سبق کے مقاصد
اس سبق کے اختتام تک، طالب علم کو چاہیے کہ:
(1) بانجھ پن کو بائبلی نقطۂ نظر سے سمجھے اور اس کا درست جواب دے۔
(2) ہر انسان کی قدر کرے کیونکہ وہ خدا کی شبیہ پر خلق کیا گیا ہے۔
Search through all lessons and sections in this course
Searching...
No results found
No matches for ""
Try different keywords or check your spelling
1 min read
by Stephen Gibson
اس سبق کے اختتام تک، طالب علم کو چاہیے کہ:
(1) بانجھ پن کو بائبلی نقطۂ نظر سے سمجھے اور اس کا درست جواب دے۔
(2) ہر انسان کی قدر کرے کیونکہ وہ خدا کی شبیہ پر خلق کیا گیا ہے۔
بُسابہ ایشیائی ملک میں پیدا ہوئی۔ وہ اس وقت بہت خوش تھی جب اس کی شادی ایک نوجوان کاروباری شخص سے ہوئی، اور دونوں نے مل کر ایک خوشحال زندگی گزارنے کی امید کی۔ کئی سال گزر گئے، لیکن بُسابہ کے ہاں اولاد نہ ہوئی۔ ایک ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ بُسابہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ اس کے شوہر کو بہت دُکھ اور غصہ آیا۔ آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بُسابہ کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کر لے گا۔ اب بُسابہ بوڑھی ہو چکی ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں اکیلی رہتی ہے اور اس کے رشتہ دار اس کی زندگی میں شامل نہیں ہیں۔ چونکہ وہ بدھ مت کی پیروکار ہے، اس لیے وہ امید رکھتی ہے کہ کسی اگلی زندگی میں اس کے ہاں اولاد ہوگی اور اس کی شرمندگی ختم ہو جائے گی۔
◄ اگر آپ بُسابہ کی برادری میں ایک پاسٹر ہوتے تو آپ اس سے کیا کہتے؟ بُسابہ کے لیےمسیحی پیغام کیا ہے؟
اس سبق میں ہم بانجھ پن کے مسئلے کو بائبلی نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔
جیسے ہی خدا نے پہلے مرد اور عورت کو پیدا کیا، اس نے انہیں ہدایت دی کہ وہ بچے پیدا کریں، نسل بڑھائیں اور زمین کو معمور کریں (پیدائش 1: 28)۔
عہدِ عتیق میں، خدا بعض اوقات برکتوں کا وعدہ صرف کسی ایک فرد سے نہیں بلکہ ایک خاندان کی کئی نسلوں تک کرتا تھا۔ مثال کے طور پر، خدا نے ابرہام سے برکت دینے کا وعدہ کیا جو خود ابرہام کو نہیں بلکہ اس کی آنے والی نسلوں کو ملنی تھی ۔ خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا کہ اس کی اولاد سمندر کی ریت کی مانند بے شمار ہوگی۔ ابرہام کا بیٹا، اضحاق، معجزانہ طور پر پیدا ہوا۔ پھر جب ہر نسل کے ساتھ خاندان کی تعداد بڑھتی گئی، تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ خدا اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے۔
خروج 23: 25-27 میں خدا نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا کہ جب وہ نئے ملک میں داخل ہوں گے تو وہ ان کو برکت دے گا۔ خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے کھانے کو برکت دے گا، بیماری کو دور کرے گا، بانجھ پن اور اسقاطِ حمل کو ختم کرے گا، اور ان کے دشمنوں کو تباہ کر دے گا۔ یہ وعدے اسرائیل کی فرمانبرداری پر منحصر تھے، اور خدا نے اپنی شرائط بیان کیں (جیسا کہ خروج 23: 32 میں دیا گیا حکم)۔ یہ وعدے پوری قوم کے لیے کیے گئے تھے، نہ کہ کسی فردِ واحد کے لیے۔ افراد کا حال قومی فرمانبرداری یا نافرمانی سے متاثر ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص بیمار ہو سکتا تھا یا کوئی عورت بانجھ ہو سکتی تھی، لیکن یہ لازمی نہیں تھا کہ یہ ان کے اپنے گناہ کا نتیجہ ہو، بلکہ یہ اس قوم کے خدا سے وفادار نہ ہونے کا نتیجہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے ایک بانجھ عورت کا بانجھ ہونا اس کے ذاتی گناہ کی سزا نہیں ہو سکتا تھا۔
استثنا 7: 12-15 میں بنی اسرائیل کے لیے خدا کی برکتوں کا وعدہ ہے۔ ان برکتوں میں خوشحالی، بیماریوں سے محفوظ رہنا، اور انسانوں و جانوروں میں بانجھ پن کا نہ ہونا شامل ہے۔ آیت 12 میں لکھا ہے کہ اگر بنی اسرائیل خدا کے احکام پر عمل کریں گے تو انہیں یہ برکتیں ملیں گی، کیونکہ خدا نے ان کے باپ دادا سے عہد باندھا تھا۔ اس لیے اگر اسرائیل کی قوم خدا کے ساتھ وفادار نہ رہتی، تو کوئی شخص غریب ہو سکتا تھا یا کوئی عورت بانجھ ہو سکتی تھی۔
