارے میں کیا سکھاتی ہے اور پھر سیکھے گئے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ایک خوشحال شادی کے لیے محنت اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
بائبلی شادی رفاقت کے لیے ہے
پیدائش کی کتاب میں خدا کی طرف سے شادی کے قیام کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بیان کا ہر حصہ شادی کو وقار بخشتا ہے:
اور خُداوند خُدا نے کہا کہ آدمؔ کا اکیلا رہنا اچھّا نہیں۔ مَیں اُس کے لِئے ایک مددگار اُس کی مانِند بناؤں گا۔ (پیدائش 2: 18)۔
جس طرح خدا باپ، بیٹا، اور روح القدس آپس میں رفاقت رکھتے ہیں، اسی طرح خدا نے ہمیں بھی سماجی مخلوق بنایا ہے۔ ہمیں گفتگو، قربت، اور رفاقت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ خدا نے فرمایا کہ تنہائی اچھی نہیں!
خدا نے آدم کی پسلی سے ایک خوبصورت عورت تخلیق کی—جو خدا کی شبیہ پر برابر تخلیق کی گئی، قدر میں مساوی، مگر تخلیقی ساخت میں مختلف تھی—اور اس نے آدم کو مکمل کیا۔ وہ "خالق کے آخری اور کامل ترین کام کے طور پر آدم کے لیے خاص عزت کے ساتھ پیش کی گئی۔"[1]
شادی ایک خوشی بھرا اتحاد ہونا چاہیے
جب آدم نے کہا، " یہ تو اب میری ہڈِّیوں میں سے ہڈّی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے ۔" (پیدائش 2: 23)، تو وہ عزت اور خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔ آدم نے یہ نہیں کہا، "بالآخر ایک غلام! اب میرے کپڑے دھونے، کھانے پکانے، میری پیٹھ دبانے، اور میرے کام کرنے والا کوئی ہے!" بلکہ اس نے کہا، "آخرکار ایک مددگار جو مجھے مکمل کرتی ہے!"
شادی برابری کا اتحاد ہے
"۔۔۔۔اُس کے لِئے ایک مددگار اُس کی مانِند "(پیدائش 2: 18)
خدا نے عورت کو اس طرح تخلیق کیا کہ وہ مرد کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہو اور اسے مکمل کرے۔
میتھیو ہنری لکھتے ہیں، "عورت آدم کی پسلی سے پیدا کی گئی؛ نہ تو اس کے سر سے تاکہ وہ اس پر حکمرانی کرے، نہ اس کے پیروں سے تاکہ اسے روندا جائے، بلکہ اس کی پسلی سے تاکہ وہ اس کے برابر ہو، اس کے بازو کے نیچے تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے، اور اس کے دل کے قریب تاکہ وہ اس سے محبت کرے۔ [2]" عورت نہ مرد سے کمتر تھی اور نہ برتر، بلکہ وہ اس کے برابر تھی۔
شادی ایک عہد کا اتحاد ہے
اِس واسطے مَرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بِیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔ (پیدائش 2: 24)۔
