کلاس کا انداز ترتیب دینا
تربیتی پروگرام کا آغاز، جوش اور توقعات سے ہوتا ہے۔ شروعات میں طلباء یہ واضع طور پر نہیں سمجھ پاتے کہ اُنہیں کورس سے کیا اُمیدیں رکھنی چاہیے، لیکن وہ گروپ سے مدد حاصل کرنے کی امید ضرور رکھتے ہیں۔
کلاس کی پہلی میٹنگ بعد کی میٹنگز سے مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ کلاس کے بارے میں تعارف اور وضاحت ضروری ہے۔ تاہم، پہلی ملاقات آئندہ ملاقاتوں کا انداز طے کرے گی۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی پہلی ملاقات میں بات نہیں کرتا ہے، تو وہ شخص مستقبل میں خاموش رہنے کی توقع کرے گا۔اگر کوئی پہلے بحث و مباحثہ میں غالب رہتا ہے، تو گروپ توقع کرے گا کہ مستقبل میں ہونے والے مباحثوں میں بھی اُسی شخص کا غلبہ ہوگا۔ اگر ملاقات بے ترتیبی کے ماحول میں ہوئی تو وہ مستقبل میں بھی ایسی ہی توقع کریں گے۔ اگر کلاس میں طلبہ کی شرکت کم ہے تو وہ اِسی طرز کی توقع کریں گے۔
کچھ طلباء کچھ میٹنگوں کے بعد چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ کلاس سے اُنہیں وہ حاصل نہیں ہو رہا جسکی اُنہیں توقع تھی۔ کلاس کو ہر کسی کو خوش کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُسے ایسے طلباء کو مطمئن کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے جو سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ کلاس کی صحیح طریقے سے قیادت کی جائے تاکہ وہ طلباء جو صحیح چیزوں کی توقع کر رہے تھے مایوس نہ ہوں۔