بچے خدا کے منصوبے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کورس کے دیگر حصوں میں، ہم نے دیکھا کہ بچوں کو اس لیے قدر کی نظر سے دیکھنا چاہیے کیونکہ وہ خدا کی شبیہ پر بنائے گئے ہیں۔ ہر بچہ قیمتی ہے اور اسے محبت اور توجہ کے ساتھ پروان چڑھانا چاہیے۔ تاہم، بعض اوقات لوگ بچوں کی قدر اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل میں خاندان کو مضبوط رکھ سکتے ہیں۔ بعض اوقات ایک باپ بچوں کو اپنی پہچان کا تسلسل سمجھ کر ان کی قدر کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ خدا بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے عطا کرتا ہے (ملاکی 2: 15)۔
◄جماعت کو چاہیے کے مل کر زبور 127: 3-5 کو دیکھے اور کوئی ایک شخص اونچی آواز میں اس کی تلاوت کرے۔
یہ حوالہ بیان کرتا ہے کہ بچے خدا کی طرف سے ایک برکت ہیں۔ وہ خدا کی طرف سے ایک میراث اور انعام ہیں۔ وہ خاندان کی مستقبل کی حفاظت اور بقا کا ذریعہ ہیں۔
کلامِ مقدس میں دو برکتیں اکثر ایک ساتھ بیان کی گئی ہیں، لمبی عمر اور پوتے پوتیوں کا ہونا۔ ایوب کو اس لیے برکت ملی کہ اس کے دس بچے تھے اور وہ چار نسلوں کو دیکھنے تک زندہ رہا (ایوب 42: 13، 16)۔ زبور 128: 6 میں بھی یہ برکت بیان کی گئی ہے کہ انسان کو اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھنے کی نعمت حاصل ہو۔
خدا نے یونادب کے خاندان کو یہ وعدہ دیا کہ اس کے خاندان میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا مرد ہوگا جو اگلی نسل کی رہنمائی کرے (یرمیاہ 35: 19)۔ خدا نے داؤد کے خاندان سے یہ وعدہ کیا کہ اس کی نسل میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی شخص تخت پر بیٹھے گا (2 سموئیل 7: 16)۔
پس ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کی برکتیں عموماً خاندان میں بچوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں، اور بچے وہ ذریعہ ہیں جس کے ذریعے خدا کی برکتیں آئندہ نسلوں تک پہنچتی ہیں۔
بعض صورتوں میں، بانجھ پن کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خدا نے کسی خاندان پر لعنت کی ہے۔ بائبل ہمیں ایسے واقعات کے بارے میں بتاتی ہے جہاں خدا نے خاندانوں کو بانجھ پن کی لعنت دی۔ مثال کے طور پر، جب بادشاہ ابی ملک نے غلطی کی، تو خدا نے اس کے خاندان کی تمام عورتوں کو بانجھ کر دیا یہاں تک کہ اس نے اپنی غلطی درست نہ کر لی (پیدائش 20: 18)۔ وہ عورتیں خود مجرم نہیں تھیں، لیکن انہیں بادشاہ کے گناہ کے نتائج بھگتنا پڑے۔
جب آدم اور حوا نے گناہ کیا، تو خدا نے فرمایا کہ ان کے گناہ کے نتیجے میں پوری دنیا متاثر ہوگی۔ اس لعنت میں انسانوں کے باہمی تعلقات میں مشکلات، زچگی میں درد اور تکلیف، محنت اور مشقت، زمین کا زراعت کے خلاف مزاحمت کرنا، اور آخر کار موت شامل تھے (پیدائش 3: 14-19)۔ آدم کے بعد پیدا ہونے والا ہر انسان پیدائش ہی سے اس لعنت کا شکار رہا ہے، حتیٰ کہ کوئی شخص اپنے طور پر کوئی گناہ کرنے سے پہلے ہی اس کے اثرات میں آ چکا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یسوع، جو مکمل طور پر بے گناہ تھے، انسانی جسم میں اس دنیا میں آئے اور اس لعنت کے اثرات کو برداشت کیا۔ لہٰذا ہمیں کسی فرد کے دُکھ کو اس کے اپنے گناہ کا نتیجہ نہیں کہنا چاہیے۔ ہم سب بوڑھے ہوتے ہیں، بیمار پڑتے ہیں، مختلف تکالیف برداشت کرتے ہیں، اور بالآخر مر جاتے ہیں۔ یہ تمام مشکلات، بشمول بانجھ پن کے مسائل، آدم کے پہلے گناہ کا نتیجہ ہیں۔
آدم کے اصل گناہ کے علاوہ، ہم اپنے آبا و اجداد کے گناہوں سے بھی متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے اعمال نے وہ معاشرہ تشکیل دیا جس میں ہم پیدا ہوئے۔ ہم اپنے خاندان، برادری اور قوم کے گناہوں کے اثرات سہتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ ایماندار ان حالات کو برداشت کرتے ہیں جو کسی ایسے معاشرے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جس پر ان کا اختیار نہیں ہے۔ ایک خاندان غربت کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں آزادی اور مواقع کم ہیں۔ ایک بچہ کسی جسمانی نقص کے ساتھ پیدا ہو سکتا ہے حالانکہ اس نے خود کوئی گناہ نہیں کیا (یوحنا 9: 1-3)۔