مضبوط شادیاں ہمیشہ جذباتی محبت پر قائم نہیں رہتیں (کیونکہ جذبات مستقل نہیں ہوتے)، نہ ہی محض لذت پر (اگرچہ ایک اچھی شادی میں خوشی ہوتی ہے)، اور نہ ہی صرف ذاتی تکمیل پر (اگرچہ ایک مستحکم شادی تسکین بخشتی ہے)۔ شادی کے یہ فوائد خود بخود شادی کو مضبوط نہیں بناتے، بلکہ ایک مضبوط شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ شادی ایک اٹوٹ عہد پر مبنی ہوتی ہے—ایک مرد اور ایک عورت جو زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کے لیے مخصوص اور وفادار ہوں۔
شادی ایک شفاف، پُراعتماد اور ایک دوسرے کو قبول کرنے والا رشتہ ہونا چاہیے— " اور آدمؔ اور اُس کی بِیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے۔" (پیدائش 2: 25)۔ چونکہ گناہ نے ابھی تک پہلے جوڑے کی معصومیت کو خراب نہیں کیا تھا، ان کی شادی بغیر کسی فیصلے، شرمندگی اور خوف کے تھی۔ نیا عہد نامہ ہمیں سکھاتا ہے: " بیاہ کرنا سب میں عِزّت کی بات سمجھی جائے اور بِستر بے داغ رہے "... (عبرانیوں 13: 4)۔
ایک مضبوط شادی اس جگہ ممکن نہیں جہاں عدم تحفظ، بے اعتمادی، شک یا خوف ہو، جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کی شادی سے وابستگی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں۔ مضبوط شادیوں کے لیے ایک ایسا وعدہ ضروری ہے جو صرف ایک شریکِ حیات کی وفات پر ختم ہو (رومیوں 7: 1-2)۔
خدا کی مرضی ہے کہ شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان تاحیات عہد ہو (متی 19: 3-6)۔ پولس نے کہا کہ جب کسی ایماندار کا غیر ایماندار شریکِ حیات اسے چھوڑ دے تو وہ اس بندھن میں نہیں رہتا (1 کرنتھیوں 7: 15)، لیکن ایک ایماندار کو غیر ایماندار شریکِ حیات سے علیحدگی نہیں اختیار کرنی چاہیے (1 کرنتھیوں 7: 12-14، 16)۔ پولس نے پہلے ہی لکھا تھا کہ خداوند کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایماندار اپنے شریکِ حیات کو نہ چھوڑے، لیکن اگر وہ چھوڑ دے تو کسی اور سے شادی نہ کرے (1 کرنتھیوں 7: 10-11، متی 5: 31-32، متی 19: 9)۔
عہد پر مبنی محبت خود کو دینے والی، عزت کرنے والی اور خوبصورتی بخشنے والی ہوتی ہے، چاہے رشتہ مشکل ہی کیوں نہ ہو (1 کرنتھیوں 13)۔ کمزور وابستگی نیم دلی کوشش، جذباتی لاتعلقی، پیچھے ہٹنے اور آزمائش کا سبب بنتی ہے۔
ایک شوہر عہد کی محبت کو اس وقت زندہ کرتا ہے جب وہ اپنی بیوی کو کبھی ترک نہیں کرتا، چاہے وہ غیر جوابی، بے عزتی کرنے والی یا بیمار ہو۔ ایک بیوی عہد کی محبت کو اس وقت زندہ کرتی ہے جب وہ اپنے شوہر کا احترام کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے کا انتخاب کرتی ہے، مسیح کی خاطر، چاہے اس کا شوہر اس سے محبت نہ بھی کر رہا ہو۔
اس کی محبت اس کا احترام جیتتی ہے، اور اس کا احترام اس کی محبت جیتتا ہے، اور یوں وہ دونوں ساتھ بڑھتے رہتے ہیں!
