امثال کی کتاب سے اصول
1. خدا کی حکمت کو سیکھنا میری زندگی کا سب سے اہم کام ہے (امثال 2: 4-5، 4: 5)۔
2. مجھے ہر سنی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے (امثال 14: 15)۔
3. مجھے ہر فیصلے میں خدا کی مرضی کو ماننا چاہیے تاکہ وہ میری راہنمائی کرے (امثال 3: 5-6)۔
4. مجھے اپنے ماں باپ کی نصیحت اور حکمت کو سننا چاہیے (امثال 1: 8)۔
5. اچھی نصیحت میری زندگی میں برکت لاتی ہے اور مجھے دوسروں کی مدد کرنے کے قابل بناتی ہے (امثال 10: 17)۔
6. اگر میں اچھی تعلیم کو نظرانداز کروں تو تباہی میرا مقدر ہوگی (امثال 13: 18)۔
7. اچھی تعلیم مجھے ترقی دینے اور بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے (امثال 9:9)۔
8. خدا نہیں چاہتا کہ میں ظالم یا دغاباز بنوں (امثال 3: 31-32)۔
9. میرے دل میں نیتیں درست ہونی چاہییں (امثال 4: 23، 12: 5)۔
10. خدا جانتا ہے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں، وہ کیوں کرتا ہوں (امثال 16: 2)۔
11. اگر میں علم اور اصلاح کو نظرانداز کروں تو میں بیوقوف ہوں (امثال 1: 22، 12: 1)۔
12. خدا کی مرضی پر چلنا مجھے بہت سی آفات سے محفوظ رکھتا ہے (امثال 1: 33)۔
13. میں خدا پر بھروسا کر کے خوف سے آزاد ہو سکتا ہوں (امثال 3: 25-26)۔
14. مجھے اپنی سمجھ اور صلاحیت پر نہیں بلکہ خدا پر بھروسا کرنا چاہیے (امثال 3: 7، 11: 2، 12: 15)۔
15. میں اپنے گناہ کو ہمیشہ کے لیے چھپا نہیں سکتا (امثال 10: 9)۔
16. خدا کے احکام مجھے تحفظ اور مدد فراہم کرتے ہیں (امثال 6: 23-24)۔
17. اگر میں اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو رکھ سکوں تو میں مضبوط ہوں (امثال 16: 32، 25: 28)۔
18. اگر میں لاپرواہی سے بولوں تو اپنے آپ کو اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہوں (امثال 10: 8، 10: 21)۔
19. مجھے ان لوگوں سے دور رہنا چاہیے جو مجھے برائی کی طرف مائل کرتے ہیں (امثال 1: 10-15، 4: 14-15، 14: 7، 16)۔
20. مجھے ایسے دوست چننے چاہییں جن میں وہ کردار ہوں جو میں چاہتا ہوں (امثال 13: 20۔
21. خدا میری ہر حرکت کو دیکھتا ہے (امثال 5: 21، 15: 3)۔
22. میرے دوست مجھے تب ہی قیمتی جانیں گے جب میں وفادار اور قابلِ بھروسا ہوں (امثال 19: 22)۔
23. جن لوگوں سے میں محبت کرتا ہوں اُن کے ساتھ زندگی گزارنا عیش و آرام سے بہتر ہے (امثال 15: 17)۔
24. مجھے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے (امثال 21: 5، 19: 2)۔
25. اگر میں دانا ہوں تو علم سے محبت کروں گا اور محتاط رہوں گا (امثال 8: 12)۔
26. مجھے شراب نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ برے رویے کا باعث بنتی ہے (امثال 20: 1)۔
27. مجھے بدلہ لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ خدا پر بھروسا کرنا چاہیے کہ وہ انصاف کرے گا (امثال 20: 22)۔
28. مجھے لڑائی جھگڑے کی بجائے صلح کی کوشش کرنی چاہیے (امثال 3: 30، 20: 3، 10: 12)۔
29. مجھے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تاکہ کسی کو مصیبت میں ڈالوں (امثال 30: 10)۔