ہم نہیں جانتے کہ خدا کیوں بعض والدین کو اولاد دیتا ہے اور بعض کو بانجھ رہنے دیتا ہے۔ بعض اوقات وہ لوگ جو لاپرواہ اور نافرمان زندگی بسر کرتے ہیں، ان کے بہت سے بچے ہوتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں خدا کے جلال کے مطابق نہیں پالتے (زبور 17: 14)۔ بعض اوقات وفادار ایمانداروں کو اولاد نہیں ملتی۔ اس لیے ہمیں یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ کسی شخص کے مخصوص گناہ کی وجہ سے وہ بانجھ ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ خدا جب چاہے شفا اور برکت دے سکتا ہے، لیکن عام طور پر، ایماندار دنیا کے حالات کو جھیلتے ہیں۔ ہم ایمان میں اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب خدا اپنی مخلوق کو نیا کرے گا (رومیوں 8: 18-23)۔
یہ مناسب نہیں کہ کسی عورت کو بانجھ پن کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، جیسے کہ اس کے اپنے گناہ کی وجہ سے لعنت آئی ہو۔ اسی طرح، جب کوئی بچہ پیدا ہونے سے پہلے مر جاتا ہے، تو عام طور پر یہ ماں کی کسی غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ افراد مختلف طریقوں سے آدم کے گناہ، دوسروں کے گناہ، اور دنیا کی عمومی حالت کی وجہ سے دُکھ سہتے ہیں۔ چونکہ سب نے گناہ کیا ہے، اس لیے پوری انسانیت دنیا کی حالت کی مجرم ہے، لیکن ہر شخص مختلف طریقوں سے مخصوص مصیبتوں کو جھیلتا ہے۔
یسوع نے خدا کی محبت کو ظاہر کیا جب انہوں نے شفا بخشی اور دیگر معجزے کیے۔ بائبل میں درج تاریخ کے دوران، ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے اپنی قوم کے لیے کئی معجزے کیے۔
خدا چاہتا ہے کہ ہم ایک خوبصورت دنیا میں خوشی سے اور بغیر تکلیف کے زندگی گزاریں (پیدائش 1: 28, 31؛ 1 تیمتھیس 6: 17)۔ تاہم، خدا کی پہلی ترجیح ہمیں گناہ سے نجات دینا ہے تاکہ ہم ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ تعلق میں رہ سکیں۔ گناہ گاروں کی نجات وقت لیتی ہے کیونکہ لوگوں کو توبہ اور ایمان لانے کا فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے۔ اگر خدا ابھی تمام مصائب کا خاتمہ کر دے، تو بہت کم لوگ توبہ کریں گے کیونکہ وہ گناہ کی برائی کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ لہٰذا، جب تک انجیل پوری دنیا میں پھیل رہی ہے، عمومی طور پر مصیبتیں جاری رہیں گی۔ ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ معجزے ہماری تمام مشکلات کو حل کر دیں گے اور ہر تکلیف کو دور کر دیں گے، حالانکہ خدا کبھی کبھار ہمارے لیے معجزے کرتا ہے۔ آخرکار، تمام تکلیفیں ان لوگوں کے لیے ختم ہو جائیں گی جو خدا کے ساتھ تعلق میں آتے ہیں۔ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا، خدا ہمارے دکھوں میں ہمارے ساتھ روتا ہے (یوحنا 11: 35) اور ہمیں مختلف طریقوں سے تسلی دیتا ہے (2 کرنتھیوں 1: 3-7)۔
خدا کے معجزوں میں سے ایک معجزہ یہ ہے کہ وہ ایک بانجھ عورت کو بچوں کی ماں بناتا ہے (زبور 113:9)۔
بائبل میں کم از کم چھ مواقع کا ذکر ہے جب خدا نے ایک بانجھ عورت کو بیٹے کی نعمت دی۔ حالانکہ خدا نے یہ معجزہ کئی دیگر مواقع پر بھی کیا ہوگا، لیکن یہ چھ مواقع خاص طور پر درج کیے گئے کیونکہ یہ بچے تاریخ میں اہمیت رکھتے تھے ۔ سارہ کے ہاں اسحاق پیدا ہوا (پیدائش 21: 1-3)۔ربقہ کے ہاں یعقوب اور عیسو پیدا ہوئے (پیدائش 25: 21, 25-26)۔ راخل کے ہاں یوسف پیدا ہوا (پیدائش 30: 22-24)۔ منوحہ کی بیوی کے ہاں سمسون پیدا ہوا (قضاۃ 13: 2-3, 24)۔ حنہ کے ہاں سموئیل پیدا ہوا (1 سموئیل 1: 20)۔ الیشبع کے ہاں یوحنا پیدا ہوا (لوقا 1: 13, 57)۔
ان تمام چھ واقعات میں، جوڑے نے بانجھ پن کی وجہ سے غم اور دکھ کا سامنا کیا۔ بائبلی ریکارڈ میں، خدا نے کسی کو بھی اولاد نہ ہونے کا قصور وار نہیں ٹھہرایا۔ بائبل میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ خدا والدین میں سے کسی سے ناراض تھا۔ لوقا 1: 5-7 میں لکھا ہے کہ زکریا اور الیشبع خدا کے حضور راستباز تھے اور اس کے تمام احکام پر چلتے تھے، پھر بھی وہ بڑھاپے تک بے اولاد رہے۔ ان چھ واقعات میں سے کسی میں بھی یہ ریکارڈ نہیں کہ والدین نے گناہ کا اعتراف یا توبہ کی ہو، تب جا کر انہیں معجزہ ملا ہو۔ ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی فرد کو بانجھ پن کا الزام نہیں دینا چاہیے۔