◄گر لوگ یہ سوچ کر شادی کریں کہ بعد میں وہ اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں اگر وہ شادی میں خوش نہ ہوں، تو اس کے کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں؟ اگر کوئی شخص یہ یقین رکھے کہ اس کی شادی مستقل ہے، تو اس یقین سے مکمل وابستگی میں کیا فرق آتا ہے؟
بائبلی شادی جنسی تسکین اور نسل کشی کے لیے ہے
خدا نے جنسی تعلق کو مکمل طور پر خوشگوار اور بےحد طاقتور بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو جسمانی، جذباتی اور روحانی طور پر ایک ہونے کے لیے بنایا گیا ہے۔ صحت مند ازدواجی زندگی نہ صرف مسحور کن ہوتی ہے اور قربت لاتی ہے، بلکہ یہ شادی کے رشتے کو مضبوطی بھی بخشتی ہے۔ جو لوگ بائبلی جنسی اصولوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے جنسی تعلق خدا کا ایک انمول تحفہ ہے جو شادی کے دائرے میں مکمل لطف اندوزی کے لیے دیا گیا ہے۔[3]
◄طلبہ کو 1 کرنتھیوں 7: 1-5 اور عبرانیوں 13: 4 کو گروپ کے لیے پڑھنا چاہیے۔
1 کرنتھیوں کی ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ شادی کا ایک مقصد جنسی خواہشات کو پورا کرنا ہے۔ شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے کو اپنا آپ دے دیا ہے اور اپنے جسم پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ ترک کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی شدہ شخص کو صرف اپنی مرضی کے مطابق ہی نہیں، بلکہ اپنے شریکِ حیات کی خواہشات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ یہ آیات یہ نہیں کہتیں کہ کوئی اپنی مرضی کے خلاف جنسی تعلق پر مجبور کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ شریک حیات کو ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھنے اور پورا کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔
یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کو ایک دوسرے کو اس حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ ایک مختصر مدت کے لیے جنسی پرہیز، جیسے کہ روزے کے دوران، جائز ہے، لیکن طویل عرصے کی علیحدگی ناپسندیدہ خواہشات کی وجہ سے آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ بعض اوقات جوڑے کئی مہینوں یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، جیسے کہ کام یا تعلیم کے لیے کسی دور دراز مقام پر جانے کی صورت میں۔ ایسے فیصلے سے پہلے، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ آیا ان کا یہ فیصلہ خدا کے منصوبے کے مطابق ہے یا نہیں، کیونکہ طویل جدائی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
بعض لوگ ایسا طرزِ زندگی اپنانا پسند کرتے ہیں جس میں بچوں کی خواہش شامل نہ ہو، لیکن بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا اس وقت خوش ہوتا ہے جب والدین دیندار اولاد پیدا کرتے ہیں (ملاکی 2: 15)۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خدا صرف افزائشِ نسل نہیں چاہتا، بلکہ وہ نیک اولاد چاہتا ہے۔ والدین کو خدا نے یہ بلاہٹ دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مسیح کی پیروی کرنا سکھائیں۔
بائبلی شادی مسیح کے لیے ہے
◄ طلبہ کو 1 پطرس 3: 1-7 اور افسیوں 5: 22-33 کو جماعت کے لیے پڑھنا چاہیے، اور گفتگو کے دوران ان حوالہ جات کو کھولے رکھنا چاہیے۔
افسیوں 5: 30-32 میں، روح القدس شادی کے ایک گہرے معنی کو ظاہر کرتا ہے، جو یسوع کے آنے سے پہلے تک پوشیدہ تھا۔ شادی ایک زمینی عکس ہے— ایک عکاسی— یسوع مسیح اور اس کی کلیسیا کے تعلق کی۔
پولس اس حصے کا آغاز ایمانداروں کو روح سے معمور ہونے کی نصیحت سے کرتا ہے (افسیوں 5: 18)۔ اسی پس منظر میں وہ شادی کے بارے میں ہدایات دیتا ہے۔