30. اگر میں قابلِ بھروسا ہوں تو میں دوسروں کے راز چھپا کر رکھوں گا (امثال 11: 13، 20: 19)۔
31. اگر میرا کردار اچھا ہے تو میں سچ بولوں گا (امثال 13: 5، 14: 5)۔
32. مجھے بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا چاہیے (امثال 15: 28)۔
33. مجھے تنقید یا جھگڑا کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے (امثال 11: 12، 17: 27)۔
34. اگر میں جلد غصے میں آ جاؤں تو میں بیوقوف ہوں (امثال 12: 16، 14: 29)۔
35. مجھے اپنے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کے لیے باعثِ برکت ہوں (امثال 12: 18، 12: 25، 16: 24، 18: 21)۔
36. مجھے ہمیشہ سچ بولنا چاہیے (امثال 4: 24، 12: 17)۔
37. مجھے رائے دینے سے پہلے تمام حقائق کو سننا چاہیے (امثال 18: 13)۔
38. اگر میں زیادہ بولوں تو گناہ کر بیٹھتا ہوں (امثال 10: 19)۔
39. مجھے بزرگوں کا خاص احترام کرنا چاہیے (امثال 16: 31، 20: 29)۔
40. مہربانی اور سچائی خدا کی برکت اور لوگوں کی عزت لاتی ہیں (امثال 3:3-4)۔
41. جب میں غلطی کرتا ہوں تو خدا مجھے اس لیے تنبیہ کرتا ہے کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے (امثال 3: 12)۔
42. ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرنا چاہیے (امثال 22: 3)۔
43. اگر میں گناہ کروں تو مجھے اس کا دردناک انجام بھگتنا پڑے گا (امثال 6: 27)۔
44. اگر میں سست ہوں تو مجھے فقر و محتاجی کا سامنا ہوگا (امثال 6: 10-11، 19: 15)۔
45. مجھے سست نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سستی کرنا تباہی مچانے کے برابر ہے (امثال 18: 9)۔
46. مجھے محنت کرنی چاہیے اور مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مستقبل بہتر ہو (امثال 6:6-8، 20: 13)۔
47. مجھے جانوروں پر ظلم نہیں کرنا چاہیے (امثال 12: 10)۔
48. میرے اعمال میری شہرت بناتے ہیں (امثال 20: 11)۔
49. مجھے مشکلات میں صبر و استقلال سے کام لینا چاہیے (امثال 24: 10)۔
50. مجھے صحیح وقت پر کام کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ اچھے نتائج حاصل ہوں (امثال 10: 5، 20: 4)۔
51. سستی زندگی میں بہت سے مسائل لاتی ہے، لیکن محنت سے مواقع پیدا ہوتے ہیں (امثال 15: 19، 14: 23)۔
52. مجھے بےایمانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے (امثال 10: 2، 11: 18، 15: 27)۔
53. میں محنت اور بچت کے ذریعے دولت حاصل کر سکتا ہوں (امثال 10: 4، 12: 11، 13: 11، 21: 20، 28: 19)۔
54. اگر میں راستباز ہوں تو خدا میری ضروریات پوری کرے گا (امثال 10: 3)۔
55. اگر میں خدا کو دوں تو وہ میری دولت اور جائیداد میں برکت دے گا (امثال3: 9-10)۔
56. مجھے دوسروں کا حق جلدی ادا کرنا چاہیے (امثال 3: 27)۔
57. مجھے ضرورتمندوں کے لیے فیاض ہونا چاہیے (امثال 11: 24-25، 14: 21، 19: 17، 21: 13)۔
58. میری دولت مجھے تحفظ نہیں دے سکتی، بلکہ میری راستبازی ہی میرا تحفظ ہے (امثال 2: 7-8، 10: 9، 10: 25، 11: 28)۔
59. مجھے دوسروں کے قرض کی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے (امثال 6: 1-3، 17: 18)۔