یہ مناسب ہے کہ ہم دعا کریں کہ خدا ہمیں اولاد کی برکت دے، لیکن بالآخر ہمیں خدا کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ خدا ہر صورت میں اولاد دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جیسے وہ ہر بیماری کو شفا نہیں دیتا اور ہر تکلیف کو دور نہیں کرتا۔
پولُس رسول نے تین بار دعا کی کہ خدا اس کی زندگی سے ایک ایسی چیز کو ہٹا دے جو اس کے لیے کانٹے کی مانند تھی (2 کرنتھیوں 12: 7-10)۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ مسئلہ کیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ جسمانی نوعیت کا تھا۔ پولُس نے امید رکھی کہ خدا اس کو دور کرے گا، اس لیے اس نے معجزے کے لیے دعا کی۔ مگر خدا نے فرمایا کہ وہ اس مشکل کو دور کرنے کے بجائے ایسا فضل دے گا جو اس کی کمزوری پر غالب ہوگا۔ پولُس نے کہا کہ یہ مخصوص کمزوری خدا کے جلال کا باعث بنے گی کیونکہ اس سے خدا کی قدرت ظاہر ہوگی۔ پولُس نے مزید کہا کہ وہ اپنی کمزوریوں اور مصائب پر خوش ہوگا کیونکہ ان کے ذریعے خدا کا جلال ظاہر ہو سکتا ہے۔
پولُس رسول ایک عظیم ایمان والا شخص تھا، مگر اسے ہر وہ معجزہ نہیں ملا جس کی اس نے دعا کی۔ اس نے خدا کی مرضی کو قبول کیا۔ حالانکہ ہم ہمیشہ خدا سے برکت کے معجزے کو ترجیح دیتے ہیں، ہمیں خدا کے فیصلوں کو قبول کرنا چاہیے۔ بعض اوقات، خدا ہماری کمزوریوں کے ذریعے زیادہ جلال پاتا ہے۔
◄ایک مثال دیں جب خدا نے آپ کی زندگی میں اپنی محبت اور دیکھ بھال ظاہر کی، بغیر اس معجزے کے جو آپ نے امید کی تھی۔
تمام ثقافتیں بچوں کی قدر کرنے میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کچھ ممالک میں خاندان زیادہ سے زیادہ بچے چاہتے ہیں۔ بچے خاندان کے کاموں میں مدد کر سکتے ہیں اور بڑوں کا سہارا بن سکتے ہیں۔ بڑے مشترکہ خاندانی نظام میں، چچا، کزن اور دیگر رشتہ دار ایک دوسرے کی مدد اور حفاظت کرتے ہیں۔ ہر بیوی چاہتی ہے کہ وہ اپنے خاندان میں مزید بچوں کا اضافہ کرے۔ ایک ایسا مرد جس کے زیادہ بیٹے ہوں، خاندان میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ خاندان کے بزرگوں کی دیکھ بھال کرنا بھی خاندان کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔
دیگر ممالک میں زیادہ تر خاندان شہروں میں رہتے ہیں اور ماں باپ کی ملازمت کے ذریعے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ شہری ماحول میں بچے خاندان کے روزگار میں مدد نہیں کر سکتے۔ بچوں کو پالنے اور تعلیم دینے میں زیادہ خرچ آتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، جب خاندان کئی نسلوں تک شہری زندگی گزارتے ہیں، تو وہ کم بچے چاہتے ہیں۔
بہت سی ثقافتوں میں بچوں کی اہمیت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے بچوں کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، تاکہ انہیں عزت اور مقام حاصل ہو۔ ایک بانجھ عورت خود کو اپنی سب سے اہم ذمہ داری میں ناکام سمجھتی ہے۔ ایک ایسی عورت جو کبھی شادی نہ کرے، خود کو شرمندہ محسوس کرتی ہے کیونکہ اس کے بچے نہیں ہوتے اور اسے کسی نے اپنا شریک حیات نہیں بنایا۔
بہت سی ثقافتوں میں، خاندان بیٹوں کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ وہ اگلی نسل میں خاندان کی قیادت کریں اور اسے مضبوط بنائیں۔ بیٹیوں کو کم اہم سمجھا جاتا ہے۔ بچیوں کو اسقاط حمل کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا انہیں ترک کر دیا جاتا ہے۔ کچھ ممالک میں، بہت سے خاندانوں کے پیدا ہونے والی بیٹیوں کو مار دینے کی وجہ سے، یہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش سے قبل اس کی جنس معلوم کی جائے۔ ہم کلامِ مقدس سے جانتے ہیں کہ لڑکیوں کی بھی وہی عزت اور قدر ہے جو لڑکوں کی، کیونکہ وہ سب خدا کی صورت پر بنائے گئے ہیں (پیدائش 1: 27)۔ لہٰذا، جو خاندان مسیح کی پیروی کر رہے ہیں، انہیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر اہمیت دینی چاہیے، چاہے ان کے معاشرے میں جو بھی روایات ہوں۔