روح سے معمور بیوی اپنے شوہر (جو اس کا "سر" ہے) کے تابع رہتی ہے، جس طرح ایماندار یسوع کے تابع رہتے ہیں (افسیوں 5: 24، 32؛ 1 پطرس 3: 1 بھی دیکھیں)۔ یہ طریقہ اس کے لیے یسوع اور اپنے شوہر دونوں کی عزت کا اظہار ہے۔ بیوی کو اپنے شوہر کی قیادت کو قبول کرنا چاہیے، خواہ اس کا شوہر ایماندار نہ بھی ہو۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے، تو اس کے غیر نجات یافتہ شوہر کے مسیح میں ایمان لانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ضروری ہے کہ ہر بیوی اپنی فرما نبرداری میں خداوند کو مدنظر رکھے۔ وہ اپنے شوہر کے لیے نہیں بلکہ خداوند کے لیے اور اس کی خاطر تابع ہوتی ہے۔ اس کی نظر یسوع پر ہوتی ہے، جو واحد بے عیب ہستی ہے۔ ایک بیوی کی اپنے شوہر کے لیے رضا کارانہ فرمانبرداری یسوع کے لیے عبادت کا عمل ہے۔
بائبلی فرما نبرداری، محبت کی طرح، زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ بائبلی فرمانبرداری ایک تحفہ ہے جو بیویاں مسیح کی تعظیم میں اپنے شوہروں کو پیش کرتی ہیں (افسیوں 5: 22-24)۔ ہر چیز میں فرمانبرداری یسوع کی عبادت کا عمل ہے۔[4]
بیوی کی شوہر کے تابع ہونے کی روش، اس کے لیے عزت (افسیوں 5: 33) اور روح القدس سے معمور زندگی (افسیوں 5: 18-21) کا ایک حصہ ہے۔ یہ عزت جو نرمی اور خاموش مزاج سے ظاہر ہوتی ہے، خدا کی نظر میں نہایت قیمتی ہے (1 پطرس 3: 4)۔
روح القدس سے معمور دولہا اپنی دلہن سے اسی طرح محبت کرے گا جیسے یسوع اپنی کلیسیا سے محبت کرتا ہے (افسیوں 5: 25)۔ دولہا کو اپنی بیوی سے ویسے ہی محبت کرنی چاہیے جیسے وہ اپنے بدن سے کرتا ہے (افسیوں 5: 28-29)۔ اسے وہی روحانی قربانی دینی چاہیے جو یسوع نے اپنی کلیسیا کے لیے دی، جب اس نے اپنی جان اس کے لیے دے دی۔ یہی اس کا خدا کے تابع ہونے کا عمل ہے (افسیوں 5: 21)۔ ایک مفسر نے اس کو یوں بیان کیا:
جس طرح یسوع نے کلیسیا کو بچانے کے لیے صلیب پر دکھ سہا، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کی خوشی کے لیے خود کو قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اس کی کفالت کے لیے محنت کرے، اس کی ضروریات پوری کرے، اگر ضرورت ہو تو اپنی راحت اور آرام کو ترک کرے تاکہ بیماری میں اس کا خیال رکھ سکے؛ خطرے میں اس کی راہنمائی کرے، اگر وہ کسی پریشانی میں ہے تو اس کی حفاظت کرے، جب وہ چڑچڑی ہو تو صبر کرے، جب وہ اسے دور دھکیل رہی ہو تو اس کے ساتھ رہے، جب وہ روحانی الجھن میں ہو تو اس کے ساتھ دعا کرے، اور اگر ضرورت پڑے تو اس کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے تیار ہو۔ اگر کسی کشتی کے غرق ہونے کا خطرہ ہو اور صرف ایک تختہ بچا ہو تو کیا شوہر کو اپنی بیوی کو بچانے کے لیے اپنی جان کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے؟ لیکن اس سے بڑھ کر، شوہر کو اپنی بیوی کی نجات کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنانا چاہیے۔ اسے اپنی بیوی کی روحانی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے… اور اسے راہنمائی دینی چاہیے، اگر اسے مشورے کی ضرورت ہو تو اسے صحیح مشورہ دینا چاہیے، اور اس کے لیے نجات کی راہ کو آسان بنانا چاہیے۔ اگر ایک شوہر مسیح کی قربانی اور محبت کی روح رکھتا ہے تو وہ اپنی بیوی اور خاندان کی نجات کے لیے کسی قربانی کو بڑا نہیں سمجھے گا۔[5]
دولہا کو اپنی دلہن کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے مسیح نے اپنی کلیسیا کو پاک کیا (افسیوں 5: 26-27)۔