اگر کسی خاندان کو صرف اپنے فخر یا وقار کے لیے بچوں کی ضرورت ہو، تو وہ معذور بچوں کو قبول کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ کچھ ممالک میں بہت سے معذور بچے یتیم خانوں میں چھوڑ دیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے والدین انہیں نہیں اپناتے۔ یہ رویہ بالکل غلط ہے، کیونکہ ہر انسان خدا کی صورت پر بنایا گیا ہے اور وہ خدا کی نظر میں قیمتی ہے، چاہے اس میں جسمانی یا ذہنی کمزوریاں ہوں۔
بعض ثقافتوں میں تعددِ ازدواج (polygamy) کی بنیاد بھی بچوں کی خواہش پر ہوتی ہے۔ ایک مرد زیادہ بیویوں کے ذریعے زیادہ بچوں کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ خدا کی مرضی یہی ہے کہ ایک مرد کی صرف ایک بیوی ہو (پیدائش 2: 22-24، 1 تیمتھیس 3: 2)۔
پرانے عہد نامے میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جب ایک بیوی اپنے شوہر کو اپنے خادمہ سے اولاد پیدا کرنے کی اجازت دیتی، تاکہ اس کے ذریعے اسے عزت حاصل ہو۔ یعقوب کی بیویاں راخل اور لیاہ نے یہی کیا۔
اولاد کے حصول کے لیے خادماؤں کا استعمال پیچیدہ تعلقات کا سبب بنا۔ سارہ نے اپنے شوہر ابرہام کو اپنی خادمہ ہاجرہ دے دی، اس امید میں کہ اگر ہاجرہ کا بچہ ہو جائے تو سارہ کی اپنی حیثیت بہتر ہو جائے گی (پیدائش 16: 2-6)۔ جب ہاجرہ حاملہ ہو گئی، تو اس نے خود کو سارہ سے برتر محسوس کیا۔ سارہ نے اپنی خادمہ کو سخت سزا دی تاکہ وہ اپنی حیثیت قائم رکھ سکے۔
لیلا مغربی افریقہ کے ایک ملک میں پیدا ہوئی۔ شادی کے تین سال بعد بھی اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ لیلا کی ثقافت میں کسی یتیم کو گود لینا بانجھ پن کی شرمندگی کو کم نہیں کرتا تھا۔ اس لیے، لیلا نے ایک غریب گاؤں کی عورت کو تلاش کیا جو حاملہ تھی اور اس کے بچے کو خریدنے کا بندوبست کر لیا۔ لیلا نے کئی مہینوں تک اپنے پیٹ کے نیچے کچھ باندھ رکھا تاکہ وہ حاملہ نظر آئے۔ جب بچے کی پیدائش کا وقت آیا، تو اس نے دکھاوے کے لیے اسپتال جانے کا بہانہ کیا اور پھر گاؤں سے خریدے گئے بچے کو لے کر گھر واپس آ گئی۔
اگر کوئی خاندان بنیادی طور پر اپنی ضروریات کے لیے اولاد چاہتا ہے، تو وہ بچے کو خدا کی شبیہ میں بنائے گئے ایک انسان کے طور پر اہمیت دینے میں ناکام ہو سکتا ہے۔ وہ کسی معذور بچے سے محبت کرنے اور اسے قبول کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ وہ بیٹے کی خواہش میں بیٹی کو رد کر سکتے ہیں۔ وہ ایک بانجھ عورت کو شرمندہ اور بے وقعت محسوس کرواتے ہیں۔ وہ یتیموں یا بے گھر بچوں کو گود لینے کی اہمیت نہیں سمجھتے۔ یہ تمام رویے اور اعمال خود غرضی پر مبنی اور غلط ہیں۔ جب ہم کسی فرد کے ساتھ ان وجوہات کی بنا پر برا سلوک کرتے ہیں تو ہم اپنے خالق کی توہین کرتے ہیں (خروج 4: 11، امثال 14: 31)۔
ہنری ہشتم 1509 سے 1547 تک انگلینڈ کا بادشاہ رہا۔ وہ شدت سے بیٹا چاہتا تھا۔ چونکہ اس کی بیوی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی لیکن کوئی بیٹا زندہ نہ رہا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور دوسری شادی کر لی۔ جب اس کی دوسری بیوی بھی بیٹا پیدا نہ کر سکی، تو اس نے اس پر بغاوت کا الزام لگا کر اسے سزائے موت دلوا دی۔
میڈیکل سائنس ثابت کر چکی ہے کہ بچے کی جنس کا تعین مرد کے نطفے سے ہوتا ہے۔ عورت کے جسم کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ بیٹے کو جنم دے گی یا بیٹی کو۔ تاہم، بہت سے مرد اپنی بیویوں پر صرف بیٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے غصہ کرتے ہیں۔
یوسف نامی ایک شخص اور اس کی بیوی کی دو بیٹیاں تھیں۔ جب یوسف کی بیوی تیسرے بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال گئی، تو یوسف کو امید تھی کہ اس بار بیٹا ہوگا۔ لیکن تیسری اولاد بھی بیٹی ہوئی۔ یوسف اتنا ناراض ہوا کہ اس نے نہ اسپتال جا کر اپنی بیوی کو دیکھا اور نہ ہی اسپتال کا بل ادا کیا۔