1 پطرس 3: 7میں لکھا ہے کہ شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ سمجھداری سے زندگی گزارنی چاہیے، یعنی وہ اس کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ شوہر کو اپنی بیوی کو جاننے اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس آیت میں بیوی کو "نازک ظرف " کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے اپنے شوہر کی طرف سے خاص توجہ اور خیال کی ضرورت ہے۔ شوہر کو نہ صرف جسمانی نقصان سے بلکہ فکروں اور جذباتی دباؤ سے بھی اپنی بیوی کی حفاظت کرنی چاہیے۔
شوہر کو اپنی بیوی کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ضروری ذریعہ فراہم کرنا چاہیے: وفاداری، غیر مشروط محبت، سمجھداری، دعا، مشورہ، تعلیم، اور مہربانی۔
جب شوہر اپنی بیوی سے ایسی محبت کرتا ہے تو وہ خوشی حاصل کرتا ہے۔ پولس کہتا ہے، "جو اپنی بِیوی سے مُحبّت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے مُحبّت رکھتا ہے۔" (افسیوں 5: 28)۔ جو شوہر اپنی بیوی سے اس قربانی کے جذبے کے ساتھ محبت کرتے ہیں، وہ نہ صرف خداوند سے بلکہ ممکنہ طور پر اپنی بیوی کی عزت، محبت اور وفاداری سے بھی نوازے جاتے ہیں۔
◄وہ کون سی مخصوص چیزیں ہیں جو ایک شوہر کو اپنی بیوی کی روحانی مدد کے لیے کرنی چاہئیں؟
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان آیات میں دیے گئے احکامات کس طرح دیے گئے ہیں۔ شوہر کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنی بیوی پر زبردستی اختیار نافذ کرے۔ بیوی کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی تابعداری کرے، لیکن شوہر کو یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اسے تابعداری پر مجبور کرے۔ بلکہ، شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے محبت کرے اور ضرورت پڑنے پر اس کی دیکھ بھال کے لیے قربانی دے۔ اسی طرح، بیوی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عزت کرے، لیکن اسے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے شوہر سے اپنی دیکھ بھال کا مطالبہ کرے۔
شوہر کی ترجیح یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنا اختیار برقرار رکھے بلکہ وہ اپنی بیوی کی محبت اور دیکھ بھال کرے۔ اسی طرح، بیوی کی ترجیح یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی دیکھ بھال کے لیے مطالبہ کرے بلکہ وہ اپنے شوہر کی عزت کرے۔
پطرس رسول شوہر کو خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ اپنی بیوی کی صحیح دیکھ بھال نہیں کرتا تو اس کی دعائیں رکاوٹ کا شکار ہو جائیں گی۔ پولس اور پطرس کے الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو مرد اپنی بیوی کی پرواہ نہیں کرتا وہ خدا سے بھی محبت نہیں کرتا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔ اور جو عورت اپنے شوہر کی عزت نہیں کرتی، وہ خدا کی بھی عزت نہیں کرتی جیسا کہ اسے کرنی چاہیے۔ شادی میں ہمارا برتاؤ ہمارے خدا کے ساتھ تعلق کو متاثر کرتا ہے۔
خدا نے شادی کو مستقل رکھنے کے لیے تخلیق کیا۔ شادی میں، ایک مرد اور عورت وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پوری زندگی ایک دوسرے کے وفادار رہیں گے۔
بائبل میں درج ہے کہ یسوع نے شادی کے بارے میں فریسیوں سے گفتگو کے دوران کیا فرمایا تھا۔
◄ ایک طالب علم متی 19: 3-8 کی آیات جماعت میں پڑھے۔
یسوع نے کہا کہ خدا چاہتا تھا کہ شادی دائمی ہو۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ طلاق ان لوگوں کے لیے مقرر کی گئی جو خدا کی پیروی نہیں کر رہے۔
خدا نے شادی کو مستقل بنانے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ شادی کی مستقل حیثیت بچوں کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ شادی کے لیے خدا کے منصوبے کی فرمانبرداری ایک ایسا بہترین ماحول پیدا کرتی ہے جس میں بچوں کی پرورش کی جا سکے۔جب والدین اپنی شادی اور خاندان میں خدا کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں، تو وہ خدا ترس نسل کی پرورش کر سکتے ہیں (ملاکی 2: 15)۔
خدا نے انسانی زندگی اس طرح بنائی ہے کہ بچوں کو بالغ ہونے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اس دوران، وہ اپنے والدین پر تحفظ، ضروریات کی فراہمی، اور تربیت کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ یہ جانوروں سے مختلف ہے، جو ایک یا دو سال میں بالغ ہو جاتے ہیں۔ انسانوں کو پختہ کردار کی ترقی کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ خدا نے خاندان کو بچوں کی پرورش کا ذریعہ بنایا ہے۔ معاشرتی مسائل کی ایک بڑی وجہ وفادار والدین کے بغیر خاندانوں کا فقدان ہے۔
شادی کے دوران، میاں اور بیوی ایک دوسرے سے اپنی پوری زندگی وفادار رہنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ہر ثقافت میں اس وعدے کو ظاہر کرنے کے لیے مخصوص رسم و رواج اور تقریبات موجود ہیں۔ شادی کی تقریب کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت عوامی طور پر یہ اعلان کریں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر کے عہد میں بندھ رہے ہیں۔
زیادہ تر حکومتیں شادی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھتی ہیں۔ شادی کے قوانین جائیداد کی ملکیت، بچوں کی پرورش، اور وراثت پر اثر ڈالتے ہیں۔
یہاں شادی کے کچھ روایتی عہد دیے گئے ہیں جو کئی شادیوں میں استعمال ہوتے ہیں:
میں تمہیں اپنا قانونی [شوہر/بیوی] بناتا ہوں، آج کے بعد سے، خوشی میں یا غم میں، امیری میں یا غریبی میں، بیماری میں یا صحت میں، محبت اور عزت کے ساتھ، یہاں تک کہ موت ہمیں جدا کر دے، خدا کے پاک حکم کے مطابق؛ اور میں اس کا وعدہ تم سے کرتا / کرتی ہوں۔
رومانوی جذبات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اس لیے، شادی کو ان جذبات کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جا سکتا جو وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ شادی کے عہد کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے وفاداری کا وعدہ کرتے ہیں جب تک کہ وہ زندہ ہیں، اور یہ وعدہ کسی شرط پر منحصر نہیں ہوتا۔
چونکہ شادی دائمی ہے، اس لیے مسیحیوں کو کبھی بھی ایسے جملے نہیں بولنے چاہئیں جو یہ ظاہر کریں کہ وہ رشتے کے مسائل کی وجہ سے شادی ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ مثلاً، "مجھے تم سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی" یا "شاید ہمیں طلاق لے لینی چاہیے" جیسے جملے نہیں کہنا چاہئیں۔ بعض اوقات، لوگ ان جملوں کو اس نیت سے کہتے ہیں کہ دوسرے کو یہ احساس ہو کہ شادی ان کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اپنے رویے میں بہتری لائے۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے، دوسرا فریق اپنا دفاع کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے، "ٹھیک ہے، اگر تم چاہتے ہو تو ہم طلاق لے سکتے ہیں۔" اس طرح، دونوں فریق اپنی خواہشات کی بنیاد پر شادی ختم کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں، اور رشتہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔
◄شادی محبت کے محض اظہار سے نہیں بلکہ عہد و پیمان سے کیوں شروع ہوتی ہے؟
◄کیا کوئی اپنی شادی کے ابتدائی تجربات کے بارے میں شیئر کرنا چاہے گا، جب اس نے فوائد کی امید تو کی مگر اس کے لیے درکار عہد کا احساس نہیں تھا؟
◄ایک طالب علم 2 کرنتھیوں 6: 14-18 کی آیات جماعت میں پڑھے۔