ایوب 24 میں، ایوب نے ایک بدکار شخص کے اعمال کی تفصیل بیان کی۔ ان میں سے ایک عمل یہ تھا کہ وہ ایک بے اولاد عورت کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے (ایوب 24: 21)۔ خدا اس بات سے راضی نہیں ہوتا کہ ایک بانجھ عورت کے ساتھ ظلم کیا جائے۔
◄ آپ کی ثقافت میں بچوں کی کیا قدر ہے؟ لوگ بچوں کی خواہش کیوں کرتے ہیں؟
◄ آپ کی ثقافت میں رسم و رواج کی وجہ سے کون سی ناانصافیاں ہوتی ہیں؟
کتابِ مقدس میں چھ مواقع پر جب خدا نے ایک بے اولاد عورت کو بیٹا دیا، تو والدین کو بے اولاد ہونے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ بلکہ، ان جوڑوں کو خاص طور پر منتخب کیا گیا تھا تاکہ وہ خاص بیٹوں کے والدین بنیں۔ زکریا اور الیشبع کو راستباز کہا گیا ہے (لوقا 1: 5-6)۔ ہمیں کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کوئی عورت اس لیے بے اولاد ہے کیونکہ اس نے خدا کو راضی نہیں کیا۔
ایوب 24: 21 میں کہا گیا ہے کہ بے اولاد عورت کے ساتھ برا سلوک کرنا ایک بدکار شخص کا عمل ہے۔ خدا نہ تو بے اولاد عورت کی مذمت کرتا ہے اور نہ ہی اسے ستاتا ہے، اور ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
یسعیاہ 56: 4-5 میں خدا اس مرد سے خطاب کرتا ہے جو اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ اگر یہ شخص خدا کی فرمانبرداری کرے اور اس کے عہد میں رہے، تو اس کا مرتبہ اور شہرت اس سے بہتر ہوگی جو اسے بیٹے اور بیٹیاں پیدا کرنے سے ملتی۔
پولس رسول نے تیمتھیس (1 تیمتھیس 1: 2)، ططس (ططس 1: 4)، اور اُنیسِمس (فلیمون 10) کو اپنا بیٹا کہا۔ اس نے کرنتھس کے ایمانداروں کو بھی اپنی روحانی اولاد کہا (1 کرنتھیوں 4: 15)۔ وہ ان کا حیاتیاتی باپ نہیں تھا، بلکہ ان کا روحانی باپ تھا۔ اور یہ رشتہ زیادہ اہم تھا۔
متی 12: 46-50 میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب یسوع کی ماں اور بھائی اس سے ملنے آئے، تو یسوع نے اپنے سننے والوں سے پوچھا: " کَون ہے میری ماں اور کَون ہیں میرے بھائی؟" پھر اس نے کہا کہ جو خدا کی مرضی پر چلتے ہیں، وہی میرے بھائی، بہن، اور ماں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یسوع کو اپنی زمینی ماں سے محبت تھی؛ یہاں تک کہ صلیب پر ہوتے ہوئے بھی اس نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا بندوبست کیا (یوحنا 19: 26-27)۔ لیکن یسوع یہ سکھا رہے تھے کہ روحانی خاندان، حیاتیاتی خاندان سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ایمان کے خاندان کا تعلق حیاتیاتی خاندان کی جگہ نہیں لیتا، لیکن ایک شخص کی اصل شناخت ایمان کے خاندان میں ہوتی ہے۔ کلیسیا میں "بھائی" اور "بہن" جیسے الفاظ کا استعمال ایمان کے خاندان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے (کلسیوں 1: 2)۔
دبورہ اسرائیل کی ایک نبیہ اور قاضی تھی (قضاۃ 4:4)۔ اس نے اسرائیل کو ایک ظالم قوم سے آزادی دلانے کے لیے جنگ کی قیادت کی۔ قضاۃ 5: 7 میں دبورہ نے خود کو "اسرائیل کی ماں" کہا۔ کتابِ مقدس میں اس کے حیاتیاتی بچوں کا ذکر نہیں، لیکن وہ اسرائیل کی ماں تھی کیونکہ وہ قیادت کے ذریعے اپنی قوم کی پرورش کر رہی تھی۔
پطرس رسول نے کہا کہ جو عورتیں سارہ کے نمونے پر چلتی ہیں، وہ اس کی بیٹیاں کہلاتی ہیں (1 پطرس 3: 6)۔ یہ ایک بڑی عزت کی بات ہے! یہ عزت اس کے ایمان اور فرمانبرداری کی وجہ سے تھی، نہ کہ اس لیے کہ وہ اضحاق کی ماں تھی۔
جو لوگ ایمان کے ذریعے خدا کے فضل سے بچائے گئے ہیں، وہ سب ابرہام کی اولاد کہلاتے ہیں (گلتیوں 3: 7)۔ ابرہام کو لاکھوں ایمانداروں کا باپ کہا گیا ہے۔ ابرہام اور سارہ کی مثال سے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا روحانی باپ اور ماں ہونے کو بڑی عزت دیتا ہے۔
پولوس رسول نے غیر شادی شدہ رہنے کے فوائد بیان کیے۔ غیر شادی شدہ شخص بغیر کسی اور ذمہ داری کے خدا کو خوش کرنے پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے (1 کرنتھیوں 7: 32-35)۔ پولوس نے کہا کہ اگر کوئی پاک زندگی گزار سکتا ہے تو اس کے لیے غیر شادی شدہ رہنا بہتر ہے۔ اس سے ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے مجرد رہنا خدا کی مرضی ہے۔
جس طرح مجرد رہنے کے اپنے فوائد ہیں، اسی طرح بے اولاد ہونے کے بھی کچھ فائدے ہیں۔ جس طرح خدا مجرد لوگوں کے لیے خاص مواقع فراہم کرتا ہے، وہ شادی شدہ مگر بے اولاد افراد کے لیے بھی خاص مواقع رکھتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بے اولاد ہونے کا انتخاب نہیں کیا، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو خدا کی خدمت کے لیے بہترین طریقے سے گزاریں۔
چاہے ہم مجرد ہوں، بے اولاد ہوں، یا کسی اور حالت میں ہوں، ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ خدا ہمارے ذریعے کام کرے گا تاکہ روحانی برکات ہمیں اور دوسروں کو حاصل ہوں (رومیوں 8: 28)۔
بہت سے بچے ایسے ہیں جنہیں محبت کرنے والے والدین کی ضرورت ہے۔ اگر خاندانِ ایمان کے کچھ افراد یا جوڑے ان کی محبت اور دیکھ بھال کے لیے آگے نہ بڑھیں، تو شاید کوئی بھی ان کی ضروریات پوری نہ کرے۔
ہمیں اپنے بدن کو خدا کے لیے قربانی کے طور پر پیش کرنا چاہیے، تاکہ ہم خدا کے لیے زندہ رہیں (رومیوں 12: 1)۔
1. بچے خدا کی نعمت ہیں، اور یہ بالکل درست ہے کہ ایک جوڑا خدا سے دعا کرے کہ وہ انہیں اولاد عطا کرے۔
2. یہ سوچنا غلط ہے کہ خدا ہمیشہ معجزانہ طور پر اولاد دے گا۔ وہ ہمیشہ ہر ضرورت کے لیے معجزہ نہیں کرتا، اور اسی طرح وہ ہر کسی کو اولاد دینا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔
3. بے اولادی کے لیے کسی عورت یا جوڑے کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے۔ انسانی حالت آدم کے گناہ، ہمارے آبا و اجداد کے گناہوں، اور معاشرتی گناہوں سے متاثر ہوئی ہے۔
4. ہمیں بیٹوں اور بیٹیوں سے یکساں محبت اور قدر کرنی چاہیے، کیونکہ وہ دونوں خدا کی صورت پر بنائے گئے ہیں۔
5. کوئی شخص بغیر جسمانی اولاد کے بھی روحانی باپ یا ماں بن سکتا ہے اور کئی نسلوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
6. خدا غیر شادی شدہ اور بے اولاد لوگوں کو خدمت کے خاص مواقع عطا کرتا ہے۔
7. ہمیں اپنی زندگی خدا کے لیے وقف کرنی چاہیے اور ہر حالت میں اسے جلال دینا چاہیے جو وہ ہمارے لیے منتخب کرتا ہے۔
بدقسمتی سے، کئی جگہوں پر کلیسیائیں بے اولادی کے معاملے میں خدا کے کلام کے بجائے اپنی ثقافتی روایات کی پیروی کرتی ہیں۔
پاسبان کو چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کو بے اولادی کے بارے میں بائبلی نقطہ نظر سے آگاہ کرے، جیسا کہ پچھلے حصے میں خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
اگر پاسبان کسی بے اولاد جوڑے کے لیے معجزے کی دعا کر رہا ہے، تو اسے ایمان کی ذمہ داری شوہر یا بیوی پر نہیں ڈالنی چاہیے۔ جب یسوع نے کسی بچے کو شفا دی یا مردے کو زندہ کیا، تو خود بیمار یا مردہ شخص نے اپنے معجزے کے لیے ایمان ظاہر نہیں کیا تھا۔ اگر پاسبان کو یقین ہے کہ خدا معجزہ کرے گا، تو خود پاسبان کو ایمان رکھنا چاہیے اور میاں بیوی کو کمزور ایمان کا الزام نہیں دینا چاہیے۔
رومیوں 12: 15 میں لکھا ہے کہ "رونے والوں کے ساتھ روؤ۔" پاسبان کو اپنی جماعت کے لوگوں کے دُکھ سے آگاہ ہونا چاہیے اور بے اولادی یا بچے کی موت کے غم میں مبتلا افراد کو حوصلہ دینا اور تسلی دینا چاہیے۔ والدین اپنے بچے کے پیدا ئش سے قبل بھی اس کے نقصان پر غمزدہ ہوتے ہیں۔ شوہر اور بیوی دونوں دُکھی ہوتے ہیں، چاہے وہ مختلف طریقوں سے اپنے غم کا اظہار کریں۔ پاسبان کو چاہیے کہ وہ اُن کے پاس خود جائے اور مدد کرے، نہ کہ ان کے آنے کا انتظار کرے۔ ایک پاسبان کو اپنی کلیسیا کی اس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔
پاسبان کو چاہیے کہ وہ کلیسیا کی رہنمائی کرے تاکہ وہ بے اولاد بزرگ افراد کے ساتھ محبت بھرے تعلقات قائم کریں اور ان کی دیکھ بھال کریں۔ ایمان کے خاندان کے اراکین کو چاہیے کہ وہ انہیں والدین یا دادا دادی کی طرح عزت دیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، اور عملی ضروریات میں ان کی مدد کریں۔