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر کوئی ایماندار بےایمانوں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رکھے تو اس کی خدا کے ساتھ وابستگی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ جس طرح ایک ایماندار کسی ایسے شخص کے ساتھ عبادت نہیں کر سکتا جو شیطان کی پرستش کرتا ہو، اسی طرح وہ بےایمانوں کی طرزِ زندگی اور ترجیحات کو بھی نہیں اپنا سکتا۔ یہ انتباہ مختلف قسم کے تعلقات پر لاگو ہو سکتا ہے، بشمول کاروباری شراکت داری۔
شادی سب سے قریبی انسانی شراکت داری ہے۔ ایک ایماندار کو کبھی بھی کسی ایسے شخص سے شادی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے جو ایک پختہ ایماندار نہ ہو (1 کرنتھیوں 7: 39)۔ اگر کوئی ایماندار کسی بےایمان سے شادی کر لے تو وہ اپنی ازدواجی زندگی میں بہت سی رکاوٹوں اور دکھوں کا سامنا کرے گا، خاص طور پر بچوں کی پرورش اور طرزِ زندگی کے فیصلے کرتے وقت۔
اگر شوہر اور بیوی دونوں ایماندار ہیں لیکن مختلف کلیسیاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، تو انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اہم روحانی معاملات پر ہم آہنگ ہیں۔ انہیں پہلے سے منصوبہ بنانا چاہیے کہ شادی کے بعد وہ ایک ہی مقامی کلیسیا کا حصہ بنیں گے۔
(1) خدا کے اصل منصوبے کا احترام کریں اور شادی میں اپنے منفرد کرداروں کی قدر کریں۔
شوہر کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی بیوی خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے، ایک مددگار جو اس کی تکمیل کرتی ہے۔ اسے اپنی جان بیوی کی حفاظت اور اس کی روحانی، جذباتی اور جسمانی بھلائی کے لیے قربان کرنی چاہیے۔ اسے شکرگزاری کے ساتھ اپنی بیوی سے محبت کرنی چاہیے، یہاں تک کہ جب وہ اس محبت کی مستحق نہ ہو، یہ جانتے ہوئے کہ صرف خدا ہی اسے بدل سکتا ہے جہاں تبدیلی کی ضرورت ہو۔ خدا اس کی فرمانبرداری اور ایمان کو قبول دے گا۔
بیوی کو چاہیے کہ وہ خدا کی مرضی میں اپنے شوہر کو اپنا سربراہ مانے، ہر ممکن طریقے سے اس کا احترام کرے، اور اس کی قیادت کو عزت دے۔ اسے فرمانبرداری اور عزت کا انتخاب کرنا چاہیے، یہاں تک کہ جب اس کا شوہر غلطی کرے اور اس قابل نہ ہو۔ اسے دعا کرنی چاہیے کہ خدا اس میں وہ تبدیلی لائے جس کی ضرورت ہے۔ خدا اس کی فرمانبرداری اور ایمان کو قبول کرے گا۔
(2) شادی شدہ جوڑوں کو روحانی اور جسمانی قربت کو فروغ دینا چاہیے۔
انہیں چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو بغیر کسی خوف، تنقید، دوسروں سے موازنہ، بدسلوکی، خودغرض ہوس، یا بےعزتی کے قبول کریں۔ انہیں خدا اور ایک دوسرے کے سامنے شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔
(3) جب وہ ناکام ہوں تو خدا کے فضل کی مثال کو اپنائیں۔
جب آدم اور حوا گناہ میں گر کر شرمندگی اور پچھتاوے میں مبتلا ہوئے، تو خدا نے ان کی ناکامیوں کو بحال کرنے کے لیے اپنی قدرت ظاہر کی۔ خدا نے ان کی برہنگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی دی اور ان کے لیے لباس بنایا (پیدائش 3: 21)۔ خدا کا یہ محبت بھرا عمل اس کے فضل اور مسیح کے ذریعے نجات کے وعدے کی تصویر تھا۔ مسیح ہمیں معافی اور بحالی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، شادی شدہ جوڑے، اگر کسی بھی طرح ناکام ہو جائیں، تو وہ شرمندگی کے بغیر قربت کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔
شادی انسان کی ایجاد نہیں بلکہ خدا کی تخلیق ہے۔ اس لیے ہمیں ہدایت کے لیے دنیا یا ثقافت کی طرف نہیں بلکہ خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ وہی واحد ذات ہے جو ہماری شادیوں کو مضبوط، پائیدار اور بابرکت بنا سکتی ہے۔ لیکن ہم کبھی بھی وہ مثالی شریک حیات نہیں بن سکتے جو ہمیں بننا چاہیے جب تک کہ ہم روح القدس کی رہنمائی حاصل نہ کریں!