پاسبان کو غیر شادی شدہ اور بے اولاد افراد کو کلیسیا اور معاشرے میں خدمت کے مواقع تلاش کرنے میں مدد دینی چاہیے تاکہ وہ برکت کا ذریعہ بن سکیں۔ اسے ہر فرد کی اہمیت پر زور دینا چاہیے تاکہ ہر شخص خود کو خدا کے خاندان میں قابلِ قدر سمجھے۔
◄آپ کے ثقافتی پس منظر میں لوگ بچوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ بے اولادی کو کس طرح سمجھا جاتا ہے؟
◄آپ کے ثقافتی پس منظر میں ایمان دار لوگ بچوں کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اور بے اولادی کو کس طرح سمجھتے ہیں؟
◄اس سبق میں بیان کردہ کتابِ مقدس کے اصولوں کو پڑھنے کے بعد آپ کی بے اولادی کے بارے میں سمجھ کیسے بدلی یا چیلنج ہوئی؟
◄کیا آپ کی کلیسیا میں ایسے جوڑے ہیں جو بانجھ پن کی جدوجہد سے گزر رہے ہوں؟ اگر ہاں، تو آپ کی کلیسیا کس طرح ان کی مدد اور ان کے لیے محفوظ جگہ فراہم کر سکتی ہے تاکہ وہ اپنی مشکلات کا اظہار کر سکیں؟
اے آسمانی باپ،
ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں مسیحی خاندانوں کے لیے۔ تیرا شکر ہو شوہروں اور بیویوں کے لیے جو تیرے لیے زندگی گزار رہے ہیں اور تیری بادشاہت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
ہم ان جوڑوں کے لیے دعا کرتے ہیں جو بے اولادی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ تُو ان کے دلوں کو تسلی اور ہمت دے۔ ان کی مدد کر کہ وہ جان سکیں کہ تیری محبت ان کے لیے ہمیشہ قائم ہے، چاہے وہ بچے پیدا کرنے کے قابل ہوں یا نہ ہوں۔
اگر تیری مرضی ہو کہ انہیں حیاتیاتی طور پر بچے عطا ہوں، تو ہم تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں کہ تُو اپنے وقت پر یہ ممکن کرے گا۔ چاہے تُو انہیں اپنے بچے دے یا نہ دے، ان کی مدد کر کہ وہ دوسروں کے لیے روحانی باپ اور ماں بن سکیں۔
تمام ایمان داروں کی مدد کر کہ وہ ہر شخص کی قدر کریں، کیونکہ وہ تیری صورت پر بنائے گئے ہیں۔
آمین۔
(1) دو صفحات پر مشتمل ایک تحریر لکھیں جس میں آپ:
اپنے معاشرے کے بچوں اور بانجھ پن کے بارے میں نظریات بیان کریں۔
بچوں کے بارے میں کلامِ مقدس کی تعلیم کی وضاحت کریں۔
بانجھ پن کے بارے میں کلامِ مقدس کی تعلیم کی وضاحت کریں۔
بائبل کے اصولوں کی روشنی میں یہ بیان کریں کہ شادی شدہ جوڑے کو بانجھ پن کا ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
(2) بانجھ پن کا سامنا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
1انتخاب :تحریری طور پر بیان کریں کہ آپ کسی ایسے فرد کے لیے اپنی ہمدردی اور دیکھ بھال کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں جو بانجھ پن کے غم کا سامنا کر رہا ہو۔ خاص طور پر کچھ ایسے الفاظ یا اعمال کا ذکر کریں جو آپ کے مسیحی بھائی یا بہن کے لیے باعثِ برکت ہوں۔
2 انتخاب :کسی ایسے فرد کے لیے مختصر حوصلہ افزا نوٹ لکھیں جو بانجھ پن کے غم سے گزر رہا ہو۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ ان کی فکر کرتے ہیں اور ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ آپ ان کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ جب آپ انہیں یہ نوٹ دیں، تو ان کی بات سننے کے لیے دستیاب رہیں یا کسی اور مناسب طریقے سے اپنی دیکھ بھال کا اظہار کریں۔
15 lessons · اردو
Your print request has been recorded. Your download should begin shortly.
Download Print-Ready FileFree to print for ministry use. No changes to content, no profit sales.
SGC exists to equip rising Christian leaders around the world by providing free, high-quality theological resources. We gladly grant permission for you to print and distribute our courses under these simple guidelines:
All materials remain the copyrighted property of Shepherds Global Classroom.
Questions? info@shepherdsglobal.org
Total
$21.99Added to Cart!
By submitting your contact info, you agree to receive occasional email updates about this ministry.
Download audio files for offline listening
No audio files are available for this course yet.
Check back soon or visit our audio courses page.
Share this free course with others