◄ شادی کے بارے میں کون سا سچ ہے جسے اکثر لوگ بھول جاتے ہیں؟
◄ کلیسیا کو وہ کون سے اصول سکھانے چاہئیں جو شادیوں کو مضبوط بنا سکیں؟ آپ کے ارد گرد کے ماحول میں کون سی سمجھ خاص طور پر کمزور نظر آتی ہے؟
اے آسمانی باپ،
ہمیں شادی کا یہ خوبصورت تحفہ دینے کے لیے تیرا شکر ہو۔ ہم تیری طرف سے دیے گئے اس بابرکت منصوبے کی تعریف کرتے ہیں۔
ہمیں وہ عہد نبھانے کی قوت دے جو تیری مرضی کے مطابق شادی کو کامیاب بنائے۔ ہمیں ایسا پیار کرنے کی توفیق دے جو مسیح اور کلیسیا کے درمیان محبت کی مانند ہو۔
ہمیں اپنی ثقافتی روایتی سوچ سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا احترام کرنے کی سمجھ عطا کر۔
ہم تیرے روح القدس کے کام کے لیے شکر گزار ہیں جو خوشی سے بھرے ، مضبوط رشتے ممکن بناتا ہے۔
آمین۔
(1) اس سبق سے دو اصول منتخب کریں جو آپ کے لیے نئے تھے۔ ہر ایک اصول کی وضاحت کرتے ہوئے ایک پیراگراف لکھیں، جس میں آپ اپنے الفاظ میں اس کی وضاحت کریں۔
(2) درج ذیل موضوعات میں سے کسی ایک پر مختصر پریزنٹیشن تیار کریں۔ (کلاس لیڈر ہر طالب علم کو ایک موضوع تفویض کرے گا۔) اگلی کلاس کے آغاز میں اپنی پریزنٹیشن پیش کریں۔
شادی میں اتحاد کے لیے خدا کا منصوبہ
شادی کے بائبلی مقاصد
شادی میں خدا کے دیے گئے کردار اور ان کرداروں کو پورا کرنے کے لیے روح سے معمور ہونے کی اہمیت
شادی کی مستقل مزاجی
(3) اگر آپ غیر شادی شدہ ہیں لیکن مستقبل میں شادی کا ارادہ رکھتے ہیں، تو خدا کے اصولوں کی پابندی کرنے کے عہد میں دو پیراگراف لکھیں۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں، تو اپنی شادی میں خدا کے اصولوں کی پیروی کے عہد میں دو پیراگراف لکھیں۔
15 lessons · اردو
Your print request has been recorded. Your download should begin shortly.
Download Print-Ready FileFree to print for ministry use. No changes to content, no profit sales.
SGC exists to equip rising Christian leaders around the world by providing free, high-quality theological resources. We gladly grant permission for you to print and distribute our courses under these simple guidelines:
All materials remain the copyrighted property of Shepherds Global Classroom.
Questions? info@shepherdsglobal.org
Total
$21.99Added to Cart!
By submitting your contact info, you agree to receive occasional email updates about this ministry.
Download audio files for offline listening
No audio files are available for this course yet.
Check back soon or visit our audio courses page.
Share this free course with others